fbpx

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے جینے کا حق بھی چھین لو

رحیم یارخان :پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے جینے کا حق بھی چھین لو

وبا کی صورت حال کے پیش نظر ملکی اور عالمی حالات غیر معمولی ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت متحد حکمت عملی کی ہوتی ہے اور ایسے حالات میں حکومتی فیصلوں پر مکمّل عملدرآمد کرنا چاہیے کیونکہ ریاست ہمیشہ عوام الناس کی بہتری اور بھلائی کے لیے سوچتی ہے۔
لیکن کچھ پہلو پوشیدہ رہنے کی وجہ سے نظرانداز ہوجاتے ہیں جو بڑے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
جب سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا تب سے میں دیکھ رہا ہوں کہ شاید کوئی اس نازک معاملے پر آواز اٹھائے لیکن کسی طبقے کو اس مسئلے کا خیال نا آیا تو آخرکار میں نے قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ شاید میری آواز ہی حکومتی حلقوں تک پنہچ جائے اور اس قوم کے معلم اور تعلیمی ادارے تباہی سے بچ جائیں۔
لاک ڈاؤن میں ہر فرد معاشی بحران کا شکار ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ مجبوری کی چکی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ پِس رہے ہیں۔
دو ماہ سے بےروزگار اس طبقے کو میٹھی عید سے پہلے ایک اور کڑوی گولی نگلنا پڑھ گئی۔
ایک حکومتی فیصلے نے ان کو مزید اڑھائی ماہ کے لیے بےروزگار کردیا۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ کی آمدن مکمل طور پر بند ہے۔ سکول کالج کے بعد ٹیوشن سے اکثر اساتذہ کا گزر ہورہا ہوتا ہے۔
تعلیمی اداروں پر تالے ہیں ٹیوشن پڑھانے پر پابندی عائد ہے۔
اس قوم کے معمار کدھر جائیں ناتو یہ لوگ مفت راشن حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں لگ سکتے ہیں نا احساس پروگرام سے رقم وصول کر سکتے ہیں نا کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں کیونکہ بہت سے بچوں کے رول ماڈل ہیں۔

اکثر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی راتیں اسی پریشانی میں جاگ کر گزرتی ہیں۔
ان کے لیے نا حکومت کچھ کرنے کو تیار ہے نا عوام کو ترس آتا ہے کوئی ایک تو رحم کرے ان بیچارے اساتذہ پر۔
حکومت محدود وسائل اور کمزور اعدادوشمار کی وجہ سے سب کو مدد فراہم نہیں کرسکتی تو کم از کم لوگ جو باقی سارے اخراجات کر ریے ہیں وہاں بچوں کی فیسیں بھی ادا کر دیں۔ میں ایسے کئی والدین دیکھے ہیں جو صبح سے شام تک کیمرے کے سامنے فلاحی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر اپنے پچوں کی واجب الدا فیس دینے کو تیار نہیں۔
رہتی کمی حکومت نے پیپر نا لینے کے فیصلے سے کردی۔ اس فیصلے سے طالبعلموں کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا وہ الگ قابلِ بحث موضوع ہے لیکن فائنل ائیر کے اکثر طالبعلموں اور ان کے والدین نے اپنی بقایا فیسیں دینے سے مکر جانا جو انکی لاک ڈاؤن سے پہلے کی واجب الدا ہیں۔ کیونکہ اپ ان کو تعلیمی اداروں سے رولنمبر سلپ نہیں لینی اور لوٹ کا مال سمجھ کر یقایا فیسیں ہڑپ کرجانی۔
اب ایسے حالات میں کیا کریں تعلیمی اداروں کے مالکان اور کدھر جائیں بیچارے اساتذہ؟
پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بچے داخل کروانے کا فیصلہ کسی بھی فرد کا انفرادی ہوتا ہے اور ہر کوئی یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ داخلے کے وقت سالانہ اخراجات ادا کرنے کے وعدے کے بچوں کے سکول کالج کا انتخاب کرتے ہیں اور اب ان حالات کا فائدہ اٹھا کر اپنی واجب الدا فیسیں نا دینا بددیانتی اور ظلم ہے۔
تھوڑا ترس حکومتی حلقوں کو بھی کھانا چاہیے آپ خود سوچیں جن گھروں کے کفیل گزشتہ دو ماہ سے خالی جیبیں لیے بیٹھے ہیں انکو مزید اڑھائی ماہ کے لیے انکو گھروں میں بیٹھا دیا وہ گزربسر کیسے کریں؟
میرا چیلنج ہے کوئی حکومتی رکن بغیر آمدن کے ایک ماہ نہیں گزار سکتا تو قوم کے معماروں سے جینے کا حق کیوں چھینا جارہا ہے؟؟
سب سے بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ تمام شعبوں کو کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے محض تعلیمی اداروں کو بند کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ صرف ان پر حکومتی اداروں کا حکم چلتا ہے باقی تمام کاروباری طبقات بلیک میل کرتے ہیں اساتذہ کو یہ چیزیں زیب نہیں دیتیں۔

اگر تعلیمی اداروں میں وبا کا زیادہ خدشہ ہے تو ہم اساتذہ بچوں کو سبزی منڈی میں لیجا کر پڑھا لیتے ہیں
کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہاں کوئی حفاظتی اقدامات نہیں رش تعلیمی اداروں سے زیادہ اور بے ہنگم ہے اور وہاں سے کسی کو کورونا کونے کی شکایت بھی نہیں ملی۔
تعلیمی اداروں کے مالکان کی حالت بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ چند پڑے مگرمچھ اداروں کے علاوہ تمام اداروں کے مالکان جیب سے کرائے اور دیگر اخراجات کر کے دیوالیہ ہوگئے ہیں۔
اس کا بھی براہ راست اثر اساتذہ پر پڑھ رہا ہے۔
خدارا پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ پہلے بڑی مشکل سے گزر بسر کررہے تھے معمولی آمدن کی وجہ سے انکی کوئی جمع پونجی نہیں ہوتی اب تو کوئی قرض دینے کو بھی تیار نہیں۔ حکومت اگر سب کو سرکاری ملازمت نہیں فراہم کرسکتی تو جو پرائیویٹ سیکٹر میں محنت کر کے رزقِ حلال کماتے ہیں ان کا معاشی قتل ہونے سے بچائیں ورنہ سرکاری محکموں میں درجہ چہارم کی ملازمت حاصل کرنے کے لیے لوگوں لاکھوں روپے رشوت دیں گے اور معاشرے سے عدل ختم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »