رحیم یارخان کے ایم این ایز قومی خزانے پر بوجھ ثابت ہوئے

رحیم یارخان() ایم پی ایز کے بعد ایم این ایز بھی تنخواہوں اور ٹی اے ،ڈی اے کی مد میں قومی خزانے پر موجودہ مدت تک 3 کروڑ روپے کے قریب بوجھ ڈال چکے ہیں جبکہ صرف ایک قرارداد پیش کی جاسکی۔سب سے زیادہ تنخواہیں اور ٹی اے ڈی اے ایم این اے زیب جعفر نے 96لاکھ 77ہزار 824روپے ، دوسرے نمبر پر ایم این اے مائزہ حمید گجر نے 94لاکھ 56ہزار 226روپے

 

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017کے تحت قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے بھیجی گئی رپورٹ کے۔ ریزرو سیٹ برائے خواتین کی سیٹوں پر رحیم یارخان سےقومی حلقہ این اے 287سے ایم این اے مائزہ حمید گجر کی جانب سے13 اگست 2018سے 30ستمبر 2020تک تنخواہوں کی مد میں 48لاکھ 15ہزار 226روپے اور ٹی اے ڈی اے کی مد میں 46لاکھ 41ہزار روپے وصول کیے گئے اس طرح انہوںنے اب تک 94لاکھ 56ہزار 226روپے وصول کیے اور آج تک قومی اسمبلی میں عوامی ایشوز پر کوئی قرارداد پیش نہ کی ہے ۔رحیم یارخان کے قومی حلقہ این اے 283سے ریزرو سیٹ برائے خواتین سے ایم این اے زیب جعفر نے اب تک تنخواہوں کی مد میں 48لاکھ 15ہزار 226روپے اور ٹی اے ڈی اے کی مد میں 48لاکھ 62ہزار 598روپے وصول کیے ۔اس طرح انہوںنے اب تک قومی خزانے سے 96لاکھ 77ہزار 824روپے وصول کیے اور اسمبلی میں صرف ایک قرارداد پیش کی ہے۔ اس طرح مجموعی طورپر رحیم یارخان سے تینوں ایم این ایز نے اب تک قومی خزانے سے 2کروڑ 85لاکھ 81ہزار 258روپے وصول کیے ہیں جبکہ اس مد میں انکی جانب سے قانون سازی کے لیے کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »