fbpx

ضلعی انتظامیہ نے کشتیاں چلانے والوں کی مشکل میں اضافہ کر دیا

رحیم یارخان : عدالت کی جانب سے حکم امتناعی جاری ہونے کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کشتیاں چلانے پر پتن کا ٹیکس وصول کرنے کیخلاف موضع چوہدری کے درجنوں اہلیان علاقہ غریب کاشتکاروں نے چند روز قبل احتجاج کیا تھا جس کی رنجش پر انفورسمنٹ آفیسر نے عدالتی سٹے آرڈر کے باوجود بھی 40/50 مقامی غریب کاشتکاروں پر مقدمہ درج کر دیا
جس پر اہلیان علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 1997ء کے بعد پتن کے تمام ٹھیکے ختم کر دئیے تھے‘ پورے پاکستان میں دریائی علاقوں پر مختلف مقامات پر کاشتکاروں نے زرعی سازوسامان اور زرعی آلات کو ایک سے دوسرے کنارے منتقل کرنے کیلئے کشتیاں چلانے کے لئے پتن بنا رکھے ہیں کہیں پر بھی اس کا ٹھیکہ جاری نہیں ہوا جبکہ تحصیل خان پور میں اس غیر قانونی ٹھیکے دے دیا گیا جوکہ یہ مقامی غریب کاشتکاروں کے ساتھ زیادتی ہے‘پتن کا ٹھیکہ تب ہوتا ہے جب کشتی کو کمرشل استعمال کیا جائے بینظیر برج بننے کے بعد کمرشل کشتیاں چلنا بند ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل دریائے سندھ عبور کرنے کیلئے پل نہیں تھا تو ضلع راجن پور اور ضلع رحیم یار خان کے لوگ کمرشل کشتیوں پر سفر کر کے آر پار آنے جانے کے لئے کرایہ دیتے تھے تب یہ پتن منظور تھا اور کمرشل کشتیوں والے باقاعدہ ضلعی انتظامیہ کو ٹیکس بھی دیتے تھے لیکن حال ہی میں ضلعی انتظامیہ نے بغیر نوٹس اور اعلان کے خاموشی سے موضع چک فیض‘چک احمد یار‘ احمد کڈن‘ گدپور‘ واگہوان اور مڈعادل وغیر پر پتن کا ٹھیکہ ایک ٹھیکیدار کو دیا ہے‘ٹھیکہ ملنے پر اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ ٹھیکیدار کو ٹھیکہ ملتے ہی اس نے لوٹ مار مچانا شروع کردی‘ نوٹیفکیشن میں صرف 20 روپے سواری کا اندراج ہے جبکہ زور زبردستی موٹرسائیکل 50‘ کار 400‘جبکہ ٹریکٹر کا 1200 روپے کا بورڈ آویزاں کر دیا ہے۔ اہلیان علاقہ نے مبینہ غیرقانونی ٹھیکے کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی بھی لیا ہوا ہے جس کی رنجش پر انفورسمنٹ آفیسر نے 40 سے 50 مقامی غریب کاشتکاروں پر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر دیا ہے۔ احتجاج کے دوران اہل علاقہ کا مزید کہنا تھا کہ کچے کے کاشتکار دریا کے ایک سے دوسرے کناروں اور اپنے دریائی زرعی رقبوں پر آنے جانے کیلئے کشتیاں استعمال کرتے ہیں اور ان پر زرعی آلات لاد کر فصل کاشت کرنے کیلئے آتے جاتے ہیں‘ کاشتکاری کے سازو سامان اور زرعی آلات ایک سے دوسری جانب لے جانے کیلئے استعمال ہونے والی کشتیوں کا ٹھیکہ نہیں ہوتا‘ یہ غریب کاشتکاروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے‘ کاشت کار پہلے بھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید مالی بحران کا شکار ہیں ضلعی انتظامیہ تعاون نہیں کررہی‘ متاثرین نے احتجاج کے دوران حکام بالا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کیخلاف جھوٹا مقدمہ خارج کر کے پتن پر ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ ختم کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »