fbpx
رحیم یارخانریسکیو 1122

جنوری2017سے 25جون 2020تک رحیم یارخان میں51آئل ٹینکراُلٹنے,ریسکیورپورٹ

Oil Tanker Incidents Report

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹرعبدالستاربابر=

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرڈاکٹر عبدالستاربابرریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں ضلع میں ہونے والے آئل ٹینکر الٹنے کے حادثات کی بنیادی وجوہات اور ان کی روک تھام کے لیے اہم سفارشات پر جامع تحقیقی رپورٹ جاری کردی۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹرعبدالستاربابر(پ ر)ریسکیو1122نے ضلع میں سروس کے قیام سے لیکر اب تک سینکڑوں آئل ٹینکر حادثات کوڈیل کیا۔

ریسکیو1122نے آئل ٹینکر حادثات،ہنگامی ردعمل فارم،خطرناک جگہوں کے دورے،قریبی آبادی سے معلومات کے حصول،زخمیوں،ریسکیو عملے اورحادثات کی وجوہات کی رپورٹ پر کنٹرول روم کے ڈیٹا پرتحقیقاتی تجزیہ کرکے اہم نتائج مرتب کیے۔

جس کابنیادی مقصدآئل ٹینکراُلٹنے کے حادثات کی روک تھام اور ان میں کمی لانے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی بنانا ہے۔

گذشتہ اڑھائی سالوں پر محیط اس تحقیق میں آئل ٹینکر حادثات کاتجزیہ،خطرناک جگہوں کی نشاندہی،ہنگامی تیاری کی سطح،بنیادی وجوہات،آئل ٹینکرکمپنیوں کے درمیان حادثات کی شرح،نتائج و مشاہدات،اصلاح، تجاویز وسفارشات شامل ہیں۔

 25جون2017کو بہاول پور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں ایک آئل ٹینکر اُلٹنے کا حادثہ پیش آیا،

Oil tanker
Oil tanker

جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر آئل پھیل گیااور اچانک المناک آگ کی وجہ سے تباہ کُن دھماکہ ہواجس کے باعث 200سے زائد افراد کی قیمتی جانوں کا نقصان اُٹھانا پڑا۔

1جنوری2017سے 25جون 2020تک ضلع رحیم یارخان میں اسی طرح کے 51آئل ٹینکراُلٹنے کے حادثات ہوئے،

تحصیل رحیم یارخان میں 17،صادق آباد میں 12،خان پور میں 10اور لیاقت پورمیں 12حادثات شامل تھے۔ان حادثات کی وجوہات میں 16 غفلت وبے احتیاطی پر،21ڈرائیور وں کو اونگھ آنے پر،6میکینکل خرابی،2موسمی خرابی اور6خستہ حال سڑکوں کے باعث پیش آئے۔

ان حادثات کے باعث زخمی ہونے والے افراد میں ناصرف آئل ٹینکرز کا عملہ اور دیگر لوگ شامل تھے بلکہ بہت بڑے پیمانے پرمالی نقصان بھی ہوا۔33زخمی افراد میں سے 9افراد کوموقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی،22شدید زخمی افراد کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیااور 2شخص موقع پر جاں بحق ہوئے۔

جن کمپنیوں کے آئل ٹینکرز حادثات کا شکار ہوئے ان میں پاکستان سٹیٹ آئل کے31،حیسکول کے4،این ایل سی2،فلیم ایبل 2،نجی اور دیگرکے12آئل ٹینکرشامل تھے۔

Oil Tanker incidents Report
Oil Tanker incidents Report

شرح کے مطابق 61فیصدخطرناک حد تک پی ایس او کے آئل ٹینکرز شامل تھے۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عبدالستاربابرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان حادثات کی بنیادی وجوہات کی تحقیق پرمشاہدات و نتائج کی روشنی میں گہرا تجزیہ کرنے کے بعد مستقبل میں ایسے خطرناک حادثات کی روک تھام پر اقدامات اُٹھانے اوراہم وجوہات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اکثرآئل ٹینکرز پر اوگرا قوانین کے خلاف ایک ہی ڈرائیورپایا گیا

قوانین کے مطابق کم ازکم2ڈرائیور لازم ہیں جوتھکاوٹ ہونے پرتبدیل ہوسکیں۔آئل ڈسٹری بیوشن کمپنیاں معیاری آئل ٹینکرز کے استعمال کی بجائے،غیرمعیاری اورتیسرے فریق کے کم قیمت آئل ٹینکرز کے ذریعے آئل سپلائی کرتی ہیں۔

غیر تربیت یافتہ ڈرائیورز،بنیادی حفاظتی علم کی کمی،عام گاڑیوں اورآئل ٹینکرزکے درمیان تیکنیکی معلومات کے نہ ہونے کے باعث آئل ٹینکرز کے اُلٹنے کے حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ مشاہدہ کیا گیا۔

آئل ٹینکرعملے کوایمرجنسی سروسز کے پہنچنے سے پہلے حادثات سے نمٹنے کے لیے کسی قسم کی تربیت فراہم نہیں کی گئی۔

آئل ٹینکر چلانے والے ایکسل لوڈ مینیجمنٹ کے قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہیں،بھاری آئل ٹینکرز میں 3کی بجائے 2ایکسل استعمال کئے جارہے ہیں جوکہ ڈرائیونگ کے دوران توازن بگڑنے کے باعث ایسے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔

ڈرائیورز غیرذمہ دارانہ روئیے کے باعث خلاف ورزی کا ارتکاب کرتے ہیں،آئل ٹینکرز میں زائد وزن ہونے کے باوجود تیز رفتاری اور دوسری گاڑیوں کو ممنوعہ سمت سے اوورٹیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں

نتیجے کے طورپرتوازن برقرار نہ رکھنے کے باعث اُلٹ جاتے ہیں۔ان حادثات سے قومی شاہراہوں پر ٹریفک کے روانی میں رکاوٹ کی وجہ سے عوام کو شدید تکلیف وپریشانی کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

رحیم یارخان میں نسبتاََ ایسے حادثات کی شرح غالباََ اسی وجہ سے بہت زیادہ ہے کہ آئل ٹینکرڈرائیورز کراچی سے آتے ہوئے رحیم یارخان پہنچنے پر بہت زیادہ جسمانی و ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں اور اونگھ آنے پرحادثہ کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے آئل ٹینکرحادثات کے دوران ریسکیو1122کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ اُلٹے ہوئے آئل ٹینکر کو سیدھا کرنے کے لیے بھاری کرین اورپھیل جانے والے آئل کو مناسب طریقے سے انڈیلنے والی مشینری کی غیر دستیابی شامل ہیں۔

ان آلات و مشینری کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ریسکیوآپریشن میں تاخیر ہونے کے باعث گھنٹوں قومی شاہراہ ٹریفک کے لیے بندہوجاتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالستاربابر نے مستقبل میں آئل ٹینکرحادثات کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں اور بڑے پیمانے پر مالی نقصانات سے بچنے کے لیے تجاویز دیتے ہوئے بریف کیاکہ اوگرا قوانین کے مطابق آئل ٹینکرپرطویل سفرکے لیے کم ازکم 2ڈرائیورز ہوں تاکہ ایک ڈرائیور تھکاوٹ سے چکناچورہونے کی صورت میں متبادل ڈرائیور ڈرائیونگ کرسکے۔

ضلعی پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن قومی شاہراہ کی دونوں اطراف میں ضلعی حدود کے اندر کم ازکم دو مقامات پر بھاری کرین اورحفاظت کے ساتھ آئل منتقل کرنے والی مشینری ہفتے کے ساتوں روز 24گھنٹے تعینات رکھے۔

ضلعی پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن تمام آئل ٹینکر ڈرائیورز کے لیے سیفٹی تربیتی کورسز منعقد کروائے اور آئل ٹینکرز میں فائرفائٹنگ آلات کی تنصیب کو یقینی بنائے۔

ضلعی پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن بیک اپ ڈرائیور کی موجودگی کو اوگرا قوانین کے تحت یقینی بنائے۔تمام ڈرائیورزطویل سفرکے دوران ڈرائیونگ کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ ہمراہ رکھیں۔ضلعی انتظامیہ ڈرائیورز کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی صورت میں سخت کاروائی عمل میں لائے۔

آئل ڈسٹری بیوٹرز اوگرا قوانین کے مطابق معیاری آئل ٹینکرز میں آئل سپلائی کریں اور غیر معیاری و تیسرے فریق کے آئل ٹینکرز کی خدمات حاصل کرنے سے گریز کریں۔

ڈرائیورز کو خصوصی تربیت اور ٹریلر کی قسم کی بھاری گاڑیوں کو چلانے اور توازن برقرار رکھنے کی تیکنیکی معلومات کے لائسینس کا حصول لازمی قرار دیں اوران کے پاس حادثات سے نمٹنے کا تربیتی سرٹیفکیٹ موجود ہو۔ایکسل لوڈ منیجمنٹ پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہئے،موٹروہیکل ایگزامینر سے فٹنس سرٹیفکیٹ کاحصول اور ہر سال اس کی تجدیدلازم ہونی چاہئے،

اگرکسی آئل ٹینکرپر اس کی خلاف ورزی ہو تو اسے شاہراہ پر آنے پرپابندی ہونی چاہئے۔اگر کوئی ڈرائیورڈرائیونگ کے دوران غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہوا پایا جائے توناصرف اسکا ڈرائیونگ لائسنس معطل کردینا چاہئے بلکہ انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے نیاقانون بناکر آئل ٹینکر کے مالکان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جانا چاہئے۔

باقاعدگی سے متعلقہ انجمنوں،محکموں جن میں ضلعی آئل ٹینکر ایسوسی ایشن،پولیس،نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس اور ریسکیو سروسز شامل ہوں فرضی مشقوں کا انعقاد کرنا چاہئے،ان میں جائے حادثہ کو محفوظ بنانے،حفاظت کے ساتھ آئل کی منتقلی،کرین کی مدد سے آئل ٹینکر کو سیدھا کرکے روانہ کرنے اور پھیلے ہوئے آئل کو محفوظ طریقِ کار سے ڈھانپنے کی مشقیں کی جائیں۔

ضلعی آئل ٹینکر ایسوسی ایشن ہمہ وقت بھاری کرین کی دستیابی کو یقینی بنائے تاکہ کسی بھی دقت یا وقت کے ضیاع کے بغیر ریسکیوآپریشن مکمل کیا جاسکے۔اگر ضروری ہوتوضلعی آئل ٹینکر ایسوسی ایشن اُلٹے ہوئے آئل ٹینکرسے آئل کی منتقلی کے لیے سکشن پمپ مشین کی دستیابی کو یقینی بنائے۔

ریسکیو1122کو یقین ہے کہ اگر آئل ٹینکر حادثات پرمناسب طریقے سے قابونہ پایا گیا تواحمد پور شرقیہ کی طرح کے المناک واقعات رونما ہونے کا خدشہ ممکن رہے گا۔عملی طورپر ان سفارشات پر عمل درآمد کرنے سے آئل ٹینکر حادثات میں کمی لائی جاسکتی ہے اور یہ صحت مند و محفوظ معاشرے کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔ عدنان شبیر(میڈیا کوارڈینیٹر)ریسکیو1122رحیم یارخان

Oil Tanker Incidents

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close