fbpx

رحیم یارخان میں انڈیا بارڈر سے ٹڈی دل حملہ آور ہوئی ، ڈی سی

رحیم یارخان میں انڈیا بارڈر سے ٹڈی دل حملہ آور ہوئی ، ڈی سی
رحیم یار خان :ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے حالیہ اجناس پر حملوں کے سدباب اور اس کے تدارک کےلئے ضلعی انتظامیہ جدید مشینری کی مدد سے انسدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ضلع کو 23زرعی مراکز میں تقسیم کرتے ہوئے ہر مرکز سطح پر25افراد پر مشتمل سرویلنس و آپریشنل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ہر ٹیم کے پاس 10شولڈر ماﺅنٹڈ سپرئیر،ٹریکٹر جیکٹو سپرئیر کی سہولت موجود ہے۔
یہ بات انہوں نے تحصیل رحیم یارخان اور صادق آباد میں ٹڈی دل سے متاثرہ مواضعات میں جاری کمبٹ آپریشن کا جائزہ لیتے ہوئے کہی۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کو حکومت کی جانب سے ہوائی سپرے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے
تاہم ہوائی سپرے چولستان یا آبادی سے دور متاثرہ علاقوں میں زرعی ماہرین کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ضلع میں ٹڈی دل مختلف اظلاع، صوبوں اور انڈیا بارڈر سے حملہ آور ہے تاہم ٹڈی دل کے حوالہ سے ضلعی انتظامیہ نے پیشگی انتظامات کئے ہوئے تھے
جس کے باعث ضلع میں فصلوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا اور بروقت کمبٹ آپریشن سے ٹڈی دل کا خاتمہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل قدرتی آفت ہے جو افریقہ اور ایران سے پاکستان کے صوبوں کے اضلاع پر حملہ آور ہے
کسان اس قدرتی آفت سے نمٹنے کےلئے ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ میں موجود حکومتی اداروں کا ساتھ دیں۔
انہوں نے کہا کہ دریائی علاقوں میں سرویلنس کے لئے19، چولستان میں13ٹیمیں کام کر رہی ہیں جبکہ دوران اڑان ٹڈی دل کے خلاف انسدادی کارروائیاں ممکن نہیں جس وجہ سے ٹڈی دل کے خلاف انتظامیہ رات8سے صبح9بجے تک متاثرہ علاقوں میں سپرے کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ضلع کی دوتحصیلوں رحیم یار خان اور صادق آباد ٹڈی دل کے حملوں سے زیادہ متاثر ہیں جبکہ کسانوں کے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لئے بھی محکمہ زراعت کی ٹیمیں سروے کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹڈی دل کے تدارک اور کسانوں کی اجناس کو محفوظ بنانے کے لئے بھرپور وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close