fbpx

رانا ثنااللہ کا اصل چہرہ : جس دن بھولا گجر عاتکہ ایڈووکیٹ کے گھر سے نکل کر اپنے گھر جا رہا تھا میں نے اسے مار ڈالا

رحیم یارخان : پچھلے دنوں ایک گرفتاری ایسی ہوئی تھی جس پر ہمارے کئی سادہ لوح صحافیوں نے کہا کہ ’’ہمیں رانا صاحب نے پہلے ہی بتا دیا تھا‘‘۔ میرے دوستوں کو سیاستدانوں کی چالبازیوں کا زیادہ علم نہیں، وہ بڑی سادگی سے ان پر یقین کر لیتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ دراصل اسی طرح کا ایک کردار ہے

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جس طرح کے کردار عاطف چوہدری اور ارشد امین تھے۔ غریب جب امیر بننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس کوشش میں اندھا ہو جاتا ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ غریب سے بڑا ظالم کوئی نہیں، وہ دولت کے حصول میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوتا ہے، امارت تک پہنچنے کی مسافت میں وہ کئی قتل کرتا ہے، کئی قتل کرواتا ہے، موت کی بےرحمانہ تقسیم اسے روز حشر سے بھی غافل کردیتی ہے۔ رانا ثناء اللہ غریب گھرانے میں پیدا ہوا، طالبعلمی کے زمانے میں پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوا، اسے زندگی میں پہلی بار سائیکل ویسپا یوسف بھٹی نے لے کر دیا، طالبعلم رہنما کے طور پر جرائم پیشہ افراد سے اس کے مراسم بنے، پھر اس نے دو اور لڑکوں پر ہاتھ رکھا، ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا جبکہ دوسرا بھی قتل ہوگیا۔ اس دوران رانا ثناء اللہ کے پاس اتنا کچھ آگیا کہ وہ سیاسی چوہدریوں سے ٹکرانےکےقابل ہوگیا، ورنہ بقول عابد شیر علی ’’یہ ہم سے پیسے لے کر نعرے لگایا کرتا تھا‘‘ رانا ثناء اللہ کو زیادہ عروج 2008کے بعد ملا۔ غالباً 2006میں چوہدری شجاعت حسین نے مجھے ایف آئی آر کی ایک کاپی دیتے کہا تھا کہ ’’یہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایف آئی آر ہے جو 1992میں شریف فیملی نے درج کروائی تھی‘‘۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ایک ڈی ایس پی ملک خالد بھی گرفتار ہوا ہے، یہی ڈی ایس پی نوید کمانڈو کو دھمکیاں دیتا تھا۔

نوید کمانڈو رانا ثناء اللہ کا ایک ساتھی ہے اس نے عدالت کے روبرو اپنے اقبالی بیان میں بھولا گجر سمیت کئی قتلوں کا اعتراف کیا۔قبضوں کی داستان بھی سنائی۔کس طرح ایک دن عاتکہ ایڈووکیٹ کے گھر سے نکل کر بھولا گجر جارہا تھا تو میں نے اسے مار ڈالا۔ اس کی اطلاع رانا صاحب کو دے کر شاباش حاصل کی مگر حیرت ہے کہ رانا صاحب بھولا گجر کے جنازے میں بھی شریک ہوئے، پھر مجھے رانا صاحب نے کہا کہ سب انسپکٹر فرخ وحید کو قتل کردو، فرخ وحید کو اس کا اندازہ ہو گیا تھا اسی لئے وہ برطانیہ بھاگ گیا۔ اب سمجھ لیں کہ مشن کی ناکامی کا صلہ مجھے موت کی صورت میں ملنا تھا لہٰذا میں کراچی بھاگ گیا۔ کراچی سے حافظ آباد آنے پر مجھے گرفتار کرتے وقت ڈی ایس پی خالد ملک نے کہا کہ’’اگر بھولے گجر کا نام لیا تو میں تمہیں پولیس مقابلے میں ماردوں گا۔‘‘بےشمار قتل کرنے والے سب انسپکٹر فرخ وحید کا ایک وڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، فرخ وحید نے چیف جسٹس سے زندگی کا تحفظ مانگا ہے وہ پاکستان آکر سب کچھ بتانے کو تیار ہے۔ آپ سب انسپکٹر فرخ وحید کو انسپکٹر عابد باکسر پارٹ ٹو کہہ سکتے ہیں۔رانا ثناء اللہ کی گرفتاری منشیات میں ہوئی ہے۔ دبئی میں ہونے والی ایک میٹنگ ان کے گلے پڑ گئی ہے جس کے بعد کئی عالمی اداروں نے اے این ایف کو بہت کچھ بتادیا تھا۔

تین چار ماہ قبل منشیات فروشوں کے ایک گروہ کی گرفتاری نے اے این ایف کو اور بہت کچھ بتایا۔ گرفتاری کے وقت نیلے بیگ کی نشاندہی خود رانا ثناء اللہ نے کی۔ اے این ایف کے دو اہلکاروں کے ساتھ باڈی کیمرے تھے جن کی مدد سے پوری یڈو ریکارڈ ہوئی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایفیڈرین کی شکایت بھی آسٹریلین حکومت نے کی تھی۔ رانا ثناء اللہ کے کالعدم تنظیموں سے مراسم کی بھی بات کی جاتی ہے۔ آپ چوہدری شیر علی کی تقریر کو یاد رکھیں، شجاع خانزادہ کی شہادت کے علاوہ ملک اسحاق کی بیٹوں سمیت ہلاکت کو یاد رکھیں تو سب باتیں سمجھ میں آجائیں گی۔ یہ ہے ایک پاکستانی سیاستدان کا ’’چہرہ‘‘، مبینہ طور پر سات اراکین اسمبلی منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close