fbpx

بجنوٹ قلعہ

یہ قلعہ دراوڑ سے تقریباً 90 کلومیٹر دور صحرا کی انتہائی گہرائیوں میں دشوار گزار راستوں پر موجود ہے اور اس تک پہنچنے کا دوسرا راستہ بهاولپور سے تقریباً ایک سو پچانوے کلومیٹر براستہ چنن پیر سے ہے جس میں تقریباً پچپن کلومیٹر پکی سڑک اور باقی ایک سو چالیس کلومیٹر کچا راستہ ہے جس پر کئی جگہوں پر ریت کے ٹیلوں کے انبار موجود ہیں،رحیم یارخان سے یہ قلعہ تقریبا150کلومیٹر پر پے ،اس قلعہ کا پہلا نام۔قلعہ ونجھروٹ۔تها یہ قلعہ راجہ ونجھا نے تعمیر کرایا تھا ۔تاریخ مرادکیمطابق ۵۷۴ھ/۱۱۷۸ھ میں اس قلعہ کو شہاب الدین غوری نے مسمار کرادیا تھا لیکن کرنل ٹاڈ کیمطابق یہ قلعہ ۷۵۷ھ میں راجہ کہڑ کے لڑکے تنو نے تعمیر کرایا تھا۔

Qila Bajnot 2
Qila Bajnot 2

یہ قلعہ مدتوں تک کھنڈرات کی حالت میں پڑا رہا پھر۱۱۷۱ھ/۱۷۵۷ء میں موریا داد پوترہ نے اس کی ازسر نوتعمیر کرائی ۔۱۷۵۹ھ میں علی مراد خان نے یہ قلعہ لے کر مرمت کرائی دوسوسال تک یہ قلعہ مرمت کے بغیر پڑا رہا اس قلعہ کی زیادہ شکستہ حالی کا سبب پاکستان و بھارت کی 1971 کی جنگ ہے جب بهارت کے جنگی طیاروں نے اپنی خفت مٹانے کے لیے اس قلعے پر شدید بمباری کی اور اپنی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ ہم نے پاکستان کی چیک پوسٹ کو تباہ کیا ہے مگر یہ جهوٹی افواہ تهی  بجنوٹ قلعہ سے انڈیا 13 کلومیٹر دور ہے 
بجنوٹ قلعے تک فور بائی فور ویل گاڑی ہی جا سکتی ہے اور وہ بھی کم سے کم دو گاڑیوں کا گروپ تاکہ ایک کے خراب ہونے کی صورت میں دوسری اس کی مدد کے لیے موجود ہو ان ویرانوں میں. .آپ بائیک پر صحرا میں اکیلے قلعہ بجنوٹ کو ڈھونڈنے جانا چاہتے ہیں بغیر گائیڈ کے اور وہ بھی اکیلے بائیک پر. ..ناممکن اور خودکشی کی کوشش ہے یہ آپ کے ساتھ کچھ بهی ہو ریتوں میں بائیک کی چین ٹوٹنا پنکچر ہو جاتا انجن سیز ہو جاتا راستہ بهٹکنا بارش کا اچانک امکان. .اور پهر قلعے کو ڈھونڈنا. ..خودکشی اود ناممکن. .

Qila Bajnot 3
Qila Bajnot 3

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »