انسداد پولیو مہم25مارچ سے شروع ہوگی،ڈی سی

ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل نے کہا ہے کہ پولیو وائرس کے احتمام کا یکسر خاتمہ کریں گے اس سلسلہ میں وفاقی و صوبائی حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے ،
حکومت پنجاب کی پہلی ترجیح صوبہ سے پولیو وائرس کا خاتمہ ہے اور ضلعی کارکردگی بھی پولیو کی کامیاب مہم سے مشروط کر دی گئی ہے جس کے لئے نہ صرف محکمہ ہیلتھ بلکہ تعاون کرنے والے اداروں اور والدین کا تعاون بے حد ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے25مارچ سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ دنیا سے مقابلہ کرنے والے ملک پاکستان کا موازنہ پولیو کی وجہ سے افغانستان کے ساتھ کیا جا رہا ہے ہم نے اس موذی مرض کو ختم کرکے اقوام عالم میں پاکستان کا نام اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ کمزور نتائج کی حامل یونین کونسل کی نہ صرف نشاندہی کرے بلکہ تجاویز بھی فراہم کرے ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہماری کوششوں سے کوئی ایک بھی بچہ عمر بھر کی معذوری سے محفوظ ہو گیا تو دنیا و آخرت میں ہماری نجات کا ذریعہ ہے یہ انسانیت کی خدمت ہے اسے ڈیوٹی سمجھ کا نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح پر ہونے والے فیصلوں کی نچلی سطح تک منتقلی نہایت ضروری ہے کیونکہ فیلڈ سٹاف اس مہم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ان کا اپنے فرائض سے سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیو مہم میں تعاون کرنے والے اداروں اور این جی اوز کا بھی کلیدی کردار ہے تمام ادارے اور این جی اوز کے نمائندگان بھی فیلڈ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں اور ان میں بہتری کے لئے اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کریں۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سخاوت رندھاوا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 25تا27مارچ تک ہونے والی انسداد پولیو مہم ضلع کی مخصوص یونین کونسلز میں منعقد کی جا رہی ہے جس کی مجموعی تعداد 56ہے جس میں16رحیم یار خان، 29صادق آباد، 4خانپور اور7لیاقت پور کی یونین کونسلز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران 4لاکھ81ہزار281پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے 936موبائل ٹیمیں، 114فیلڈ ٹیم، 73ٹرانزٹ پوائنٹس پر موجود ہوں گی جس کی مانیٹرنگ کے لئے62یو سی ایم اوز اور224ایریا انچارجز مقرر کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ پوائنٹس پر پولیس اور موٹر وئے پولیس کی موجودگی کو یقینی بنایاجائے تاکہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔
ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر یاسر نواز نے بتایا کہ رواں سال افغانستان اور پاکستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے 4پاکستان اور2افغانستان میں ہیں جبکہ صوبوں کے مختلف اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جس کے لئے انسداد پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے۔محکمہ اوقاف کے خطیب قاضی خلیل الرحمن نے تجویز دی کہ وہ انسداد پولیو مہم کے سلسلہ میں ضلع بھر کی مساجد میں زیر تعلیم طلباء کی آگہی کے لئے سیمینار کا انعقاد کریں گے تاکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلم اپنے گھروں میں انسداد پولیو مہم کی اہمیت کو اجاگر کر سکیں۔
چوہدری عبدالخالق شاکر نے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے فیلڈ سٹاف کی تربیت و آگہی سے متعلق ضرورت کو سراہتے ہوئے کہا کہ نچلی سطح پر یہ پیغام جس بہتر انداز سے پہنچایا جائے گا تو مہم کو نتائج بہتر سامنے آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »