fbpx

نوکری چھوڑنے کی رنجش تاجر نے ملازم کے خلاف مقدمہ درج کروا کے اغوا کروالیا

نوکری چھوڑنے کی رنجش تاجر نے ملازم کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروا کے اٹھوا لیا۔ شاہد عمران نے نوکری چھوڑنے پر مالک کاروبار عرفان فیض سے بقایا جات کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ پولیس نے عرفان فیض کے اثر و رسوخ استعمال کرنے پر شاہد عمران کو غائب بیلف کا چھاپہ۔ 

محلہ نورآباد کی رہائشی مرزا شاہد عمران کی بیوی نسیم بی بی نے احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا خاوند عرفان فیض شیخ کے پاس ملازم تھا جو کہ ان کے محلے دار بھی ہیں فریج اے سی کا کاروبار کرتے ہیں۔ چار سال ملازمت کرنے کے باوجود طے شدہ شرائط کے مطابق معاوضہ اور حصہ نہ ملنے پر میرے شوہر شاہد عمران نے عرفان شیخ کی ملازمت چھوڑ دی اور بقایا جات کا مطالبہ کیا جس پر وہ سیخ پا ہو گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں جس پر میرے خاوند نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ عرفان فیض شیخ نے عدالت کا احترام بالا طاق رکھتے ہوئے کوئی قانونی نوٹس وصول نہ کیا اور اہلکاروں کو چکر و دیگر ذریعے سے ٹالتا رہا گزشتہ روز چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے پولیس، عرفان فیض شیخ، طیب چدھڑ ایڈووکیٹ اور گواہ مقدمہ عماد علی، زین مقصود اور پانچ دیگر نامعلوم میرے گھر داخل ہو گئے اور انتہائی بد تمیزی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوف حراس پھیلا دیا جس سے میری معذور بچی سکتے میں آگئی اور مذکورہ بالا افراد اور سٹی صادق آباد کی پولیس میرے خاوند کوبغیر سرچ وارنٹ و قانونی اجازت زبردستی گھسیٹے ہوئے گلی میں کھڑی گاڑیوں میں سوار کر کے ساتھ لے گئے اس غیر قانونی عمل پر میرے بھانجے نے ایک مرتبہ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بیلف کے ہمراہ تھانہ سٹی صادق آباد پہنچے تو پولیس نے میرے خاوند کی گرفتاری سے لاعملی کا اظہار کیا جبکہ میں نے خود پولیس پارٹی کوریڈ کرنے والے آفیسر کی نیم پلیٹ پر اے ایس آئی محمد اشرف لکھا نوٹ کیا تھا اور پولیس موبائل کو گلی میں دیکھا تھا جس پر تھانہ سٹی صادق آباد درج تھا۔ اسی دوران پتہ چلا کہ عرفان فیض شیخ نے میرے خاوند کے خلاف تھانہ سٹی صادق آباد میں جھوٹے الزمات کے تحت  ایک جھوٹی ایف آئی آر نمبر 446/19 درج کروا دی ہے جو کہ گرفتاری کے ایک گھنٹہ بعد کے وقت میں درج ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ متمول اور بے ایمان تاجر عرفان فیض شیخ میرے خاوند پر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کروانے یا پھر ناجائز طور پر رقم کی وصولی اور اپنے خلاف الزامات کو جھٹلانے کے لیے میرے خاوند پر تشدد کا استعمال کرے گا جس میں اس کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ میرا کوئی بیٹا نہیں بیٹیاں دو ہیں اور وہ بھی کم عمر ان میں سے ایک معذور ہے جس کے علاج کے لیے ہمارے پاس پھوٹی کوڑی نہ ہے اور تاجر عرفان فیض شیخ میرے خاوند پر لاکھوں روپے غبن کا الزام عائد کر رہا ہے اگر اتنی بڑی رقم ہمارے پاس ہوتی تو ہم بچی کا علاج تو کرواتے۔ نسیم بی بی نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب  پولیس، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او رحیم یارخان سے میری اپیل ہے کہ وہ صادق آباد پولیس کی ظالم دولت مند سے ملی بھگت کا نوٹس لیتے ہوئے میرے خاوند کو بحفاظت بازیاب کرائیں اس کا حق جو عرفان فیض شیخ کی طرف بنتا ہے ہمیں لے کر دیں تاکہ ہم سلسلہ زندگی کو جاری رکھ سکیں میرا اور میری بچیوں کو میرے خاوند کے سوا کوئی سہارا نہ ہے خدا راہ میری مدد کریں۔ رحیم یارخان( )نوکری چھوڑنے کی رنجش تاجر نے ملازم کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروا کے اٹھوا لیا۔ شاہد عمران نے نوکری چھوڑنے پر مالک کاروبار عرفان فیض سے بقایا جات کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ پولیس نے عرفان فیض کے اثر و رسوخ استعمال کرنے پر شاہد عمران کو غائب بیلف کا چھاپہ۔ تفصیل کے مطابق محلہ نورآباد کی رہائشی مرزا شاہد عمران کی بیوی نسیم بی بی نے احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا خاوند عرفان فیض شیخ کے پاس ملازم تھا جو کہ ان کے محلے دار بھی ہیں فریج اے سی کا کاروبار کرتے ہیں۔ چار سال ملازمت کرنے کے باوجود طے شدہ شرائط کے مطابق معاوضہ اور حصہ نہ ملنے پر میرے شوہر شاہد عمران نے عرفان شیخ کی ملازمت چھوڑ دی اور بقایا جات کا مطالبہ کیا جس پر وہ سیخ پا ہو گیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں جس پر میرے خاوند نے اپنا حق حاصل کرنے کے لیے عدالت کا رخ کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی شروع کر دی۔ عرفان فیض شیخ نے عدالت کا احترام بالا طاق رکھتے ہوئے کوئی قانونی نوٹس وصول نہ کیا اور اہلکاروں کو چکر و دیگر ذریعے سے ٹالتا رہا گزشتہ روز چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے پولیس، عرفان فیض شیخ، طیب چدھڑ ایڈووکیٹ اور گواہ مقدمہ عماد علی، زین مقصود اور پانچ دیگر نامعلوم میرے گھر داخل ہو گئے اور انتہائی بد تمیزی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوف حراس پھیلا دیا جس سے میری معذور بچی سکتے میں آگئی اور مذکورہ بالا افراد اور سٹی صادق آباد کی پولیس میرے خاوند کوبغیر سرچ وارنٹ و قانونی اجازت زبردستی گھسیٹے ہوئے گلی میں کھڑی گاڑیوں میں سوار کر کے ساتھ لے گئے اس غیر قانونی عمل پر میرے بھانجے نے ایک مرتبہ پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بیلف کے ہمراہ تھانہ سٹی صادق آباد پہنچے تو پولیس نے میرے خاوند کی گرفتاری سے لاعملی کا اظہار کیا جبکہ میں نے خود پولیس پارٹی کوریڈ کرنے والے آفیسر کی نیم پلیٹ پر اے ایس آئی محمد اشرف لکھا نوٹ کیا تھا اور پولیس موبائل کو گلی میں دیکھا تھا جس پر تھانہ سٹی صادق آباد درج تھا۔ اسی دوران پتہ چلا کہ عرفان فیض شیخ نے میرے خاوند کے خلاف تھانہ سٹی صادق آباد میں جھوٹے الزمات کے تحت  ایک جھوٹی ایف آئی آر نمبر 446/19 درج کروا دی ہے جو کہ گرفتاری کے ایک گھنٹہ بعد کے وقت میں درج ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ متمول اور بے ایمان تاجر عرفان فیض شیخ میرے خاوند پر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کروانے یا پھر ناجائز طور پر رقم کی وصولی اور اپنے خلاف الزامات کو جھٹلانے کے لیے میرے خاوند پر تشدد کا استعمال کرے گا جس میں اس کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ میرا کوئی بیٹا نہیں بیٹیاں دو ہیں اور وہ بھی کم عمر ان میں سے ایک معذور ہے جس کے علاج کے لیے ہمارے پاس پھوٹی کوڑی نہ ہے اور تاجر عرفان فیض شیخ میرے خاوند پر لاکھوں روپے غبن کا الزام عائد کر رہا ہے اگر اتنی بڑی رقم ہمارے پاس ہوتی تو ہم بچی کا علاج تو کرواتے۔ نسیم بی بی نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب  پولیس، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او رحیم یارخان سے میری اپیل ہے کہ وہ صادق آباد پولیس کی ظالم دولت مند سے ملی بھگت کا نوٹس لیتے ہوئے میرے خاوند کو بحفاظت بازیاب کرائیں اس کا حق جو عرفان فیض شیخ کی طرف بنتا ہے ہمیں لے کر دیں تاکہ ہم سلسلہ زندگی کو جاری رکھ سکیں میرا اور میری بچیوں کو میرے خاوند کے سوا کوئی سہارا نہ ہے خدا راہ میری مدد کریں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close