fbpx

محرم الحرام میں پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات

رحیم یارخان یکم تا دس محرم الحرام کے 226 جلوس اور 457 مجالس کی سکیورٹی کے لیے 3264 پولیس اہلکارفرائض سرانجام دیں گے۔

ڈی پی او آفس میں کنٹرول روم قائم مقامی و پولیس رضا کار بھی پولیس سکیورٹی پلان کا حصہ ہوں گے۔ سی سی ٹی وی کیمرے، واک تھرو گیٹس نصب ہوں گے میٹل ڈیٹیکٹرز سے چیکنگ ہوگی جامہ تلاشی لی جائے گی۔ نقص امن کے خطرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے 66 علماء کی ضلع اور 38 کی زبان بندی کا فیصلہ۔ سپیشل برانچ، سکیورٹی برانچ، ٹریفک پولیس، ایلیٹ فورس کو بھی فرائض سونپ دئیے گئے۔

پاک آرمی، رینجرز، ایلیٹ فورس اور پنجاب کنسٹیبلری کے حکام کو بھی ضرورت سے آگاہ کر دیا گیا۔ پولیس نے پیشگی کارروائیاں کر کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کا عندیہ دے دیا۔ تفصیل کے مطابق ڈی پی او عمر سلامت کی زیر نگرانی ضلع رحیم یارخان میں محرم الحرام کے پر امن انعقاد کے لیے سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی دی گئی ہے۔ ضلع بھر میں یکم تا دس محرم الحرام کے 226  جلوس جس میں اے کیٹگری کے 24، بی کیٹگری کے 28 اور سی کیٹگری کے 174 جلوس شامل ہیں جبکہ  457 مجالس جس میں اے کیٹگری کی 39، بی کیٹگری کی 53 اور سی کیٹگری کی 365 مجالس منعقد ہوں گی۔ یکم محرم کو ایک جلو س اور 43 مجالس، دو محرم کے دن دو جلوس اور 47 مجالس، تین محرم کے روز دو جلوس اور 53 مجالس، چار محرم کو چار جلوس اور 52 مجالس، پانس محرم کے دن 9 جلو س اور 56 مجالس، چھ محرم کے روز 13 جلوس اور 53 مجالس، سات محرم کے دن 26 جلوس اور 50 مجالس، آٹھ محرم کے روز 39 جلوس اور 50 مجالس، نو محرم کے روز 36 جلوس اور 39 مجالس اور دس محرم الحرام کے دن 55 جلوس اور 14 مجالس کا انعقاد ہوگا۔ جن کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے 3264 پولیس افسران و اہلکار فرائض سر انجام دیں گے اس سلسلہ میں اہل تشیع رضا کاروں جن میں 928 مرد اور 638 خواتین اور پولیس رضاکاران بھی فرائض سر انجام دیں گے۔ اس سلسلہ میں ڈی ایس پی لیگل محمد رزاق رانا کی زیر نگرانی ڈی پی او آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جو کہ چوبیس گھنٹے ضلع بھر کی صورت حال پر نظر رکھے گا۔جلوس و مجالس کے گرد تین تین سکیورٹی حصار لگائے جائیں گے نگرانی وسکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے، واک تھرو گیٹس، خار دار تار، سنیفر ڈاگز، جیمرز، تلاشی کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز اور جامہ تلاشی کے لیے رضا کار موجود ہوں گے۔ نقص امن کے خطرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے66 شعلہ بیان علماء کی ضلع اور 38 کی زبان بندی کی گئی ہے۔ محرم الحرام کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لیے 3 کمپنی پاک آرمی، 5 کمپنی رینجرز، 20 پلاٹون پنجاب کانسٹیبلری اور 10 ٹیمز ایلیٹ پولیس فورس طلب کی گئیں ہیں۔ پولیس نے امن و امان کو کنٹرول میں رکھنے اور شر پسندوں کے مذموم مقصد کو ناکام بنانے کے لیے ضلع بھر میں دیگر اداروں کے ساتھ مل کر 12 سرچ آپریش، 331 پولیس سرچ آپریشنز کئے، 4528 بلا نمبر موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی کی، ساؤنڈ سسٹم کی خلاف ورزی پر 468 افراد، وال چاکنگ پر 341 افراد، عارضی رہائش گاہوں کے قانون کی خلاف ورزی پر 338 افراد اور پنجاب اسلحہ آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 554 ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ ممبران ضلعی و مقامی امن کمیٹی کے ممبران و عہدے داران پولیس کے ہمراہ ہر جلوس و مجلس کے موقع پر موجود ہوں گے تاکہ کسی قسم کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو موقع پر باہمی اتفاق رائے سے حل کر لیا جائے۔ اس دوران سرکل پولیس افسران، ایس ایچ اوز و دیگر افسران ہوٹلز، سرائے، مشکوک افراد اور اشیاء کی اچانک چیکنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھیں گے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، مشکوک اشخاس اور اشیاء کی موجودگی یا اطلاع کی خبر نزدیک ترین پولیس افسر کو دیں یا پھر پولیس پکار 15 پر کال کر کے اطلاع دیکر محب وطن شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا فرض نبھائیں۔ ڈی پی او عمر سلامت نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلع میں امن و امان کے مثالی ماحول کی وجہ سے محرم الحرام کا انعقاد پر امن ہو گا لیکن ہم پہلے سے زیادہ الرٹ ہیں۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو معاف نہیں کریں گے اور قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور فوری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں تمام مکاتب فکر سے میٹنگز ہو چکی ہیں جو کہ ضلع، سرکل اور تھانہ کی سطح پر تھیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سلسلہ میں ضلعی پولیس، سپیشل برانچ، سکیورٹی برانچ، ٹریفک پولیس، ایلیٹ فورس کو بھی فرائض سونپ دئیے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close