fbpx

زمین

زمین

ضلع کا کل رقبہ 11,880 مربع کلومیٹر ہے ۔ ضلع کی لمبائی شمال سے جنوب کی طرف 180 کلو میٹر ہے اور چوڑائی مشرق سے مغرب کی طرف165 کلومیٹر ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے ضلع رحیم یار خان پنجاب کا چوتھا بڑا ضلع ہے۔ ضلع کو جغرافیائی یا زمینی سطح پر چار حصوں میں تقسیم کرکے دیکھا جاسکتا ہے ۔ ۱۔دریا ئی بیٹ کا علاقہ ۲۔کچے کا علاقہ ۳۔ پکے کا علاقہ (چکوک) ۴۔چولستان یا صحرائی علاقہ۔ یہ تقسیم صرف زمینی نہیں بلکہ ایک حد تک ثقافتی بھی ہے۔

۔ 1.بیٹ یا دریائی علاقہ

 یہ علاقہ ضلع کے مغرب میں واقع ہے کیونکہ یہ دریائی علاقہ کہلاتا ہے۔ دریائے سندھ ضلع کے مغرب میں شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے۔ یہ علاقہ دریا سے لے کر حفاظتی منچن بند ((Left Marginal Bund کے درمیان کا علاقہ ہے جہاں دریائی پانی آنے کا امکان رہتا ہے۔ یہ بیٹ یا  دریا ئی علاقہ کہلاتا ہے۔ ہیڈ پنجند پر پنجاب کے دریا ملتے ہیں جہاں سے دو نہریں پنجند کینال اور عباسیہ کینال نکلتی ہیں تیسری عباسیہ فیڈر ہے جس میں جولائی 2003 میں پانی چھوڑا گیا ہے ۔ یہ تینوں نہریں ضلع رحیم یار خان کو سیراب کرتی ہیں ۔ پنجند سے ایک ہی دریا ، دریائے پنجند یا دریائے چناب ہیڈ سے 20  کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ضلع رحیم یار خان کی حدود میں داخل ہوتا ہے یہ دریا شمالاً جنوباً بہتا ہوا رحیم یار خان کے تاریخی قصبہ چاچڑان سے شمال مغرب کی طرف تقریباً 10/15  کلومیٹر دریا ئے سندھ کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ اور پھر یہی دریا دریائے سندھ میں شامل ہو کر رحیم یار خان کے مغرب میں تحصیل صادق آباد کے ایک قصبہ ماچھکا کی حدود تک بہتا ہے اور پھر صوبہ سندھ کی حدود میں داخل ہوتا ہے  ,دریائی سیلاب کو روکنے کے لئے ایک بند تعمیر کیا گیا جسے منچن بند کہا جاتا ہے دریا سے منچن بند کے درمیانی علاقہ بیٹ کہلاتا ہے پرانے زمانے میں کنواں جات اور جھلار آب پاشی کے ذرائع تھے موجودہ دور میں ٹیوب ویلوں کے ذریعے آبپاشی کی جاتی ہے اور پیداوار کے لحاظ سے یہ علاقہ ضلع کا اہم ترین علاقہ ہے۔ مشینی کاشت کے سبب دریا کے کناروں تک سرسبزوشاداب فصلات ہیں اور جس کی وجہ سے جنگلات کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔

۔ 2.کچے کا علاقہ

یہ علاقہ منچن بند سے مشرق کی طرف ریلوے لائن تک واقع ہے ۔ یہ شمالاً جنوباً ایک پٹی ہے جس سے نہر پنجند بہتی ہے اور پاکستان کی مشہور شاہراہ ، شاہراہ پاکستان یا کے ایل پی  روڈ گزر رہی ہے اس علاقے کا زیرزمین پانی میٹھا ہے اس لئے اسے نہری پانی غیر دوامی ملتا ہے۔ جسے عام طور پر ششماہی کہاجاتا ہے زیرزمین میٹھا پانی ہونے کی وجہ سے ٹیوب ویل سکیم بھی لگائی گئی جسے واپڈا سکارپ کا نام دیا گیاتھابوجہ بند کر دی گئی ہے ۔ نہر پنجند گوکہ ضلع کی شاہ رگ ہے اس سے اس ضلع کا شمالی علاقے کا رقبہ جو تحصیل لیاقت پور میں شامل ہے Seepage کی وجہ سے بیس سے چالیس مربع کلومیٹر سیم و تھور ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہوگیا ہے ۔ یہ علاقہ زمین کی زرخیزی کے لحاظ سے سرسبزوشاداب ہے خان پور رحیم یارخان اور صادق آباد میں آموں کے با غ کی اکثریت اسی علاقہ میں واقع ہے ۔ اس علاقہ میں کثرت سے بولی جانے والی زبان سرائیکی ہے۔ یہاں ضلع کی قدیم ترین آباد ی رہائش پذیر ہے اور قدیم ترین کاشتکاری کا مرکز بھی یہی علاقہ رہا ہے ۔ یہ علاقہ بڑی بڑی جاگیرداریوں پر مشتل ہے اور 80 فیصد لوگوں کے پاس زمین کے گذارہ یونٹ بھی نہیں ہیں ۔ مزید وراثتی تقسیم در تقسیم کے عمل نے ایکڑوںکو کنالوں میں تقسیم کردیا ہے جس سے غربت میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے جس کی مثال کراچی جیسے بڑے شہر میں 90  فیصد گھروں میں کام کرنے والی خواتین کا تعلق اسی علاقہ سے ہے جو وہاں ‘ماسی’ کے نام سے پکاری جاتی ہیں چاہے وہ 16 سال کی نوجوان لڑکی ہو یا70 سال کی ضعیف عورت۔ ماضی میں ناموس عزت کے لحا ظ سے یہ علاقہ اپنی مثال آپ تھا ۔

۔3.پکے کا علاقہ

یہ علاقہ ریلوے لائن کے مشرق سے لیکر چولستان کے علاقے تک واقع ہے ۔ یہ علاقہ ضلع کے مشرق اور جنوب میں ہندوستان کی سرحد تک کا علاقہ ہے ۔ یہ علاقہ چولستان صحرائی علاقہ تھا ستلج ویلی پراجیکٹ کے بعد نہری نظام آنے کے بعد آبادکاری کی گئی ۔ یہاں کے آباد کار جدید کاشتکاری سے آگاہ تھے جنہوں نے اس پورے علاقے کو اپنی محنت اور جانفشانی سے سرسبزو شاداب بنادیا اس علاقے کو مستقل نہری پانی مہیا ہوتا ہے زیرزمین پانی کڑوا ہونے کے باعث پینے کیلئے اور فصلات کے لئے مضر ہے ۔ خشک سالی کی وجہ سے گزشتہ تین چار سالوں سے اس علاقہ کی شادابی پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ فصلوں کے علاوہ انسانوں اور جانوروں کے پینے کیلئے بھی نہری پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے واپڈا کے زیرانتظام عباسیہ فیڈر چالو کی گئی ہے۔

۔4. چولستان یا صحرائی علاقہ

یہ علاقہ صحرائے چولستان پر مشتمل ہے جو مغرب اور جنوب میں صحرائے ہوتے تھر تک اور جنوب مشرق میں ہندوستان کے صوبے راجھستان ( ریاست بیکانیر اور جیسلمیر) تک پھیلا ہوا ہے۔ چولستان کا کل رقبہ 6655360 ایکڑ ہے جس میں سے رحیم یار خان ضلع کی حدود میں 1616300 ایکڑ ہے۔ یہاں کی زندگی کا انحصار بارشوں پر ہے پانی کو جمع کرنے کے لئے ٹوبے ہیں جس سے انسان اور جانور ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے لوگ نقل مکانی کرجاتے ہیں ۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش جانور پالنا ہے ۔ جس میں گائے ، بھیڑ بکریا ںاور اونٹ شامل ہے بارشیں ہونے سے یہاں کی چراگاہیں آباد ہوجاتی ہیں خشک سالی کے موسموں میں یہ لوگوں کچے کے علاقوں کی طرف عارضی نقل مکانی کرجاتے ہے ۔

ضلع اور تحصیلوں کا کل رقبہ

کل ناقابل کاشت ( ایکڑ)

کل قابل کاشت رقبہ ( ایکڑ)

کل رقبہ ( ایکڑ)

نام تحصیل

53,469

4,35,098

4,88,567

رحیم یار خان

57,576

4,42,311

4,99,887

صادق آباد

69,527

4,13,938

4,83,465

خانپور

21,034

4,42,094

4,63,128

لیاقت پور

2,01,606

19,35,047

19,35,047

ضلع کا کل رقبہ

ضلع کے کل قابل کاشت رقبہ میں نہری رقبہ سولہ لاکھ اڑتیسہزار چار سو تیس (6,38,430 1)ایکڑ ہے ۔ بارانی /سیلابی / ٹیوب ویل کے ذریعے پچانوےہزار گیارہ ایکڑ رقبہ کاشت کی جاتا ہے

زمین کاتجزیہ

کچے اور بیٹ کے علاقے میں دریائی مٹی کی آمیزش پائی جاتی ہے جس سے یہاں کی زمینیمیرا اور چکنی ہوتی ہیں جو کاشتکاری اور پھلوں کے باغات کے لئے نہائت کارآمد ہے۔اس کے علاوہ یہاں کی زمینیں کسی زمینی روگ کا شکار نہیں ہیں البتہ نہر پنجند کےشروع کےعلاقے میں سیم و تھو ر پائی جاتی ہے جو اب سکارپ سکیم کی وجہ سے کافی حد تککم ہوتی جارہی ہے ۔ مزیدیہ کہ دریائی یا بیٹ کاعلاقہ دریا کے کٹائو کا شکار رہتاہے جس سے زرخیز زمینیں اور ہنستی بستی بستیاں ویران ہوجاتی ہیں۔ اس علاقہ میںزیرزمین پانی میٹھاہےجو کسی نعمت سے کم نہیں۔ درمیانی علاقہ جوکہ پکے کا علاقہکہلاتاہے۔ بنیادی طور پر یہ علاقہ صحرائے چولستان تھا جو ریتلی زمین پرمشتمل ہے۔اس علاقے میں جدید کاشتکاری اور نہری ذریعہ آب پاشی اور زیادہ اخراجات کے باعثاچھی فصلیں ہوتی ہیں وگرنہ پیداواری لحاظ سے یہ زمین کچے کی زمین کی نسبت کم زرخیزہے۔ زیر زمین پانی بھی کڑوا ہے کیونکہ نمکیات کی بہتات ہے

رقبہ مربع کلومیٹر

شہر / میونسپل کمیٹی

قصبات / ٹائون کمیٹی

دیہات / مواضعات

نام تحصیل

1715

1

2

311

رحیم یار خان

2192

1

1

315

صادق آباد

1246

1

1

258

خانپور

6727

1

620

لیاقت پور

11880

3

5

1504

ضلع کا کل رقبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close