fbpx
پیپلزپارٹیرحیم یارخان

بلاول بھٹوزردری کا جلسہ نہایت اہمیت کا حامل ہے,احمد محمود

سیاسی شخصیات کی بیماریوں کا مذاق نہ اڑایا جائے،احمد محمود

رحیم یارخان پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر اور سابق گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی ماحول کے حوالے سے رحیم یارخان میں بلاول بھٹوزردری کا جلسہ نہایت اہمیت کا حامل ہے،

عمران خان کی کوشش ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرے مگر عوام اور انکے فالورز کے لیے دعا ہے کہ حکومت مدت پوری کرے،

سیاسی شخصیات کی بیماریوں کا مذاق نہ اڑایا جائے،

ان خیالات کا اظہار انہوںنے گزشتہ روز جمالدین والی میں مشاورتی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب بھی رحیم یارخان آتے ہیں ہمیں نئی توانائی دے جاتے ہیں ،

وہ پاکستان کی نمائندگی کا حق ادا کریگا، مریم بی بی سلاخوں کے پیچھے، نواز شریف بیمار، زرداری ودیگر اہم سیاسی شخصیات بغیر کسی وجہ کے جیلوں میں ڈال دیے گئے ہیں، آنے والے حالات نہایت گھمبیر ہونگے، عوام مایوسی کا شکار ہیں، سیاسی جراثیم رکھنے والے افراد مایوس ہیں، پاکستان کی اسمبلی، عدلیہ ،قانون بلکہ ہرطبقہ مایوس ہے جس کامعیشت میں کردار تھا، اللہ سب خیر کرے کہ نجانے ہم کس طرف جارہے ہیں، میڈیا کردار اداکرسکتاہے وہ ملکی حالات کی بہترین عکاسی کرسکتا ہے ، حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے اسکا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، زور آور ی اور طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے،

عمران خان کو میڈیا کے توسط سے پیغام ہے آزادی مارچ ودیگر مسائل کو سیاسی طورپر حل کرے ،انتظامی معاملات سے حالات خراب ہونے کا امکان ہے،انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی آزادی مارچ کا ساتھ دے گی مگر ابھی تک لائن آف ایکشن نہیں ملا، پارٹی کی پالیسی کے مطابق عملدرامد کیا جائیگا۔

مڈٹرم الیکشن کا کچھ کہہ نہیں سکتے، حالات کسی بھی لمحے تبدیل ہوسکتے ہیں، عمران خان سے حالات بگڑ رہے ہیں سنبھل نہیں رہے، ان سے کے پی کے کی میٹرو نہیں بن پارہی تو مکمل کس طرح چلا ئیں گے۔

مولانا فضل الرحمن کی سیاسی طاقت سے ہم سب واقف ہیں ،انکا اثر ہر حلقہ میں ہیں،ہرجگہ پر انکے فالورز ہیں سیاسی قیادت کا مذاق نہ اڑایا جائے، آزادی مارچ کو طاقت سے روکا گیا تو مزید حالات خراب ہونگے، انتظامیہ کو ملوث نہیں کرنا چاہیے،

عمران خان کی جگہ میں ہوتا تو اس مسلہ کو سیاست سے حل کرتا۔ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بھرپور اپوزیشن کی جارہی ہے، ن لیگ، پیپلز پارٹی سمیت دیگر تمام جماعتیں اپوزیشن کا بھرپور کردار اداکررہے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو آرام کرتے نہیں دیکھا میرا مشورہ ہے کہ وہ کچھ آرام کرلیں تاکہ تازہ دم ہوکر مزید بھر پور انداز سے سیاسی جدوجہد کو جاری رکھ سکیں کیونکہ انہوںنے بلاول جیسا متحرک کوئی سیاست دان نہیں دیکھا،

مجھے افسوس ہوا کہ نواز شریف کی طبیعت ناسازی پر سیاست کی جارہی ہے ،پہلے کلثوم بی بی کی بیماری کا مذاق اڑایا گیا وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں ، زرداری سمیت دوسری شخصیات کی بیماریوں کا مذاق اڑایا جارہاہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، مریم اور بلاول ہی ایسی سیاسی شخصیات ہیں جو آئندہ ملک میں سیاسی بحرانوں پر قابو سکیں گے۔

بلدیاتی الیکشن اللہ کرے ہوجائے سپریم کورٹ کا بھی فیصلہ ہے مگر یہ حکومت بلدیاتی الیکشن کس منہ سے کرائے گی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی یکم نومبر کو رحیم یارخان پہنچ رہے ہیں ،جن کے استقبال اور جلسہ کی تیاریوں کے سلسلہ میں ڈویڑن سطح کے عہدیداران سے مشاورتی میٹنگ کی گئی ہے۔ تمام انتظامات مکمل کرکے جلسہ کو بھرپور کامیاب کرایا جائیگا۔

مشاورتی اجلاس اور میڈیا ٹاک کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے مخدوم عثمان محمود، غضنفر لنگاہ،میاں اسلم، رانا طارق محمود، عبدالقادر شاہین، ڈویڑنل صدر سابق ایم پی اے چوہدری جاوید اکبر ڈھلوں، ضلعی صدر سردار حبیب الرحمن خان گوپانگ، ضلعی جنرل سیکرٹری چوہدری جہانذیب، ضلعی انفارمیشن سیکرٹری مرشد سعید ناصر،نائب صدر جنوبی پنجاب خواجہ رضوان عالم ، راجہ سولنگی ،جاوید حسن داد ،خالدہ مغل، رضوانہ سعید، جام مختیار ودیگر جبکہ لائرز فورم، پی وائی او، پی ایس ایف سمیت پارٹی کے دیگر عہدیداران وکارکنان کثیر تعداد میں موجود تھے۔

 
a

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close