fbpx
قومی

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے مدینہ منورہ میں کس سے ملاقات کی ؟

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے رواں سال 26 رمضان کو مدینہ میں نواز شریف کے ایک قریبی رشتہ دار سے ملاقات کی تھی۔سینئر صحافی انصار عباسی کا دعویٰ،روزنامہ جنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق نون لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کی خفیہ ریکارڈنگ کی گئیاور مبینہ طور پر اس میں جج ارشد ملک کے پچھتاوے اور اس بات کا اعتراف موجود ہے کہ نواز شریف کو غلط سزا سنائی گئی۔ 26رمضان کی اس ملاقات کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ وہ تازہ ترینملاقات ہے جس کی خفیہ ریکارڈنگ کی گئی، یہ تمام ویڈیوز شریف فیملی کے پاس موجود ہیں۔ مذکورہ ملاقات میں جج مبینہ طور پر اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی غور کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔جج ارشد ملک نے میڈیا میں اب تک ایک مرتبہ ہی اس ایشو پر بات کی ہے۔ انہوں نے مریم نواز کی پریس کانفرنس کے ایک دن بعد پریس ریلیز جاری کی تھی اور اس میں نون لیگ کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا تھا۔ جج کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی طرف سے دکھائی گئی ویڈیو بات چیت کو توڑ مروڑ کر اورمختلف مواقعوں پر کی گئی بات چیت کو دکھایا گیا ہے۔ جج نے اس اقدام کے پیچھے لوگوں کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ناصر بٹ کو جانتے ہیں،

جن کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں کیونکہ دونوں کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ جج نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف اور شریف فیملی کے دیگر لوگوں کیخلاف ٹرائل کے دوران انہیں رشوت کی پیشکش کی گئی تھی اور تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔اسی دوران مریم نواز شریف نے پیر کو نجی ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کو سزا ملنے کے بعد جج ارشد ملک نے شریف فیملی سے رابطہ کیا تھا اور پیغام پہنچایا کہ ان کا ضمیر نواز شریف کیخلاف فیصلہ سنانے کے بعد سے کوس رہا ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ جج ارشد ملک شریف فیملی سے معافی مانگنا چاہتے تھے۔ مریم نے مزید کہا کہ جج ارشد ملک دو مرتبہ عمرہ ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئےاور مبینہ طور پر کسی کو بتایا کہ وہ خدا سے معافی مانگنے کیلئے مقدس سر زمین پہنچے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک معصوم شخص کو جیل بھیجا۔ مریم نے کہا کہ ان کے پاس جج کی تین ویڈیوز کچھ دیگر آڈیو ریکارڈنگز ہیں جن میں وہ مبینہ طور پر اعتراف کر رہے ہیں کہ انہیں نواز شریف کو جیل بھیجنے کیلئے دبائو کا سامنا تھا۔ مریم نے الزام عائد کیا کہ غلط سزا سنانے پر جج پر اس قدر زیادہ بوجھ تھا کہ ایک ویڈیو میں وہ یہ تک کہہ رہے ہیں کہ وہ خود کشی کرنا چاہتے تھے۔یاد رہے کہ مذکورہ معاملے کے سلسلےمیں گزشتہ روزاسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی ۔ رحیم یارخان 

 

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close