اداروں اوراساتذہ کو ”مافیا“کا نام دینا اس مقدس پیشہ کی توہین ہے

رحیم یار خان:ملک میں تقریباً2لاکھ سے زائد پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے65%سے زائد تعلیمی بوجھ اٹھایا ہوا ہے جبکہ تقریباً15لاکھ سے زائد تدریسی اور5لاکھ سے زائد غیرتدریسی سٹاف منسلک ہیں‘آبادی کا تناسب بڑھنے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ سیکٹر نے پرائمری اور سیکنڈری لیولز پر نئے ادارے نہ کھولے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے شرح خواندگی کو بڑھانے میں  حکومت کا بھرپور ساتھ دیا جسے بہ طریق احسن تاحال نبھایا جارہا ہے‘

ان خیالات کا اظہار پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن رحیم یارخان کے صدر محمد یٰسین رامے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ تمام تر ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے باوجود اس مقدس پیشہ سے وابستہ اور تعلیم عام کرنیوالے اداروں اوراساتذہ کو ”مافیا“کا نام دینا اس مقدس پیشہ کی توہین ہے حالانکہ ”مافیا“کا نام دینے والے مفاد پرست ٹولے کے بچے بھی انہی پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے  محدود وسائل کے اندربہترین تعلیم و تربیت‘ تدریسی و غیر تدریسی سٹاف کی تنخواہیں‘ بلڈنگز کے کرایہ جات‘ٹیکسزکا اضافی بوجھ‘یوٹیلٹی بلز(کمرشل)‘لوڈشیڈنگ کی صورت میں پاور جنریٹراور بلڈنگز کی مرمت وغیرہ کا اضافی بوجھ بھی شامل ہیں مزید یہ کہ تمام نجی ادارے پہلے ہی 10%فری کوٹہ اور مختلف سکالرشپس کی مد میں طلباء و طالبات کو مفت تعلیم مہیا کررہے ہیں جبکہ گورنمنٹ سیکٹر کی جانب سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی نہ تو کوئی مالی معاونت کی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی تکنیکی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ کم فیس وصول کرنے والے 85% پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایک ویلفیئر کی صورت میں کام رہے ہیں جن میں بچت کا عنصر انتہائی کم ہے۔

آخر میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن رحیم یارخان کے صدر محمد یٰسین رامے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب جلد تعلیمی پیکج کا علان کریں اور نجی تعلیمی اداروں کیلئے”ریلیف فنڈ“قائم کریں تاکہ کرونا وائرس سے ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران نجی اداروں سے منسلک سفید پوش اساتذہ اوردیگرسٹاف کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے نہ ہوں اورگورنمنٹ کے بنائے گئے تمام ایس او پیز کے مطابق نجی اداروں کو ایڈمن آفس کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ فیسوں کی وصولی اور اساتذہ ودیگرعملے کی تنخواہ فوری ادا کی جاسکے مزید یہ کہ سوشل میڈیا پرنجی اداروں کے خلاف غیرذمہ دارانہ بیانات کوبھی فوری بند کیا جائے۔

 
 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »