پیٹرول پمپ مالکان نے افسران کو ماموں بنا دیا

پٹرول پمپس کے پیمانے چیک کرنے کی بجائے محکمہ انڈسٹریزحکام سب اچھاکی رپورٹ دینے لگے‘ پٹرول پمپس مالکان نے کم پیمانے والے یونٹ چیک کرانے کی بجائے ٹھیک یونٹ دکھاکرافسران کو”ماموں“ بنانامعمول بنالیا‘ عوام زائدنرخ پرپٹرولیم مصنوعات خریدنے پرمجبور‘ پیمانے کی کمی سے سفری مسائل شدت اختیارکرگئے‘ پٹرول پمپس مالکان کے خلاف انتظامیہ کارروائی سے گریزاں‘ عوام لٹنے پرمجبورہوگئی۔

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ برابری پرکیاجاتاہے جوپورے ملک میں ایک نرخ پردستیاب ہوناچاہئے لیکن بدقسمتی سے ضلع رحیم یارخان میں بااثرسیاسی وکاروباری شخصیات کے قائم پٹرول پمپس پرسرکاری نرخ سے اڑھائی روپے زائدقیمت پرپٹرولیم مصنوعات کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے جس کی شکایات کے باوجودضلعی انتظامیہ‘ سول ڈیفنس‘ محکمہ انڈسٹریز‘ محکمہ لیبرسمیت دیگرادارے پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں‘ ذرائع کے مطابق زائدنرخ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس مالکان نے پیمانے میں ہیراپھیری عروج پرشروع کررکھی ہے جس سے شہریوں کوسفری مسائل کاسامناہے‘ ذرائع نے بتایاکہ ہرپٹرول پمپ پرکم پیمانے والے ایک سے دویونٹ ہوتے ہیں جہاں سیل زیادہ ہوتی ہے جبکہ پیمانے چیک ہونے کے دوران محکمہ انڈسٹریزحکام کوٹھیک حالت میں موجودیونٹ دکھاکر”ماموں“ بنادیاجاتاہے جومبینہ طور پرمنتھلی نظام کے تحت سب اچھاکی رپورٹ دیتے ہیں‘

ذرائع کے مطابق پٹرولیم ایسوسی ایشن بھی انتظامیہ کو”خوش“ کرکے ریلیف حاصل کررہی ہے جبکہ عوام لٹنے پرمجبور ہیں‘ شہری وسماجی حلقوں نے شدیدغم وغصہ کااظہار کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان‘ چیف جسٹس آف پاکستان‘ سیکرٹری پٹرولیم‘ وزیراعلی پنجاب‘ کمشنربہاولپورسمیت دیگرحکام سے فوری نوٹس لے کراصلاح واحوال کامطالبہ کیاہے جبکہ محکمہ انڈسٹریزکے افسربلال نے بتایاکہ عوامی شکایات پرکارروائیاں کی جارہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »