رحیم یارخان میں ٹڈی دل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

رحیم یار خان :لودھراں، اوچ شریف و دیگر اضلاع سے ضلع رحیم یار خان کی تحصیلوں لیاقت پور اور خانپور کے چولستان میں داخل ہونے والے ٹڈی دل ( locust )کے جھنڈوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا انسداد ی آپریشن جاری۔

گذشتہ شب نزدیکی اضلاع لودھراں سے براستہ اوچ شریف ٹڈی دل ( locust ) کی بڑی تعداد ضلع رحیم یار خان کی دو تحصیلوں لیاقت پوراور خانپور کے چولستانی علاقوں میں داخل ہوئی اور پہلے سے متحرک فیلڈسرویلنس ٹیموں نے بروقت ٹڈی دل( locust ) کی نقل و حمل کو رپورٹ کرتے ہوئے اپریشنل ٹیموں کے ہمراہ انسداد اپریشن شروع کر دیا۔

ٹڈی دل ( locust )کے خلاف جاری اپریشن میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت پاک فوج، رینجرز، پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ، چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ زراعت توسیع، لائیو سٹاک، ریونیو اور دیگر محکمے شامل ہیں۔

ٹڈی دل نے تحصیل لیاقت پور میں 240/1L,241/1L,225/1L,2242/1L,227/1lسے ملحقہ چولستان اور تحصیل خانپور میں قلعہ خیر گڑھ کے علاقہ میں پہنچی۔ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر میں مقامی سطح پر ٹڈی دل کی کوئی افزائش نہیں تاہم ہمارے ضلع کی جغرافیائی لوکیشن کے باعث چاروں اطراف سے ٹڈی دل کے حملہ سے متاثر ہونے کا خدشہ تھا جس کے باعث ضلعی انتظامیہ نے اپنی سرویلنس اور اپریشن ٹیموں کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دیکر سرویلنس کا عمل جاری رکھا ہواتھا تاکہ کسی بھی اطلاع پر سرویلنس ٹیم کو اپریشنل ٹیم کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز لودھراں سے براستہ اوچ شریف ٹڈی دل(لوکسٹ) کے بڑی تعداد میں گروپس کی آمد ہوئی ہے تاہم انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے80فیصد ٹڈی دل کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹڈی دل( locust ) کے خلاف جاری انسدادی اپریشن میں تحصیل لیاقت پور میں 10اور خانپور میں 8اپریشنل ٹیمیوں نے حصہ لیا جس میں پاکستان آرمی، رینجرز، چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، محکمہ زراعت توسیع، لائیو سٹاک ودیگر محکمہ شامل ہیں جبکہ متعلقہ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اپنی تحصیلوں میں انسدادی کارروائیوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ٹڈی دل ( locust )کے خاتمے کے لئے پاک فوج کے تعاون سے ہیلی کاپٹر کی مدد سے فضائی سپرے بھی کیا گیا جبکہ زمینی سطح پرماؤنٹیڈ پاور سپرئیرز، ٹریکٹر ماؤنٹیڈ جیکٹو سپرئیر کی مدد سے ٹڈی دل ( locust )کو تلف کیا جا رہا ہے اور اب تک ڈھائی سے کلو میٹر فضائی سپرے اور 80کلومیٹر زمینی سپرے کرکے 80فیصد تک ٹڈی دل کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔انہوں نے ٹڈی دل ( locust )کے خلاف جاری اپریشن میں مقامی آبادی کی جانب سے مثالی تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ٹڈی دل کے جھنڈز نے مقامی فصلوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ یہ جھنڈ چولستانی پودوں پر قیام پذیر ہوئے۔

رحیم یارخان میں سیلابی صورتحال پر

ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے متوقع سیلابی صورتحال کے پیش نظر محکمانہ صلاحیتوں و انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کو کامیابی سے کنٹرول میں کرنے کے لئے متعلقہ محکموں کے درمیان مستحکم اور بروقت روابط اہم کردار ادا کرتے ہیں لہذا تمام متعلقہ ادارے اپنے درمیان روابط کو مستحکم اور معلومات شیئر کرنے کے لئے موثر حکمت عملی مرتب کریں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ دریائے سندھ میں پانی کی مقدار میں اضافہ سے ممکنہ طور پر متاثرہونے والے مواضعات میں آبادی، فصلوں اور مویشیوں بارے مکمل ڈیٹا رکھا جائے جبکہ محکمہ زراعت دریائی بیلٹ میں کاشت فصلوں کی تفصیلات جمع کرے اور محکمہ لائیو سٹاک دریائی علاقوں میں موجود مویشیوں کو حفاظتی ویکسی نیشن کا عمل تیز کرے۔انہوں نے کہا کہ تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر ز اپنی تحصیلوں میں حفاظتی پشتوں کا وزٹ کرتے ہوئے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ کریں جبکہ محکمہ انہار اس ضمن میں اسسٹنٹ کمشنرز کو ناجائز تجاوزات بارے نشاندہی کرے۔

انہوں نے محکمہ انہار کو بھی ہدایت کی کہ وہ حفاظتی پشتوں پر جاری کاموں کی رفتار کو مزید تیز کریں۔قبل ازیں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122ڈاکٹر عبدالستار نے سابقہ سیلابی صورتحال میں متاثرہونے والے مواضعات و املاک کے نقصانات بارے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں برس ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹے کے لئے تمام تحصیلوں میں فرضی مشقیں منعقد کرکے محکمانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا ہے جبکہ سابقہ فلڈ میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں کے تحت تمام تعاون کرنے والے اداروں سے فلڈ پلان حاصل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اربن فلڈنگ، طوفانی بارشوں اور دریا میں طغیانی کے حوالہ سے ریسکیو1122نے دیگر تعاون کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیا راور دستیاب افرادی و مشینی قوت کا از سر نوجائزہ لے لیا ہے۔انہوں نے مزید مشینری کے حوالہ سے ریسکیو1122کی ضروریات بارے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے فوری عملدرآمد کے لئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل)شیخ محمد طاہر، اسسٹنٹ کمشنر(ایچ آر)ریاست علی سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔

رابطہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلا س

ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ضلعی رابطہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلا س کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ہوم کورنٹائن کے حوالہ سے تمام قواعدو ضوابط پر مکمل عملدرآمد اور متعلقہ تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنرز کی اجازت یقینی بنائی جائے،

فیلڈ ٹیمیں ہوم کورنٹائن قواعد و ضوابط پر پوروا اترنے والے کنفرم مریضوں کی رپورٹ اپنی تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنرز کو فراہم کریں گی۔اجلاس میں سی ای ا وڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر سخاوت علی رندھاوا، ایم ایس شیخ زید ہسپتال ڈاکٹر آغا توحید سمیت دیگر متعلقہ افسران موجو دتھے۔

ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی عوام میں کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ آگہی مہم چلائی جائے اور اس سلسلہ میں سول سوسائٹی، این جی اوز اور علماء کرام کی خدمات حاصل کی جائیں کہ وہ اپنے خطبات اورپیغامات میں عوام کو اس وبائی مرض سے محفوظ رہنے کی تلقین کریں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر اس وائرس کی منتقلی کے خدشات بدستور موجود ہیں تاہم بہترین حکومت عملی اور آپسی ٹیم ورک سے ہم نے ضلع میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرنی ہیں۔اجلاس میں محکمہ ہیلتھ کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہوم کورنٹائن کی سہولت کے حوالہ سے تمام قواعد و ضوابط کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ 7ہزار411کی مجموعی،62ہزار294افرادکی کوٹسبزل کے مقام پر سکریننگ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے مشتبہ و کنفرم مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس کے لئے حفاظتی کٹس و دیگر آلات دستیاب ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »