fbpx

قومی اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے کی ضرورت پی ٹی آئی ارکان کی ” ڈبل کراس سیاست ” کی وجہ سے پڑی

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی ضرورت کئی پی ٹی آئی ارکان کی ” ڈبل کراس سیاست ” کی وجہ سے پڑی، ذرائع کا تہلکہ خیز انکشاف، پی ٹی آئی کے 21 ایم پی اے اور 7 ایم این اے مسلم لیگ ن اور ق سے رابطے میں تھے، جس کی وجہ سے کپتان کو  ہنگامی جوابی وار کرتے ہوئے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اندر نقب لگا کر فارورڈ بلاک  بنانے کے مکروہ دھندے کی حوصلہ افزائی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا ، ذرائع کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان اپنی پارٹی کے ان می جعفروں پر سخت برہم ہیں اور انہیں اور ان کے ساتھی بڑے تاجروں اور صنعتکاروں﷽ کے پورے گروپوں کو  متوقع بے نامی آپریشن کے دوران نشان عبرت بنایا جائیگا ، اس تشویشناک صورتحال سے آگاہ بڑے تاجروں اور صنعتکاروں نے پی ٹی آئی کے ڈبل کراس ارکان اسمبلی کے ساتھ اپٹھنا بیٹھنا کم کر دیا ہے اور وزیراعظم کے وفادار وفاقی وزرا سے رابطے کر کے انہیں اپنی وفاداریوں کا یقین دلا رہے ہیں ،

 ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا مریم نواز گروپ اور ق لیگ کا طارق بشیر چیمہ گروپ پی ٹی آئی  کے  دو ، ڈھائی درجن ارکان اسمبلی  کے قریب ارکان اسمبلی کو پچھلے ایک برس سے ہرمشکل مرحلے میں پس پردہ خفیہ ہو کر انہیں مختلف طرح کی انتظامی سپورٹ اور دیگر مالی مفادات  دے رہا تھا ، وفاقی وصوبائی بجٹ پاس ہونے سے روکنے کی  اپوزیشن جماعتوں  کی خفیہ منصوبہ بندی کی ” نگرانی” کے دوران کئی اہم انکشافات ہوئے ، اس دوران کئی انٹیلی جنس اداروں نے مسلم لیگ ن کے  مریم نواز گروپ اور ق لیگ کے  طارق بشیر چیمہ گروپ کے ساتھ قریبی رابطے رکھنے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی  کے پچھلے ایک برس کے دوران ن لیگ اور ق لیگ کی اہم ترین شخصیات کے ساتھ مسلسل رابطے اور موبائی فون ڈیٹا چیک کیئے تو حیرت انگیز پہلو سامنے آئے ،  اُن کی سرگرمیوں کی مزید تفصیل کے ساتھ نگرانی اور ” سی ٹی سکین ” کیا گیا  تو انکشاف ہوا کہ یہ ” ڈبل کراس” پی ٹی آئی  ارکان اسمبلی گندم ، چینی ، کھاد سمیت مختلف اشیا کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کی ملک گیر سازش میں بھی مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، جے یو آئی ف اور ق لیگ کی پروردہ  بڑی کاروباری شخصیات، تاجرو صنعتکار تنظیموں اور بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ، اس لیئے کسی بھی اچانک ” حملے” کے سد باب کیلئے ہنگامی طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے نظر انداز ہونے والے ارکان سے رابطے کر کے اُن کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا اہتمام کروایا گیا ، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اگر کچھ پی ٹی آئی اررکان اسمبلی اسمبلی اجلاس سے اچانک غائب ہونے یا ناراضگی ظاہر کرنے کا ڈرامہ کرنے جا رہے ہیں تو انہیں یہ باالواسطہ ” پیغام ” دیدیا جائے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنا کر ” تبدیلی سرکار” اپنے ” نمبر” پورے کرنے کی پوزیشن میں ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ناراض ارکان کی وزیراعظم سے ملاقات کی خبر ملتے ہی مریم نواز گروپ اور طارق بشیر چیمہ گروپ کے ساتھ رابطے میں رہنے والے پی ٹی آئی کے ” ڈبل کراس ارکان اسمبلی ” کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور وہ پچھلے ایک ڈیڑھ ہفتے سے انتہائی پریشانی اور غم وغصے کی حالت میں ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اب پی ٹی آئی قیادت کوکس طریقے سے اپنی صفائی پیش کریں ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اگلے چند ہفتوں کے دوران آمدنی سے زیادہ اثاثوں اور بے نامی جائیدادوں کیخلاف جو بڑا آپریشن کرنے جا رہی ہے اس دوران ان ” ڈبل کراس پی ٹی آئی ارکان اسمبلی ” اور ان کے ساتھی بڑے تاجروں اور صنعتکاروں پر بھی سخت ہاتھ دالا جائے گا جس سے نہ صرف پی ٹی آئی میں ” میر جعفر ” اور ” میرصادق” والی سیاست کرنے کے رحجان کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ ملکی سطح پر عوامی پذیرائی بھی ہو گی کہ اپوزیشن قیادت کیخلاف ایکشن کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان اپنے ارکان اسمبلی اور ان کے ساتھی تاجروں و صنعتکاروں کیخلاف بھی سخت ایکشن لے رہے ہیں ۔   ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ سے ایک کنال (500مربع گز) سے زیادہ کی جائیداد کی تفصیلا ت ایف بی آر کو موصول ہو گئی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ  2018کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں د واگست تک توسیع کر دی ہے ،دو اگست کے بعد مرحلہ وار نوٹسز جاری کیے جائیں گے ، حکومت کی طرف سے دونوں صوبوں کے  نان فائلرز صنعتی اور کمرشل صارفین کی نشاندہی کر لی گئی ہے، 341000صنعتی اور 31000کمرشل صارفین ہیں ، انہیں  مرحلہ وار نوٹسز جاری کیے جائیں گے ، صنعتی صارفین ، کمرشل صارفین ، رئیل سٹیٹ اور ایک ہزار سے زائد سی سی کی گاڑیوں کے مالکان کو نوٹس بھیجے جائیں گے، کسی کو ہراساں نہیں کیا جائیگااس حوالے سے ایف بی آر حکام کو ہدایت کر دی گئی ہے ، اس حوالے سے    تاجر رہنمائوں اور ایف پی سی سی آئی کےصدر سے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، ان کا ایک مطالبہ یہ ہےکہ خریداری پر شناختی کارڈ فراہمی کی شرط ختم کی جائے ،اس شرط کو جزوی طور پر تسلیم کرتے ہوئے  ایک ماہ کا وقت دیا  گیا ہے اور شناختی کارڈ لینے سے متعلق ایک ماہ کی توسیع کی گئی ہے،

 ذرائع کا کہنا ہے کہ بے نامی جائیدادوں اور آمدنی سے زائد اثاثوں کیخلاف بڑے کریک ڈائون سے قبل تمام متعلقہ محکموں کو ضروری قانونی اختیارات دینے کا سلسلہ بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے ، اسی سلسلے میں  سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق ایس ای سی پی کو کاروباری اداروں میں یا کسی بھی جگہ  پر ، جہاں انہیں شک ہو گا ،  چھاپہ مارنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، نوٹی فیکیشن وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے،چھاپہ مار ٹیم کسی بھی قسم کا ریکارڈ قبضے میں لے سکے گی۔ ٹھوس شواہد پر شیشے توڑ کر ، گاڑی کا دروازہ توڑ کر دستاویزات، لیپ ٹاپ، متعلقہ اشیاء قبضے میں لے سکیں گے۔افسران کو وفاقی اور صوبائی سطح پر چھاپے مارنے کا ختیار ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »