fbpx

رحیم یارخان کے کون کون سے ارکان اسمبلی صوبائی خزانے پر بوجھ ہیں

رحیم یارخان:رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت پی پی حلقہ 262 اور پی پی حلقہ 263 کے ایم پی ایز اڑھائی سال سے صوبائی خزانے پر صرف بوجھ ثابت ہوئے ،

اڑھائی سالوں میں دونوں ایم پی ایز نے 64لاکھ 96ہزار 565روپے تنخواہوں اور اسمبلی سیشن میٹنگز کے حاصل کیے ،دونوں ایم پی ایز نے اڑھائی سالوں میں کبھی قرارداد پیش نہ کی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ایم پی ایز اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی نہ ہیں، ایم پی اے آصف مجید کی تعلیم میٹرک جبکہ چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ کی تعلیم مڈل ہے،

پی پی حلقہ 262کے ایم پی اے چوہدری آصف مجید نے پاکستان تحریک انصاف کے اڑھائی سالہ دور حکومت میں رہتے ہوئے ماسوائے تنخواہیں اور مراعات لینے کے کبھی اپنے حلقہ کی عوام کے بارے میں کوئی قرارداد پیش نہ کی ہے اسی طرح پی پی حلقہ 263کے ایم پی اے چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ نے بھی تنخواہیں اور مراعات لیں مگر کبھی اسمبلی میں کوئی قرارداد پیش نہ کی ہے۔

چوہدری آصف مجید نے مالیاتی سال 2018-19میں تنخواہیں اور الائونس کی مد میں 8لاکھ 75ہزار 516روپے ، مالیاتی سال 2019-20میں 21لاکھ 12ہزار روپے اور رواں مالیاتی سال 2020-21میں 5لاکھ 28ہزار روپے جبکہ اسمبلی سیشنز کے لیے کنوینس الائونس ،ٹریولنگ الائونس ،ڈیلی الائونس اور رہائشی الائونس کی مد میں مالیاتی سال 2018-19میں5لاکھ19ہزار999روپے، مالیاتی سال 2019-20میں 7لاکھ93ہزار 770روپے اور رواں مالیاتی سال 2020-21میں 6لاکھ 86ہزار 730روپے وصول کرچکے ہیں

اس طرح ایم پی اے آصف مجید نے اڑھائی سال کے پہلے مالیاتی سال میں 13لاکھ 95ہزار 515روپے، دوسرے سال میں 29لاکھ 5ہزار 770روپے اور تیسرے مالیاتی سال کے نصف تک 12لاکھ 14ہزار 730روپے وصول کیے ہیںجوکہ اڑھائی سال میں صوبائی خزانے پر بطور بوجھ بننے والی یہ کل رقم 55لاکھ 16ہزار 15روپے بنتی ہے ۔

اسی طرح پی پی حلقہ 263کے ایم پی اے چوہدری محمد شفیق نے تنخواہوں اور الائونسز کی مد میں صرف پہلے مالیاتی سال میں اسمبلی سے  9لاکھ 80ہزار 550روپے وصول کیے بعدازاں پارلیمانی سیکرٹری بننے کے بعد انکی تنخواہیں اور الائونسز سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے وصول کررہےہیں واضح رہے کہ دونوں ایم پی ایز کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو قانون سازی کے لیے کبھی قرارداد پیش نہ کی ہے اور صرف صوبائی اسمبلی سے تنخواہیں اور الائونسز لیکر صوبائی خزانے پر بوجھ بنے بیٹھے ہیں اور آئندہ اڑھائی سال تک صوبائی خزانے کو یہ بوجھ برداشت کرنا پڑےگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »