تھانہ سہجہ پولیس کاکارنامہ

sheja police rahim yar khan news

رحیم یارخان :تھانہ سہجہ پولیس کاکارنامہ‘ پیسوں کی چمک میں انسانیت بھول گئے‘اندھیر نگری کی انتہازمین کے تنازعہ پر 97این پی میں رات کی تاریکی میں مدعی پارٹی کے ہمراہ متاثرین کے گھر پر دھاواچادر چار دیواری کا تقدس پامال،گھر کے تالہ توڑ کر اندر داخل،خواتین سمیت چھوٹے بچوں پر تشدد گالم گلوچ گھر کا سامان توڈ دیا جبکہ ایک لاکھ روپے نقدی رقم طلائی زیورات بھی اٹھالے گئے‘پولیس سب انسپکٹر کلیم و دیگر ساتھ گندم ایک ٹریکٹر ٹرالی بھی گھرسے لے گئے۔تفصیل کے مطابق تھانہ سہجہ پولیس کے ایس ایچ او اصغر‘ سب انسپکٹر کلیم و تیس سے زائد پولیس اہلکاروں کا مدعی پارٹی شازیہ پروین، رضیہ پروین،پرویز آصف عمیر طارق وغیرہ کیہمراہ متاثرین کے گھر پر دھاوا تالہ توڈ کر گھر کے اندر داخل ہوگئے،چادر چار دیواری کا تقدس پامال خواتین بچوں کو تشدد کا نشانا بنایا گالم گلوچ کرتے رہے، جبکہ گھر کالاکھوں روپے مالیت کاسامان بھی توڈ دیا،ایک لاکھ روپے نقدی رقم بھی اٹھا لے گئے،متاثرین یوسف علی غلام رسول پروین بی بی شمائلہ بی بی و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ زمین کا تنازعہ چل رہا تھا،جس کا کیس بھی سول کورٹ میں چلتا آرہا ہے اور ہمارے پاس سول کورٹ کا اسٹے آرڈر بھی موجود ہے، متاثرین نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس ڈپٹی کمشنر کی عدالت کا بھی اسٹے آرڈر موجود ہے،اسٹے آرڈرز ہونے کے باوجود بھی خالد گرداور نے مدعی پارٹی کے ساتھ مل کر ساز باز کر کے لاکھوں روپے رشوت وصول کرکے ہماری زمین پر پولیس کی موجودگی میں قبضہ کروایا اور ہماری لاکھوں روپے مالیت کی فصل کو تباہ ِکیا،پولیس کو سارے معاملہ کا علم ہونے کے باوجود بھی مدعی پارٹی سے پولیس نے ساز باز کر کے بھاری رشوت وصول کرنے کے بعد ہمارے پر تھانہ سہجہ میں مقدمہ درج کردیامتاثرین نے بتایا کہ پولیس نے اعلیٰ آفیسر ڈپٹی کمشنر اور سول کورٹ کے سٹے آرڈر بھی ماننے سے انکار کردیاہماری ایک نا سُنی اورعدالت و ڈی سی کے اسٹے آرڈرز کو بھی ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی نگرانی میں قبضہ کروایا،تھانہ سہجہ پولیس کی جانب سے شہریوں کی تحفظ فراہم نا کرنے پر متعدد بار احتجاج بھی ہوچکے ہیں، جبکہ تھانہ سہجہ کی حدود میں جرائم روزبارو بڑھتا جا رہا،پولیس جرائم کو کنٹرول کرنے کی بجائے رشوت وصول کرنے کے بعد فرضی مقدمات درج کر کے شہریوں کو تنگ کرنے میں مصروف ہیں متارین کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپنی موجودگی میں ہماری فصل تباہ کی ہے، دوسری جانب اہم بات تو یہ ہے کہ پولیس گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے پولیس کی جانب سے شہریوں کو تحفظ دینے کی بجائے مدعی پارٹی سے ساز باز کرکے شہریوں پر ناجائز مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ تھانوں میں رشوت خوری اور شہریوں سے ناانصافی ہو رہی ہے کرپٹ پولیس افسران کیخلاف کارروائی میں غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی پولیس گردی کی وجہ سے شہری شدید پریشانی میں مبتلا ہی۔ معلوم ہوا ہے کہ رحیم یارخان کے تھانہ سہجہ میں مختلف  پولیس گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک جانب چوری و ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں وہیں دوسری جانب پولیس کی نا انصافی نے ان کا جینا محال کر دیا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف مقدمات کے اندارج کیلئے جانے والے شہریوں پر الٹے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں جبکہ قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔ پولیس اہلکار شہریوں کی بجائے جرائم پیشہ عناصر کے محافظ بن گئے ہیں۔رحیم یارخان میں مویشیوں کی چوری، زمینوں پر قبضہ، اغواء برائے تاوان، چوری و ڈکیتی سمیت دیگر وارداتوں میں ماضی کے مقابلے بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔متاثرین کی جاب سے اعلی آفیسران کیعلم میں ہونے کے  باوجود کرپٹ پولیس افسران کیخلاف کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے سینئر افسران کی خاموشی پر ڈی پی او رحیم یارخان ایس پی انوسٹی گیشن  سے نوٹس کا مطالبہ کرتے ہوئے شہریوں کو پولیس گردی سے بچانے کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ سہجہ کی پولیس سمیت متاثرین کے ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کیاجائے،متاثرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب آر پی او بہاولپور ڈی پی او رحیم یارخان عمر فاروق سلامت ہمیں فوری انصاف دلوائے جبکہ ایس ایچ اوتھانہ سہجہ محمداصغر نے رابطہ کرنے پربتایاکہ الزام علہیان بے بنیاداورمن گھڑت الزام لگارہے ہیں جس کاحقائق سے تعلق نہیں۔

sheja police rahim yar khan news

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »