fbpx
پریس کلبخبریںرحیم یارخان

پولیس نے قتل کے ملزمان کو بےگناہ کر دیا،مقتول کی والدہ

saleem machi murder case

رحیم یارخان:شہری کوبہیمانہ تشددکانشانہ بناکرقتل کرنے والے بااثر ملزمان آزاد‘ مقتول کی والدہ اوراہلخانہ انصاف کے حصول کے لیے دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور‘ وزیراعلی پنجاب‘ آرپی اوبہاولپوراورڈی پی اورحیم یارخان سے فوری نوٹس لے کرانصاف فراہم کرنے کامطالبہ..
چوک پٹھانستان کی رہائشی حفصہ بی بی نے اپنے بیٹے کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ اس کے بیٹے سلیم ماچھی کوچوہدری عبدالعزیزاورعادل عزیزنے بطورملازم چک123پی میں رکھاہواتھااس دوران چوہدری عبدالعزیزاوراس کے بیٹے عادل عزیزنے سکندرپٹھان ودیگرکے ساتھ مل کراس کے بیٹے پرعورت یاچوری کے شبہ میں بہیمانہ تشددکانشانہ بنایااورسراورجسم کے حصوں پربدترین تشددکرکے نازک حالت میں تھانہ ائیرپورٹ کے سابق ایس ایچ اونذرحسین نذراوراے ایس آئی ریاض احمد‘ سب انسپکٹرسلیم ودیگرنے سلیم ماچھی کوزخمی حالت میں تھانہ منتقل کردیااورتین چارروززخمی حالت میں پولیس نے ہسپتال لے جانے کی بجائے تھانہ میں رکھابعدازاں ان کے گھرمیں دیواریں پھلانگ کرسابق ایس ایچ اواے ڈویژن اظہراقبال نے سلیم ماچھی کے ہسپتال میں داخل ہونے کی اطلاع دی اوروہ موقع پرپہنچے توسلیم ماچھی دم توڑچکاتھا‘ انہوں نے بتایاکہ پولیس نے چوہدری عبدالعزیز‘ عادل عزیزودیگرکے خلاف قتل کامقدمہ درج کیالیکن ابھی تک ملزمان قانون کی گرفت سے آزادگھوم کرحراساں کررہے ہیں‘ انہوں نے بتایاکہ انہیں شبہ ہے کہ پولیس نے سکندرپٹھان اورعادل عزیزکوبے گناہ کردیاہےاوروہ انصاف کے حصول کے لیے دربدرکی ٹھوکریں کھانے پرمجبور ہیں‘ مقتول کی والدہ حفصہ بی بی اوربھائی نے وزیراعلی پنجاب‘ آئی جی پولیس پنجاب‘ آرپی اوبہاولپوراورڈی پی اورحیم یارخان سے فوری نوٹس لے کرانصاف فراہم کرنے کامطالبہ کیاہے‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سلیم ماچھی کے قتل کے اصل ذمہ دارچوہدری عبدالعزیز‘ عادل عزیز‘ سکندرپٹھان ہیں جبکہ تھانہ ائیرپورٹ پولیس نے بھی بروقت زخمی کوعلاج معالجہ کے لیے ہسپتال منتقل نہ کرکے غفلت کامظاہرہ کیا‘ 15سال سے سلیم ماچھی کے خلاف سکندرپٹھان ودیگرنے جھوٹے مقدمات درج کرانامعمول بنایاہواتھاحقیقت میں ان کابیٹاسلیم ماچھی بے قصورتھا۔

saleem machi murder case

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close