fbpx

رحیم یارخان میں 22ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ،ڈپٹی کمشنر

رحیم یار خان:ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ انسداد پولیو اہداف کے حصول کےلئے سخت محنت کرنا ہو گی،ہر بچے کو معذوری سے بچانا ہمارا قومی و مذہبی فریضہ ہے۔یہ بات انہوں نے ضلعی انسداد کمیٹی برائے پولیو کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈاکٹر جہانزیب حسین لابر، سی ای ا وہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر سخاوت علی رندھاوا، ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان سمیت تعاون کرنے والے اداروں کے افسران موجو د تھے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہمار ے ضلع کی تحصیل صادق آباد کے علاقہ احمد پور لمحہ میں22ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے تاہم متاثرہ بچی کو پیدائش سے تاحال ہونے والی تمام پولیو مہمات میں پولیو ٹیموں کی جانب سے حفاظتی قطرے پلائے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ریجن اور ملحقہ اضلاع گھوٹکی، کشمور، راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں بھی پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے سدباب کے لئے محکمہ ہیلتھ اور تعاون کرنے والے اداروں کو مزید ذمہ داری اور محنت سے کام کرنا ہو گا

 پانچ سال سے کم عمر کوئی بچہ پولیو سے بچاﺅ کی ویکسین پینے سے محروم نہ رہے اس سلسلہ میں تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اپنی تحصیلوں کے علماءکرام، عمائدین علاقہ سے مسلسل رابطہ میں رہیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ مشترکہ کوششوں سے ہم اس موذی مرض کو پاکستان سے ختم کرنے میں کامیاب ہوں۔

انہوں نے محکمہ ہیلتھ کو حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی اور 21ستمبر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کی مانیٹرنگ اور بہتر انتظامات کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈاکٹر جہانزیب حسین لابر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل) شیخ محمد طاہر اور محکمہ صحت کے افسران پر مشتمل نگران ٹیم تشکیل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کمیٹی ہر زون کے مائیکروپلان کا از سر نوجائزہ لے گی اور مانیٹر نگ کے میکنزم کو بہتر بنائے گی۔

انہوں نے حساس یونین کونسل کی درجہ بندی اور ان پر خصوصی توجہ دینے کے احکامات بھی جار ی کئے۔قبل ازیں سی ای ا وہیلتھ ڈاکٹر سخاوت علی رندھاوا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تحصیل صادق آباد کے علاقہ احمد پور لمحہ سے22ماہ کی بچی فاطمہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے متاثرہ بچی کو ڈائریا کی شکایت پر ٹی ایچ کیو ہسپتال صادق آباد لایا گیا

جہاں پر موجود ڈاکٹر کو شک ہونے پر اس نے بچی کا (پاخانہ) پولیو وائرس کے ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھجوایا جہاں پرلیبارٹری رپورٹ کے مطابق بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیو وائرس کا شکاربچی کو پیدائش سے تاحال 7سے زائد مہمات میں پولیو ٹیموں نے حفاظتی ویکسین کے قطرے پلائے جس کا تمام ریکارڈ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ الحمداللہ پولیو وائرس کی تصدیق ہونے والی بچی صحت مند اور معذوری سے محفوظ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 21تا 25ستمبر2020ءتک جاری رہنے والی انسداد پولیو مہم میں ضلع بھر کے 9لاکھ70ہزار 565پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کی حفاظتی ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے 1972موبائل ٹیمیں، 238فکسڈ ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں جبکہ مانیٹرنگ کےلئے 136یو سی ایم او اور478ایریا انچارج اپنے فرائض سر انجام دیںگے۔اجلاس میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ نے بتایا کہ پاکستان میں رواں سال پولیو کے72کیس سامنے آ چکے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »