fbpx

گھوٹکی کی دو نو مسلم بہنوں کا تحفظ کیلیے دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

 سندھ کی دو نو مسلم لڑکیوں نے تحفظ فراہمی کے لیے دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔
غلام عائشہ اور دعا فاطمہ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی جس میں اپنے والد، سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ، آئی جی اسلام آباد اور مقامی ایم پی اے اسد سکندر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ سنگل بنچ نے سندھ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار قرار دے کر تحفظ کی درخواست خارج کردی تھی، سنگل بنچ کا 17 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور آئی جی اسلام آباد کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ نومسلم بہنوں نے کہا کہ مقامی ایم پی اے اسد سکندر اور والدین سے انہیں اور ان کے شوہروں کو جان کو خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ دونوں ہندو لڑکیوں نے مرضی سے اسلام قبول کر مسلمان لڑکوں سے شادی کی ہے اور 17 مئی کو چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے ان کی تحفظ فراہمی کی درخواست مسترد کردی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close