گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی مصنوعی اضافہ

price-hike rahim yar khan news

رحیم یارخان (عبدالقدوس )چینی کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی مصنوعی اضافے پر عوام کے ساتھ ساتھ’’ بزدار حکومت ‘‘ بھی چیخ اُٹھی ، وفاقی حکومت کی تجارتی پالیسیوں پر شدید احتجاج ، ایکسپورٹ پالیسی کے ایشو پر وفاق اور پنجاب ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ، پہلے پنجاب حکومت کا چینی کی برآمد روکنے کا مطالبہ مسترد کیا گیا تو شوگر پرائسز آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، اب وزیراعلیٰ بزدار کی حکومت نے گندم کی ایکسپورٹ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تو وفاق نے اس انتہائی دردمندانہ مشورے کو بھی انتہائی سختی سے رد کر دیا جس کی وجہ سے ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتیں ڈیڑھ سو روپے من تک بڑھ جانے کی وجہ سے 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ، پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق ملک میں گندم اور آٹے کی تیزی کے ساتھ بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سوموار 7 مئی کووفاقی وصوبائی بیوروکریٹس کے اہم مشترکہ اجلاس میں پنجاب کے سیکرٹری فوڈ نسیم صادق نے گندم کی برآمد پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا لیکن وفاقی حکومت نہیں مانی، اْلٹا وفاقی سیکرٹریز نے پنجاب میں گندم خریداری آپریشن میں صوبائی حکومت کو ناکام قرار دیکر انہیں جھاڑ پلا دی، ذرائع کا کہنا ہے گندم و آٹا مافیا طورخم ، چمن ،غلام خان، انگوراڈہ سمیت مختلف بارڈر کراسنگز کے ذریعے روزانہ ایک لاکھ تک تھیلے افغانستان بھجوا کر 200 روپے من کا جادوئی منافع کما کر کروڑوں روپے بنا رہا ہے،اس تشویشناک صورتحال کی وجہ سے ملک کے مختلف ایریاز میں گندم کی اوپن مارکیٹ قیمت میں دو تین ہفتوں کے دوران ڈیڑھ سو روپے فی چالیس کلو گرام سے زائد کا حیران کن اضافہ ہو چکا ہے اور پچھلے ماہ کے شروع میں غلہ منڈیوں میں ساڑھے گیارہ سو روپے من بکنے والی گندم اس وقت 1325 سے 1375 روپے فی چالیس کلو گرام میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ آٹے کی قیمت بڑھ کر 1500 سے 1600 روپے فی چالیس کلو گرام تک پہنچ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت ڈیڑھ ماہ کے دوران تیسری بار چینی کی ایکسپورٹ بند کر کے عوام کو سستی چینی فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے لیکن وفاقی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، اس عجیب وغریب صورتحال کی وجہ سے شہروں میں چینی 65 روپے فی کلو اور دیہات میں 70 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے،27 اپریل کوایوان وزیراعلیٰ میں منعقدہ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکوچینی کی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں چینی کے ذخائر 10 لاکھ ٹن سے زائد ہیں اور یہ چینی ملکی ضروریات سے بھی وافر ہے اس کے باوجود وہ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہے کہ ملک میں چینی کے ذخائر وافر ہونے کے باوجود اس کا ریٹ ڈیڑھ ماہ کے دوران 15 سے 20 روپے فی کلو بڑھ کیوں گیا ہے؟۔۔۔کاشتکار تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے چینی کی قیمت تو تیزی کے ساتھ بڑھ جاتی ہے لیکن گنے کے ریٹ پر کوئی فرق نہیں پڑتا جو پچھلے پانچ برسوں سے 180 روپے من پر رکا ہوا ہے ، کسانوں کی نمائندہ تنظیمیں اس حوالے سے بھی سوالات اْٹھا رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے پانچ سالوں کے دوران چینی کا ریٹ 50 روپے کلو پر مستحکم رہا لیکن تبدیلی سرکار کے آتے ہی چند ماہ کے اندر اس میں سونامی سپیڈ سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، پہلے چینی کے ریٹ نے سونامی سپیڈ پکڑی اب آٹے اور گندم کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ جس اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ملک میں چینی کے انتہائی وافر ذخائر کے بارے میں ’’سب اچھا ‘‘ کی بریفنگ دی گئی اس میں صوبائی وزرا ء سمیع اللہ چوہدری ، نعمان احمد لنگڑیال،مشیر وزیراعلیٰ چوہدری اکرم ، چیف سیکرٹری ، آئی جی پنجاب ، کمشنر لاہور ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر سینئر بیوروکریٹس نے شرکت کی تھی ، اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا تھا کہ چینی کی قیمت میں بلاجواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پنجاب حکومت چینی کی قیمت میں استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی،کسی کو اس سلسلے میں من مانی نہیں کرنے دیں گے۔انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ چینی کی قیمت میں بلاجواز اضافہ روکنے کے لیے ہر آپشن استعمال کیا جائے گا ، انہوں نے ہدایت کی تھی کہ متعلقہ محکمے چینی کے نرخوں میں استحکام کے لیے اقدامات اٹھائیں، اس دوٹوک وارننگ کے باوجود سرکاری مشینری اور چینی ، گندم وآٹے کے ذخیرہ اندوز اور مافیاز کنٹرول میں نہیں آ رہے اور پہلے چینی کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کاڈاکہ مارا گیا اب گندم اور آٹے کی قیمت بڑھانے کا 10سالہ ریکارڈ توڑ دیا گیا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن پر تنقید کی جاتی تھی کہ اُن کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے لیکن چینی اور آٹے کے حوالے سے تو صورتحال یہ ہے کہ اس کی قیمت میں اتناظالمانہ اضافہ پچھلے دس سال میں نہیں ہوا ، جتنا تبدیلی سرکار کے آٹھ مہینے میں ہو گیا ہے ..

price-hike rahim yar khan news

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close