fbpx

موٹروے زیادتی کیس,پنجاب پولیس میں گروپنگ اور”پراکسی وار” کی بھینٹ چڑھ گئی

لاہور موٹروے زیادتی کیس کی تفتیش پنجاب پولیس میں گروپنگ اور”پراکسی وار” کی بھینٹ چڑھ گئی ؟ وزیراعظم سخت برہم ، "کردوغلو” اور "کوچہ باش” قسم کے پولیس افسران کی نشاندہی کیلئے تفصیلی رپورٹ مانگ لی، سی سی پی او لاہور کی دشمنی میں اندھے ہو جانیوالے ایس ایس پی کا اپنا گھنائونا ماضی کس نے بے نقاب کیا ؟ پنجاب کے 3 بڑے کرائم ریجنز میں کون کون سے اضلاع شامل ؟ تہلکہ خیز رپورٹ

لاہور، اسلام آباد (رحیم یارخان ڈیسک  ) پنجاب پولیس میں موجود بدترین گروپنگ اور "پراکسی وار” لاہور موٹروے زیادتی کیس کی تفتیش کیلئے ” دلدل ” بن گئی ، صوبائی دارالحکومت میں بڑے بڑے اعلیٰ اور کلیدی عہدوں پر موجود ایس ایس پی سطح کے پولیس افسران بھی اپنے کام پر دھیان دینے کی بجائے "اپنے گروپ” کیلئے نرم گوشہ نہ رکھنے والے پولیس افسران کی شکائتیں کرنے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک کی کئی پرائم انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب اس بات کی تلاش بھی شروع ہوگئی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی پولیس کو اندر سے نقصان پہنچانے والے غدار "کردوغلو” اور "کوچہ باش” کون ہیں ؟ ۔۔۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقل طور پر "پرابلم بوائے” کا کردار ادا کرنے والے "کردوغلو” اور "کوچہ باش” پولیس افسران کی سروس ہسٹری نکال کر ہنگامی بنیادوں پر اس بات کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ماضی کے دس پندرہ برسوں کے دوران ان کا طرزعمل اور کیریئر کیسا رہا ؟

انہیں پرکشش عہدے دلوانے اور ٹرانسفر پوسٹنگ میں کن سیاسی و دیگر بااثر طبقات کی طرف سے مداخلت کی جاتی رہی اور یہ کہ اُن کی پولیسنگ کے حوالے سے عوام کی طرف سے کس قسم کی شکایات سامنے آتی رہیں؟ مختلف انٹیلی جنس ادارے اس پہلو سے بھی تجزیہ کر رہے ہیں کہ پنجاب میں سنگین اور لرزہ خیز جرائم کا اچانک سیلاب برپا ہوجانا کہیں کسی سازش کا حصہ تو نہیں ؟ کیونکہ "آرگنائزڈ کرائم” کی صلاحیت رکھنے والے کئی نیٹ ورکس ضلعی سطح پر ناپسندیدہ ڈی پی اوز کو ” ناکام ” اور نااہل ثابت کرنے کیلئے ایسے گھنائونے کھیل ماضی میں بھی کھیلتے رہے ہیں ۔

ابھی گوجرپورہ تھانے کی حدود میں موٹر وے پر بچوں کے سامنے ماں سے زیادتی کے لرزہ خیز واقعے کے تمام ملزمان گرفتار نہیں ہوئے تھے کہ آج 18 ستمبر بروز جمعہ المبارک صوبائی دارالحکومت کے قریب ہی اجتماعی زیادتی کا ایک اور سنگین واقعہ سامنے آ گٓیا ہے،

اس نئے واقعے میں سفاک ملزمان نے شوہر کی موجودگی میں خاتون کواجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ کمسن بچوں کے سامنے ماں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ لاہور کے "علاقہ غیر” کرول گھاٹی کے جنگل کے قریب پیش آیا تو دوسرے واقعے میں لاہور کے دوسرے کونے پر واقع جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے فیروز والا کا کوئی مکار گینگ ملوث بتایا جاتا ہے ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور موٹروے زیادتی کیس کی تحقیقات شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ تفتیشی افسران محکمے کی داخلی "پراکسی وار” کی وجہ سے اپنے سی سی پی او کا دست وبازو بن کر کام کرنے کیلئے تیار نہیں ، محکمانہ ڈسپلن کے اس شدید فقدان کی وجہ سے اس کیس میں پولیس کارکردگی کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے ،

تاہم اس معاملے کا ایک مزید سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم عمران خان کو سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی بار بار شکایتیں کرنے اور اُن کے ماضی کے کیرئیر کے حوالے سے مختلف اسکینڈلز سامنے لانے سے جس ” فائول پلے” کا آغازکیا گیا تھا، اب جب اس کا "جواب ” آیا ہے تو "شکایتی ایس ایس پیز ” کی 4 رکنی ٹیم کے روح رواں سمجھے جانے والے ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورذیشان اصغر کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے پچھلے 10 برسوں کے دوران کھڈے لائن لگائے گئے کئی سینئر پولیس افسران بھی اب حرکت میں آ گئے ہیں اور انہوں نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہورذیشان اصغر سمیت اُن تمام پولیس افسران کی پچھلی سروس کا کچہ چٹھہ کھولنا شروع کر دیا ہے کہ جب انہوں نے ن لیگی حکومت کے چہیتے بن کر لوٹ مار اور ظلم وستم کی انتہا کیئے رکھی ، اس حوالے سے کئی لرزہ خیز واقعات آئی جی پنجاب انعام غنی ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں لائے گئے ہیں ،

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو وفاقی حکومت کی کئی اہم انٹیلی جنس ایجنسیوں آگاہ کر دیا ہے کہ پنجاب پولیس کے بہت سے افسران اپنی داخلی "پراکسی وار” کی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں جان بوجھ کر ادا نہیں کر رہے ، لاہور کے بدنام سیاسی قبضہ گروپ کو ” فیور” دینے والے ایس ایچ او کیخلاف راست اقدام کرنے اور مقتول کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی کے سی سی پی او عمر شیخ کے سخت فیصلوں کے رد عمل میں اُن کے اور سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے درمیان جو افسوسناک محاذ آرائی ہوئی اس کیس میں بھی ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کا کردار انتہائی افسوناک رہا ،

ذرائع کےمطابق برسوں سے کھڈے لائن لگائے گئے کئی سینئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ جب بھی قیمتی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضے کرنے والے بااثر افراد کیخلاف مقدمات درج نہ ہونے کی شکایات پر انکوائری ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغرکے پاس پہنچتی ہے تو اُن کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ بااثر سیاسی و کاروباری لوگوں کو "فیور” دیتے ہیں اور مظلوم اُن کے دفتر کی دہلیز پر سر پٹکتا رہ جاتا ہے ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانے میں تشدد سے ملزم کی ہلاکت کا معاملہ ہو یا کئی کئی ماہ تک بغیر گرفتاری ڈالے نجی ٹارچر سیل میں بند رکھ کر کروڑوں روپے کی "ریکوریاں” کرنے والے پولیس افسران سے ملی بھگت سے "مال” بنانے کا کھیل ، ذیشان اصغر کا کردار ہمیشہ مشکوک ہی رہا ہے ، کچھ عرصہ قبل جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یارخان کے تھانہ سٹی اے ڈویژن میں پولیس تشدد سے ملزم صلاح الدین کی ہلاکت کے لرزہ خیز اسکینڈل میں معطل اور تبدیل ہونے والے ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور ڈی پی او کی "بحالی” کی کوشش میں بھی لاہور پولیس کے کچھ افسران چند پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے ساتھ مل کر خصوصی طور پر متحرک رہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر اُس ” بیچ بچائوگروپ” کے بھی روح رواں تھے ، رحیم یارخان ہی میں ایک اور افسوسناک واقعے میں تھانہ ائیر پورٹ میں ایک ملزم سلیم ماچھی کووحشیانہ تشدد کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا اور اس قتل کی ایف آئی آر اُسی پی ٹی آئی رکن اسمبلی کے ایک سیاسی مخالف گھرانے کے مختلف افراد کے خلاف درج کی گئی جس نے صلاح الدین قتل کیس میں ٹرانسفر ہونے والے ڈی پی او عمر سلامت کو”منہ بولا بیٹا ” بنا رکھا تھا ، جس نے اپنے ساتھی ارکان اسمبلی کے ہمراہ اس کیس میں معطل اور ٹرانسفر ہوجانے والے پولیس افسران کی بحالی کیلئے ذیشان اصغر کے ساتھ مل کر ڈیڑھ دو ہفتے تک اقتدار کی غلام گردشوں میں دن رات ایک کیئے رکھا ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ من گھڑت ایف آئی آر سے جان چھڑانے کیلئے پی ٹی آئی رکن اسمبلی کے مخالف سیاسی گھرانے نے آئی جی آفس سے لاہور ہائیکورٹ تک کئی دروازے کھڑکائے لیکن اُنہیں انصاف نہ ملا کیونکہ ایس ایس پی ذیشان اصغر نے اصل قاتل ایس ایچ او اور اس سازش میں ملوث اپنے چہیتے پی ٹی آئی ایم اے کا ڈٹ کر ساتھ دیا ، تاہم جب کیس عدالت میں چلا تو اس جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر کو خارج کرنے کاحکم دیتے ہوئے عدالت نے تمام بے گناہ ملزموں کو رہا کرنے کا حکم دیدیا ، اس عدالتی فیصلے کے بعد رحیم یارخان پولیس کا فرض تھا کہ کیس کی از سر نو تفتیش کر کے مقتول کے اصل قاتل کو کٹہرے میں لاتی لیکن ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر جیسے انتہائی طاقتور پولیس آفیسر کی پشت پناہی کی وجہ سے اس کیس کو داخل دفتر کر دیا گیا ، ذرائع کا کہنا ہے ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے دور حکومت میں ڈی پی او رحیم یارخان تھے تو دو ڈھائی سال تک انہی پی ٹی آئی ایم پی اے اور ان کے ساتھی ارب پتی کاروباری و سیاسی لوگوں کے ساتھ مل کر انہوں نے سود خور مافیاز کو کروڑوں روپے کی وصولیاں کروائیں اور اپنا "حصہ” وصول کیا ، ایک کیس میں تو انتہا ہی کر دی گئی ، ملک کے صف اول کے کاٹن سیڈ اینڈ کھل بنولہ بروکر شفیق مڈ وے کو جو سندھ پنجاب بارڈر ایریا کے مشہور "مڈ وے ہوٹل ” کے مالک بھی تھے انہی ایم پی اے کے ساتھ ایک کاروباری تنازع میں تقریبا ایک سال تک نجی ٹارچر سیل میں رکھا گیا ، ڈی پی او رحیم یارخان کے ساتھ ڈی ایس پی صادق آباد بھی ظلم کی اس انتہا میں شامل تھا جو آج کل ڈی جی خان میں تعینات ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ان پی ٹی آئی ایم پی اے صاحب نے کم و بیش 34 کروڑ روپے کی متنازع ریکوری کے نام پر اس مظلوم خاندان کی 50 کروڑ روپے کے لگ بھگ قیمتی جائیدادیں بیچ کر ہڑپ کر لیں ۔ پولیس نے مغوی شفیق مڈوے کو اُس وقت چھوڑا کہ جب وہ 11 ماہ تک ٹارچر سیل میں اذیتیں برداشت کرتے کرتے قریب المرگ تھا ، اس "رہائی ” کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد مظلوم تاجر شفیق مڈ وے خالق حقیقی سے جا ملا ، لیکن مرنے سے پہلے اس نے چیئرمین نیب اور آئی جی پنجاب کے نام اپنی تحریری درخواستوں میں ذیشان اصغر سمیت 2 بڑے پولیس افسران اور انہی پی ٹی آئی ایم پی اے کو بھی اپنے معاشی و جسمانی قتل کا ملزم نامزد کیا، جو اُس وقت شہباز شریف کا نامزد چیئرمین مارکیٹ کمیٹی رحیم یارخان تھا ۔

آئی جی پنجاب انعام غنی صاحب چاہیں تو شاید آج بھی انہیں مظلوم شفیق مڈ وے کی ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر وغیرہ کیخلاف یہ درخواست اپنے دفتر کی کسی پرانی الماری سے مل جائے گی ، کیسا ظلم ہے کہ وہ پولیس آفیسر صوبائی دارالحکومت کا ایس ایس پی انویسٹی گیشن ہے جس کی اپنی انویسٹی گیشن ہونی چاہیئے کہ اُس کیخلاف ایک معزز شہری کو 11 ماہ تک نجی ٹارچر سیلوں میں رکھنے اوراُس سے 34 کروڑ روپے کی ” ریکوری” کرنے اور پھر قریب المرگ ہونے پر چھوڑ دینے جیسے لرزہ خیزالزامات کی حقیقت کیا ہے؟ ، آج ن لیگ کا میڈیا پنجاب پولیس کے مظالم پر بہت شور مچا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اُس وقت کیوں خاموش رہا کہ جب ان کے اپنے دور حکومت میں 6 ماہ سے لاپتہ تاجر(شفیق مڈ وے) کو لاہورہائیکورٹ بہاولپور بنچ کے بیلف نے تحصیل صادق آباد کے نجی ٹارچر سیل سے برآمد کر کے عدالت میں پیش کیا ، ذیشان اصغر کے ظلم کی انتہا دیکھیں کہ عدالت عالیہ کے حکم پر رہائی ملنے کے بعد شفیق مڈوے کو گھر پہنچنے سے پہلے ہی مزید دو تین من گھڑت ایف آئی آرز میں ملزم نامزد کر کے قومی شاہراہ پر سے دوبارہ ” گرفتار” کر کے غائب کر دیا گیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کے تینوں مرکزی ملزمان کے جنوبی پنجاب کے کچھ بڑے سیاسی و کاروباری لوگوں سے "تعلقات ” کے ناقابل تردید ثبوت بھی سامنے آ گئے ہیں اور دلچسپ مماثلت یہ ہے کہ مرکزی ملزم عابد ملہی کے بڑے بھائیوں نے چچا سے مل کر کئی ایکڑ زمین پر قبضے کے ایک تنازعے میں اپنے ماموں کو خود ہی قتل کر کے متنازع زمین کے اپنے مخالف فریق کیخلاف قتل کا پرچہ درج کروا دیا تھا تاکہ وہ قتل کیس کے ” پریشر” میں آ کر اُن سے "صلح” پر مجبور ہو جائے ، بالکل اُسی طرح کہ جیسے ذیشان اصغر کے مبینہ بزنس پارٹنر پی ٹی آئی ایم اے نے تھانہ ائیرپورٹ رحیم یارخان میں ملزم سلیم ماچھی کو بہیمانہ پولیس ٹارچر کے ذریعے خود ہی قتل کروا کر اُس کی ایف آئی آر اپنے سیاسی مخالف گھرانے کیخلاف درج کروا دی تاکہ قتل کیس کے دبائو میں آ کر وہ اُن سے ” صلح ” پر مجبور ہو جائے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گجر پورہ موٹر وے زیادتی کیس کے ملزموں کے فورٹ عباس اور چشتیاں کے کچھ پی ٹی آئی رہنمائوں کے ساتھ ” تعلقات” کی تحقیقات شروع ہوئی تو یہ معاملہ فی الواقعی شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا گیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ نہ صرف عابد ملہی ، شفقت اور بالا مستری جنوبی و مشرقی پنجاب کی انڈرورلڈ سمجھے جانے والے بااثر سیاسی و کاروباری گروپوں کے ” کارندے” نکلے ہیں بلکہ ان کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے دیگر جرائم پیشہ افراد اور ہم نوالہ وہم پیالہ جرائم پیشہ گروپوں کی وابستگیاں بھی ایسے ہی کئی بااثر سیاسی و کاروباری گروپوں سے ہیں ، جو مختلف ادوار میں ق لیگ ، ن لیگ اور پی ٹی آئی سے وابستہ رہنے کی وجہ سے پچھلے پندرہ بیس برسوں سے مسلسل برسراقتدار ہیں ، ملک کی مختلف پرائم انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس معاملے کی تفتیش کو مزید آگے بڑھایا تو ” قالین کے نیچے” چھپے ایک ایسے بین الصوبائی نیٹ ورک کا پتا چلا ہے کہ جس کی ڈوریاں صوبے کے کئی اضلاع کے انتہائی بااثر سیاسی گروپوں کی طرف سے ہلائی جا رہی ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ ساری صورتحال وزیراعظم عمران خان کے نوٹس میں لائی گئی تو انہوں نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ کی تیاری کا حکم دیا تاکہ اس سارے نیٹ ورک کو جڑ سے اُکھاڑنے کی حکمت عملی پر کام شروع کیا جاسکے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کو سیاسی ، معاشی اور سماجی ہر حوالے سے "یرغمال” بنا لینے والی اس انڈرورلڈ کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی کی تیاری کے دوران صوبے میں جرائم کی دلدل کے 3 بڑے ریجن سامنے آئے ہیں اور یہ سفارش کی گئی ہے کہ ہر ریجن کی "صفائی” کیلئے الگ الگ آپریشنز کیئے جائیں، کیونکہ ایک آدھ واقعے کے مجرموں کو سزا دینے سے لرزہ خیز جرائم کا یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ، ذرائع کا کہنا کہ ابتدائی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کراچی کی طرح پنجاب کے ان ان تینوں ٹاپ کرائمز ریجنز میں بھی مقامی پولیس اور سیاسی لوگوں کا انڈرورلڈ کے ساتھ کئی عشروں سے مستقل گٹھ جوڑ ہے اس لیئے شہری سندھ کی طرح پنجاب میں بھی اس وقت تک انڈرورلڈ کی گرفت ختم نہیں کی جا سکتی کہ جب تک پولیس کے ساتھ ساتھ رینجرز کوبھی قانونی طور پر صوبے میں امن وامان کی ذمہ داری میں باقاعدہ شریک کار نہ کیا جائے ، اس کےساتھ ساتھ ملک کی پرائم انٹیلی جنس ایجنسیز آئی ایس آئی ، ایم آئی و دیگر کو فیلڈ آپریشنز میں باضابطہ طور پر شامل کرنےکیلئے "نیا آپریشنل سسٹم” تشکیل دیا جانا بھی ناگزیر ہے کیونکہ جرائم پیشہ گینگز کے ساتھ غیر معمولی مالی مفادات رکھنے والے افسران اور اہلکار پنجاب پولیس اور اس کے خفیہ اداروں میں انتہائی اہم پوزیشنوں پرپچھلے دو دو ڈھائی عشروں سے براجمان ہیں اور اگر تبدیلی سرکار نے 100 فیصد انہی ” پرانے پاپیوں” پرانحصار کیا تو پنجاب کی انڈر ورلڈ کا خاتمہ اگلے 3 ماہ تو درکنار اگلے 3 برس میں بھی ممکن نہیں ہو سکے گا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرائم انٹیلی جنس ایجنسیز نے ابتدائی طور پر پنجاب کے جن 3 ٹاپ کرائم ریجنز کی نشاندہی کی ہے ، اس میں سب سے بڑے اور کروڑوں اربوں روپے کے ہوشربا مالی مفادات والے ریجن میں صوبے کے 2 سب سے بڑے صنعتی و کاروباری شہر بھی شامل ہیں ، اس ریجن میں لاہور ، قصور ، شیخو پورہ ، ننکانہ صاحب ، حافظ آباد ، مںڈی بہائوالدین ، گجرات ، فیصل آباد اور جھنگ کل 9 اضلاع "مارک” کیئے گئے ہیں ، دوسرے بڑے کرائم ریجن میں بہاولنگر، پاک پتن ، ساہیوال ، خانیوال ، وہاڑی ، لودھراں اور بہاولپور کل 7 اضلاع شامل ہیں ، جبکہ تیسرا کرائم ریجن مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازیخان ، راجن پور اوررحیم یارخان کل 4 اضلاع پر مشتمل ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ یوں تو جرائم پیشہ گروہ پورے صوبے کے تمام اضلاع میں موجود ہیں لیکن ان تین ریجنز میں صورتحال بہت ہی زیادہ تشویشناک ہے ،

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور موٹروے زیادتی کیس نے جس کرائے کے قاتل ، اغوا کار ،راہزن ، ڈاکو اور ریپسٹ گینگ کو بے نقاب کیا ہے ، اس کا اصل بینیفشری انتہائی بااثر انڈرورلڈ اور مافیا راج ہے ، بہت سے جرائم پیشہ کارندے نسل در نسل انڈرورلڈ اورمافیا راج کیلئے کرائے کے قاتل کا کردار ادا کر رہے ہیں ، ان انسان نما درندوں کو برسوں سے قیمتی زرعی ، رہائشی اور کمرشل زمینوں پر قبضوں ، کروڑوں روپے کی کھاد ، زرعی ادویات اور ڈیزل وغیرہ ادھار پر دینے والے سودخور نیٹ ورکس کی وصولیوں، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ جیسے مختلف سنگین جرائم کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، حالیہ موٹر وے زیادتی کیس میں ملوث گینگ کی پچھلے دس ، پندرہ برس کی سرگرمیوں کی جیوفینسنگ ، موبائل ڈیٹا کے تجزیئے اور انسانی انٹیلی جنس کے ذریعے جو بھیانک تصویر سامنے آئی ہے وہ انتہائی رونگٹھے کھڑے کر دینےوالی ہے، اب تک مختلف انٹیلی جنس اداروں نے جو معلومات جمع کی ہیں ان میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعینات درجنوں پولیس افسران واہلکاروں کا ایسے کرائے کے قاتلوں ، راہزنوں ، ڈاکوئوں، اغواکاروں اور زنا کاروں سے مسلسل رابطہ ہے ، اس کے علاوہ مسلم لیگ ن ، مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے مختلف بااثر سیاستدان اور سابق و موجودہ ارکان اسمبلی ان کرائے کے جرائم پیشہ افراد کو قیمتی زرعی ، رہائشی اور کمرشل زمینوں پر قبضوں ، سودخور نیٹ ورکس کی وصولیوں، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم کیلئے "استعمال” کرتے ہیں ، ڈی پی او ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز کی سطح کے درجنوں پولیس افسران بھی بااثر سیاستدانوں اور سابق و موجودہ ارکان اسمبلی کے ان انتہائی منافع بخش دھندوں میں "شراکت دار” ہیں ، عابد ملہی اب تک 9 ایف آئی آرز کا ملزم نکل آیا ہے ، ان میں سے چار واقعات میں تو اس نے ساتھیوں سمیت اپنے ہتھے چڑھنے والی خواتین کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتی زمینوں پر قبضوں ، سودخور نیٹ ورکس کی وصولیوں، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم کے دوران خاندان کے لوگوں کے سامنے اُن کی مائوں ، بہنوں اور بہو بیٹیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا ایک مقصد متاثرہ خاندان کو دہشت زدہ کرنا ہوتا ہے ، اس حد تک درندگی کا نشانہ بننے والے نفسیاتی اور ذہنی طور پر اتنے ٹوٹ جاتے ہیں کہ پھر اپنے قانونی حقوق کیلئے جدوجہد تک نہیں کر سکتے ۔ صوبے میں ہر سال ایسے سیکنڑوں واقعات پیش آتے ہیں لیکن ” بوجوہ ” میڈیا پر رپورٹ نہیں ہوتے ۔

مین سٹریم میڈیا ایسے لرزہ خیز واقعات کو اُنہی دنوں میں انتہائی سنسنی خیز انداز میں کئی کئی ہفتے تک رپورٹ کرتا رہتا ہے جب ” کرائم اسٹوریز” کو "فلیش” کرنا اُن کی کسی "ایڈیٹوریل پالیسی” کا حصہ ہو، اس لیئے یہ کہا جا رہا ہے کہ الیکٹرانک و سوشل میڈیا گینگ ریپ کی کوریج کے حوالے سے آج کل جس "ہسٹیریائی کیفیت” میں مبتلا ہے اس کے پس پردہ یا تو طاقتور طبقات کی "سرمایہ کاری” ہے یا پھر خود پولیس کے اندر کی گروپنگ یا پراکسی وار کا کھولتا لاوا بریکنگ نیوز کے طوفان کو "جوالامکھی” بنائے ہوئے ہے،

آج جمعہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین نے اجتماعی زیادتی کے نئے واقعے کی مزید افسوسناک تفصیل بتائی اور کہا کہ مینار پاکستان کے سبزہ زار سے ورغلا کر لے جائی گئی متاثرہ خاتون کا میڈیکل کرا لیا گیا ہے ، پنجاب فارنزک لیب نے ڈی این اے سیمپلز بھی لے لیے ہیں، میاں بیوی کے بیان کے مطابق کرایہ ختم ہونے پر وہ شام کو مینار پاکستان پر آکر بیٹھ گئے تھے ۔ اغوا کار ملزم دونوں میاں بیوی کو مینارِ پاکستان کے سبزہ زار سے بہلا پھسلا کر اپنے گاؤں لے گیا اور وہاں یرغمال بنا لیا ۔ اور پھر 4 سے 5 افراد نے اس سے اجتماعی زیادتی کی۔

پولیس نے تھانہ فیروز والا میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے اور کچھ افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے ۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر دو ملزمان نے خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور اس کا مرکزی ملزم عابد تاحال مفرور ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »