fbpx

میگا سیوریج کا عفریت رحیم یار خان کو نگلنے کے لیے تیار ہے

rahim yar khan news mega swrage

(وڑائچ نامہ)
میگا سیوریج کا عفریت رحیم یار خان کو نگلنے کے لیے تیار ہے
دوستو! رحیم یار خان کے لیے میگا سیوریج پراجیکٹ سال 2005 میں 3.5 بلین (ساڑھے تین ارب روپے) کی لاگت سے اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی صاحب نے منظور کیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اہلیان رحیم یار خان میں خوشی کی لہردوڑ گئی مگر شہر کے باسیوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ جس پراجیکٹ کے لیے وہ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں یہی پراجیکٹ آنے والے دنوں میں ان کے گلے کی ہڈی بننے والا ہے۔
میں اس پراجیکٹ کی تاریخ بتاتا چلوں تاکہ آپ دوستوں کو مسائل کو صیح طرح سے سمجھنے میں آسانی ہو۔ ابتدائی طور پر اس پراجیکٹ کی لاگت 2 ارب روپے رکھی گئی جو بعد میں 3.5 روپے ہو گئی۔ منظوری کے فورا بعد ہی یہ پراجیکٹ التوا کا شکار ہو گیا اور پھر سال 2009 میں اسے دوبارہ شروع کیا گیا۔
پراجیکٹ پر کام شروع ہوتے ہیں اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی اطلاعات آنا شروع ہو گئیں مگر اس وقت کی حکمران پیپلز پارٹی کانوں میں تیل ڈال کر بیٹھی رہی اور اس پراجیکٹ میں شفافیت کے لیے کوئی اقدامات نہ کیے۔ خیر جیسے تیسے یہ پراجیکٹ سال 2012 میں مکمل کر لیا گیا۔ اس پراجیکٹ کا ڈیزائن نیسپاک (ناو انجیئرنگ کنسلٹنٹ سروسز پنجاب) نے بنایا۔ شہر کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا، زون 1 جو کہ شہر کے جنوبی حصہ پر مشتمل ہے یہاں سے 22 کیوسک سیوریج اور زون 2 جو کہ شہر کے شمالی حصہ پر مشتمل ہے یہاں سے 8 کیوسک سیوریج ڈسچارج ہونا تھی۔ اس پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران ہی پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے 18 قسم کے اعتراضات اس پراجیکٹ پر لگائے مگر نہایت افسوس کے ساتھ اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی۔
مزے کی بات یہ ہے کہ اس پراجیکٹ کی تعمیر مکمل ہونے کے سال کے اندر ہی اکتوبر 2012 میں 72 انچ کی سیوریج لائن بیٹھ گئی جو کہ نیازی کالونی کے ساتھ گزر رہی تھی جسے پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے ری سٹور کیا۔ اس وقت سے اب تک اسی طرح کے متعدد واقعات شہر کے مختلف حصوں میں رونما ہو چکے ہیں۔ اس سے آپ اس پراجیکٹ کی شفافیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔
اب میں آج کے مسئلے کی جانب آتا ہوں۔ چک 72 سے لے کر عباسیہ ٹاون تک اس وقت میگا سیوریج ایک خطرناک عفریت بن چکی ہے۔ شہر کے بیرون سے گزرنے والی بائی پاس روڑ جہاں پر دن رات ہیوی ٹریفک رواں دواں ہے اس وقت اتنی خطرناک ہو چکی ہے کہ کچھ پتہ نہیں یہ روڈ کب اور کہاں سے بیٹھ جائے۔ اسی روڈ پر سیوریج لائن بیٹھ جانے کی وجہ سے ٹرالر تک زمین میں دھنسنے کے واقعات ہو چکے ہیں۔ تھلی چوک سے چوک پٹھانستان جانے والی تھلی روڑ ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ اس روڑ تعمیر آخری بات جنرل مشرف کے دور میں ہوئی جو بنانے کے ساتھ ہی بارشوں کی سیزن میں تباہی کا شکار ہو گئی اور تقریبا 15 سال گزرنے کے باوجود اس روڈ کو کوئی والی وارث نہ ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اس روڈ کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں کہ اس وقت کوئی ٹھیکیدار اس روڈ کی تعمیر کا کام نہیں لینا چاہتا۔ اور اس کی وجہ ہے میگا سیوریج۔
چوک پٹھانستان تا تھلی چوک میگا سیوریج جگہ جگہ سے بیٹھ چکی ہے۔ زمین کے اندر سے پانی کہاں جا رہا ہے کچھ معلوم نہیں ہے۔ اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ اس روڈ کے اطراف کی آبادیوں کی گھروں میں سیوریج مکس پانی آ رہا ہے۔ کچھ گلیوں میں تو سوئی گیس کے پائپ سے بھی پانی آ رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ بشمول ٹی ایم اے و پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، ایم این اے و ایم پی اے سبھی اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں مگر سب نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شاید وہ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب خداخواستہ (اللہ سب کو محفوظ رکھے) کوی جان لیوا حادثہ ہو اور اس پر سیاست چمکا کر لوگوں کا یہ مسئلہ حل کیا جائے۔
نام نہ بتانے کی شرط پر ٹی ایم اے کے ایم ملازم نے بتایا ہے کہ تھلی روڈ پر ایک گٹر ایسا بھی موجود ہے جس کی دیوار میں کافی بڑا سوراخ ہو چکا ہے اور پانی زیر زمین پتہ نہیں کہاں جا رہا ہے۔
یاد رہے سابقہ یونین کونسل 38 آئی اور موجودہ وارڈز 46، 47، 49، 50 کی ایک بہت بڑی آبادی تھلی روڈ کے دونوں طرف رہائش پذیر ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ آبادیاں اس وقت شدید خطرے کا شکار ہیں۔
ضلعی انتظامیہ و ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ اس مسئلہ کی طرح فوری توجہ دی جائے اور میگا سیوریج کے اس حصہ کو مرمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس روڈ کی تعمیر کا کام بھی مکمل کیا جائے۔ خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ ہو گیا تو اس شہر کے انتظامی ادارے اور سیاسی لوگ یاد رکھیں کہ ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے گا کہ سارے پاکستان کے لیے سبق ہو گا۔
از
شاہد اسلم وڑائچ
0300-9679645

rahim yar khan news mega swrage

Back to top button
Translate »
Close
Close