fbpx

ن لیگ نے اپنے 5 ایم اپی ایز “غداری” کے الزام میں پارٹی سے نکال دیئے

ن لیگ نے اپنے 5 ایم اپی ایز “غداری” کے الزام میں پارٹی سے نکال دیئے ، فیٹف بل کے دوران غیر حاضر رہنے والے ایم این ایز کوشوکاز نوٹس جاری ۔۔ ” نواز لیگ کیلئے اپنا ایمان نہیں بیچ سکتے” ایم پی ایز کا جواب، نواز شریف کے فوج مخالف اور بھارت نواز بیانیئے کو “غداری” قرار دیدیا ، “اپنے غداروں ” کیخلاف کارروائی کیلئے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت میں بھی ہنگامی صلاح مشورہ شروع

رحیم یارخان ڈیسک ) ایس آئی ایس ( مسلم لیگ (ن) نے پارٹی نظم وضبط کی خلاف ورزی کرنے والے 5 ارکان اسمبلی کو ن لیگ سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا ۔ شہباز شریف کی طرف سے اس ایشو پر مسلسل ہچکچاہٹ کے بعد مرکزی جنرل سیکرٹری کے دستخطوں سے یہ اہم ترین کارروائی عمل میں لائی گئی ہے ۔ اس سخت فیصلے نے پارٹی پر مریم نواز کیمپ کی گرفت مزید مضبوط کر دی ہے، اس بڑی سیاسی پیش رفت کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے بھی اپنے اُن ارکان اسمبلی کیخلاف اسی طرح کے سخت فیصلے کا امکان ہے جن کے ؐمبینہ خفیہ رابطے ن لیگی قیادت سے ہیں اور جنہوں نے سال رواں کے آٹا ، چینی ، گندم ، ڈیزل ، پیٹرول بحرانوں کے دوران جہانگیر ترین اور شہباز شریف کے ساتھ مل کر اپنی ہی حکومت کیخلاف خوفناک سازشوں میں حصہ لیا اور اربوں روپے کا مال بھی بنایا ،
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے ن لیگ کے 5 ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ ، گذشتہ روز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے گذشتہ روز کے اجلاس میں کیا گیا ،نواز شریف نے اس اہم اجلاس کی آن لائن صدارت کی ، جبکہ پارٹی صدر نواز شریف گرفتاری کی وجہ سے اس اہم اجلاس میں شریک نہیں تھے ، اس فیصلے کا اعلان آج پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہباز شریف اور تاحیات قائد میاں نواز شریف کے درمیان اس ایشوپر اختلاف رائے تھا ، مریم نواز اپنے والد پر مسلسل زور ڈال رہی تھیں کہ ان “غداروں” کیخلاف سخت کاررائی کی جائے ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ ن نے وزیراعظم عمران خان پر اپنے “آخری سیاسی حملے” سے پہلے اپنی جماعت کی “میجر اوور ہالنگ” کا فیصلہ کیا ہے اور اس دوران پارٹی میں سے چوہدری نثار فیکٹر سمیت تمام “دوغلے” لوگوں کو “واش” کیا جائے گا ، تاکہ گومگو کے شکار ارکان اسمبلی جن کی مبینہ تعداد 38 کے قریب بتائی جا رہی ہے کی وفاداری بھی چیک کی جا سکے ۔
ذرائع کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان کو بھی ایسا ہی مشورہ دیا جارہا ہے کہ مستقبل قریب میں اپوزیشن کے کسی بڑے حملے دوران نازک وقت میں پی ٹی آئی کے اندر بڑے پیمانے پر بے وفائی کی کسی لہر سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ “غدار” ارکان اسمبلی کیخلاف بروقت کارروائی کر کے باقی ارکان اسمبلی کو “پیغام” دیدیا جائے کہ دوہری پالیسیاں اب نہیں چلیں گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے دو تین ہفتوں کے دورانحکومتی و پارٹی لیول کے ساتھ ساتھ پارٹی سطح پر بھی جہانگیر ترین اور ان کے قریبی ارکان اسمبلی کیخلاف بڑے سخت فیصلے کیئے جا سکتے ہیں
مسلم لیگ ن میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکالے جانے والے اراکین پنجاب اسمبلی میں اشرف انصاری، جلیل شرقپوری، فیصل نیازی، نشاط ڈاہا اور مولوی غیاث الدین شامل ہیں ۔
پانچوں ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی (ن) لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کے دستخطوں سے عمل میں آئی ہے،
ذرائع کا کہنا ہے کہ نکالےگئے 5 ارکان کی پنجاب اسمبلی سے رکنیت ختم کرنے کیلئے پارٹی الیکشن کمیشن سے رابطہ کرے گی۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن)ٰ نے ایف اے ٹی ایف کی ووٹنگ میں غیرحاضر پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیئے ہیں جو راجا ظفر الحق کے دستخط سے جاری کیئے گئے ۔
جن ارکان کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے ان میں راحیلہ مگسی، کلثوم پروین، دلاور خان اور شمیم آفریدی شامل ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا ہےکہ شوکاز کی کارروائی کے بعد اگلے مرحلے کا فیصلہ ہوگا ۔ ن لیگ کی طرف سے کیئے گئے راست اقدام کے بعد متاثرہ ارکان اسمبلی نے بھی سخت جوابی ردعمل کا اظہار کیا ہے
مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی نشاط ڈاہا نے کہاہے کہ ن لیگ کیلئے اپنا ایمان نہیں بیچ سکتے،ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے،یہ ہم سے زبردستی استعفے نہیں لے سکتے ،جب ہمارے ساتھ لوگ ملیں گے تو ان کو پتہ چل جائے گا۔
نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق ن لیگ کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی نشاط ڈاہا نے پارٹی سے نکالے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ن لیگ کیلئے اپنا ایمان نہیں بیچ سکتے،ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان ہے۔
نشاط ڈاہا نے کہاکہ سچ بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا،عظمیٰ بخاری نے شہبازشریف کو غدار کہاتھا، انہوں نے کہاکہ یہ ہم سے زبردستی استعفے نہیں لے سکتے ،راناثنااللہ اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ نہیں مانگ سکتے ،جب ہمارے ساتھ لوگ ملیں گے تو ان کو پتہ چل جائے گا۔
لیگی رہنما اشرف انصاری نے کہا ہے کہ نواز شریف کے فوج کےخلاف بیان کو بھارت اپنے مفاد کےلئے استعمال کررہا ہے،ایسے بیانیے کے ساتھ ہوں اور نہ ہی میرے جیسے کئی اور ارکان اسمبلی ہیں،اداروں کے خلاف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ نہیں ہوں ۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اشرف انصاری نے پارٹی سے نکالے جانے پر نجی ٹی وی ہم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی سے نکالے جانے کا مجھے میڈیا کے ذریعے پتاچلا، میرے ساتھ کسی نے رابطہ کیا نہ کسی نے پوچھا،میرے ساتھ رابطہ کیا ہوتا تو بتاتا وزیر اعلیٰ سے ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا،
اشرف انصاری نے کہاکہ پارٹی میں جو آمریت چل رہی ہے یہ پارٹی کو تباہ کرے گی،پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ زیادتی اور ظلم پر مبنی ہے اس کو تسلیم نہیں کرتا،لیگی رہنما نے کہاکہ نواز شریف کا فوج کے خلاف بیان کو بھارت اپنے مفاد کےلئے استعمال کررہا ہے،ایسے بیانیے کے ساتھ ہوں اور نہ ہی میرے جیسے کئی اور ارکان اسمبلی ہیں،اداروں کے خلاف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ نہیں ہوں ۔
مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی مولوی غیاث الدین نے کہاہے کہ پارٹی ٹکٹ کا محتاج نہیں ،اپنے علاقے سے آزاد حیثیت سے جیت سکتا ہوں۔
مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی مولوی غیاث الدین نے پارٹی سے نکالے جانے پر نجی ٹی وی 92 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ شوکاز نوٹس پر جواب دیاتھا،ملاقات سے پارٹی کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ،وزیراعلیٰ، وزیراعظم آئینی طور پر منتخب ہوئے، ملاقات میں کوئی حرج نہیں ، اپنے حلقے کے مسائل کیلئے وزیراعلیٰ سے ملاقاتیں کیں۔
مولوی غیاث الدین نے کہاکہ پارٹی ٹکٹ کا محتاج نہیں ،اپنے علاقے سے آزاد حیثیت سے جیت سکتا ہوں،انہوں نے کہاکہ ن لیگ سے ملاقات نہیں کروں گا اگروہ چاہیں تو ملنے آسکتے ہیں ۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور ایم پی اے جلیل شرقپوری نے کہا ہے کہ جس نے بھی پارٹی سے نکالنےکا فیصلہ کیا،جلد بازی میں کیا،اس کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ،جمہوری پارٹیوں میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سب اپنی اوقات میں رہ کر بات کریں، ملاقات میں پارٹی کی کون سی خلاف ورزی ہوئی ؟،جو نوٹس آیا اس کو میں چیلنج کر سکتا ہوں نوٹس میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ،جس نے نوٹس بنایا اس کو بھی نوٹس نہیں بناناآتا،انہوں نے کہاکہ اگرکسی کیساتھ اختلاف ہے تو اس میں غصے والی بات نہیں ۔
واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 ارکان پنجاب اسمبلی نے قیادت کو مطلع کیے بغیر 2 جولائی کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی جن میں میاں جلیل احمد شرقپوری، چوہدری اشرف علی انصاری، نشاط احمد ڈاہا ، غیاث الدین، اظہر عباس اور محمد فیصل خان نیازی شامل تھے۔
جلیل شرقپوری کی نوازشریف کی تقریر پر تنقید
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی جلیل شرقپوری نے اے پی سی میں اپنے پارٹی قائد نوازشریف کی تقریر پرتنقید کی تھی اور اسے قومی مفاد کے خلاف قرار دیا تھا جس پر پارٹی نے ان کی رکنیت معطل کردی تھی۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کی مسلح افواج اور ایجنسیوں سے ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »