پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی مریم نواز کیلئے ” ونگار”

 رحیم یارخان: مسلم لیگ ن کا مریم نواز گروپ حکومت اور ریاستی اداروں پر جو پے در پے حملے کر رہا ہے ، تاجروں کی  ملک گیر شٹر ڈائون ہڑتال بھی اسی مجموعی جارحانہ گیم پلان کا حصہ ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ بے نامی جائیدادوں اور آمدنی سے زائد اثاثوں کیخلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر آپریشن کی جو تیاریاں کر رہی ہے اس کی وجہ سے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے سابق اور موجودہ ارکان اسمبلی اور بلدیاتی چیئرمین اپنے حامی تاجر وصنعتکار رہنمائوں کے ساتھ آگے بڑھ کر اس شٹر ڈائون ہڑتال کی قیادت کیلئے تیار نہیں ہو رہے تھے جس کی وجہ سے ضلع رحیم یارخان سمیت ملک بھر میں شٹر ڈائون ہڑتال کی ناکامی کا خدشہ پیدا  ہوگیا تھا ، اگر ایسا ہو جاتا تو اپوزیشن کے عمران خان مخالف بیانیئے کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ، اس نازک موقع پر مریم نواز گروپ نے پی ٹی آئی میں موجود ” اپنے لوگوں” سے رابطہ کر کے شٹر ڈائون کی قیادت کیلئے ” بندے” دینے کا مطالبہ کیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے ارب پتی تاجر وصنعتکار ” برادری” کے نام پر ایسی ” ونگاریں ” پہلے بھی دیتے آئے ہیں ، اور اس نئے معرکے میں بھی کپتان کے کھلاڑی پورس کے ہاتھی بن کر چوری چوری، چپکے چپکے، اپنی ہی حکومت کو کچلنے والی تحریک کا حصہ بن چکے ہیں ،

 ذرائع کا کہنا ہے مریم نواز گروپ کی  ” فرمائش”  پر غور کیلئے ڈیڑھ دو ہفتے قبل رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور سرکردہ رہنمائوں کا ایک اہم اجلاس لاہور میں منعقد ہوا اور شٹر ڈائون ہڑتال کیلیئے مسلم لیگ ن کے مریم نواز گروپ کو “ونگار” دینے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا ، اس مقصد کیلئے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری آصف مجید نے اپنے کزن چوہدری جاوید ارشاد ( قائم مقام صدر رحیم یارخان چیمبر آف کامرس ) ، رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ نے اپنے کزن چوہدری انوار احمد نجمی ( صدر انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی ) اور سرکردہ پی ٹی آئی رہنما چوہدری عبدالرئوف مختار نے اپنے بھتیجے چوہدری اسد غفار ( ضلعی صدر انجمن تاجران رحیم یارخان ) کو تاجروں کی حکومت مخالف تحریک کی قیادت کیلئے ” آگے” بڑھانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ان تینوں شخصیات نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کیخلاف تاجر برادی کو بھڑکانے اور شٹر ڈائون ہڑتال کے نام پر گلی گلی ، بازار، بازار وزیراعظم عمران خان کیخلاف آگ لگانے کی مہم کی قیادت سنبھال لی ہے ،  اس حوالے سے پہلا اجلاس 7 جولائی کو منعقد کیا گیا جس میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور سرکردہ رہنمائوں کے بھانجے ، بھتیجے ، کزن ، برادر اِن لا اور بزنس پارٹنرز مل کر پورے ضلع کی “شٹر پاور” کو ایک منظم حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی شکل دینے کیلئے سرگرم دکھائی دیئے ،

گذشتہ روز 8 جولائی 2019 کی رات المختار فلور ملز میں ضلع بھر کی تاجر برادری کا پہلے سے بڑا اجلاس منعقد کیا گیا اور  بے نامی جائیدادوں اور آمدنی سے زائد اثاثوں کیخلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مجوزہ آپریشن سے گھبرائے ہوئے تاجروں کو ” حوصلہ ” دے کر شٹڑڈائون ہڑتال پر آمادہ کرنے کیلئے بڑھکیں ماری گئیں ، یہ کہا گیا کہ ہمارے اثر ورسوخ کی وجہ سے ضلع رحیم یارخان میں یارڈ سٹک میں اضافہ  پورے صوبے میں  سب سے کم کیا گیا اور جب پورے ملک میں تجاوزات کیخلاف آپریشن ہوتا رہا رحیم یارخان واحد ضلع تھا جہاں تجاوزات کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا گیا اور آئندہ بھی اسی طرح تاجر برادری کا تحفظ کیا جائے گا ، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ خطاب کرنے والے ضلعی صدر انجمن تاجران یہ بھول گئے کہ رحیم یارخان میں یارڈ سٹک میں اضافہ  پورے صوبے میں  سب سے کم رکھنے کا معاملہ ہو یا  تجاوزات کیخلاف آپریشن کو رکوانے کا ایشو ہر دو معاملات میں پی ٹی ارکان اسمبلی چوہدری جاوید اقبال وڑائچ ایم این اے ، چوہدری آصف مجید ایم پی اے اور چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ ایم پی اے کے حکومتی اثر ورسوخ اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت کا بنیادی کردار رہا اس ” کامیابی ” کا حوالہ دے کر تاجروں کو حکومت کیخلاف سڑکوں پر آنے کا حوصلہ دینا ” اس گھر کو آگ لگ گئی ، گھر کے چراغ سے ” والا معاملہ ہے ، حکومت اور اداروں کو کمزور اور اپنی “ذاتی پاور” کو طاقتور ثابت کرنے کیلئے چوہدری اسد غفار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکمران  شٹر ڈائون بڑتال کیلئے ان کے طوفانی رابطوں سے گھبرا گئے ہیں اور انہیں ایجنسیوں اور انتظامیہ کی طرف سے فون آ رہے ہیں ، چوہدری اسد غفار کا کہنا تھا کہ ابھی تو شٹرپاور حرکت میں آئی ہے تو ” اُن” کی گھبراہٹ کا یہ عالم ہے تو جب ہڑتالیں شروع ہو جائیں گی تو وہ کس طرح ہماری بات نہیں مانیں گے ،

( اسد غفار کے خطاب کی ویڈیو)؎

 سابق ن لیگی دور حکومت میں شٹر ڈائون ہڑتالیں عام طور پر بڑی مارکیٹوں میں زیادہ زور دار ہوتی تھیں اور گلی محلوں اور چوک ، چوراہوں کی دوکانیں عمومی طور پر کھلی رہتی تھیں تا کہ عام آدمی کو روزمرہ سودا سلف کی خریداری میں تکلیف نہ ہو اور گلشن  کا کاروبار بھی چلتا رہے لیکن اس بار چوہدری اسد غفار نے اپنے  خطاب میں یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ شہروں کے دوردراز چوک ، چوراہوں اور قصبوں میں موجود دوکانیں بھی بند کروائیں گے اور اس سلسلے میں انہوں  نے طوفانی دورے شروع بھی کر دیئے ہیں ۔

دلچسپ بات یہ  ہے کہ  پی ٹی ارکان اسمبلی چوہدری جاوید اقبال وڑائچ ایم این اے ، چوہدری آصف مجید ایم پی اے اور چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ ایم پی اے کا گروپ ” فرینڈز بزنس فورم”  پچھلے کئی سالوں سے رحیم یارخان چیمبر آف کامرس ، انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی ، ضلعی انجمن تاجران ، ضلعی انجمن کریانہ ایسوسی ایشن ، ضلعی فلور ملز ایسوسی ایشن سمیت تمام تاجر تنظیموں کا الیکشن جیتتا آ رہا ہے اور روایتی طور پر یہ گروپ پاکستان تحریک انصاف کے حامی تاجروں کا گروپ کہلاتا ہے ، جبکہ اس کا مخالف گروپ ” فائونڈرز گروپ ” ہے جو مسلم لیگ ن کے حامی تاجروں کا گروپ کہلاتا ہے اور اس کی قیادت مسلم لیگ ن کے رہنما ، سابق و موجودہ ارکان اسمبلی اور بلدیاتی چیئرمین شیخ فیاض الدین ایم این اے ، چوہدری محمد شفیق آف صادق آباد ایم پی اے ، میاں امتیاز احمد سابق ایم این اے ، سابق چیئرمین بلدیہ میاں اعجاز عامر ، میاں شہزاد انور ، حاجی محمد ابراہیم و دیگر قائدین کے پاس ہے ، ستم ظریقی یہ ہے کہ ن لیگی تاجروں وصنعکاروں کا ” فائونڈرز گروپ ”  وزیراعظم عمران خان کی مخالف اس شٹر ڈائون ہڑتال کیلئے اتنا سرگرم نہیں جس قدر پی ٹی آئی تاجروں وصنعتکاروں کا ” فرینڈز بزنس فورم ” اپنی ہی حکومت اور اپنے ہی وزیراعظم کیخلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کی اس ملک گیر تحریک کی چنگاریوں پر تیل چھڑک رہا ہے ۔

” نیوز پوسٹ ” اس سے قبل ن لیگ کے حامی ارب پتی تاجروں وصنعکاروں کے مختلف کارٹلز کی طرف سے لاکھوں بوری گندم ، چینی اور دوسری اشیا ئے ضرورت ذخیرہ کر کے ملک میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کی سازش میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی شمولیت کی خبر بھی بریک کر چکا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »