ایس پی انویسٹی گیشن کے ‘‘اپنے گھر’’ میں انویسٹی گیشن کی تذلیل

ایس پی انویسٹی گیشن کے ‘‘اپنے گھر’’ میں انویسٹی گیشن کی تذلیل
ناشتہ ، عقاب صحرائی
30-08-2022
پنجاب پولیس کے ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن ، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ اور ڈی آئی جی لیگل ہمارے آج کے ”ناشتہ“ کے مہمان خاص ہوں گے ، آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہماری قلمی دنیا کی ” آج کی شام “ پنجاب پولیس کے انویسٹی گیشن ، اسٹیبلشمنٹ اور لیگل ڈیپارٹمنٹس کے نام ہے ۔ اُمید کرتے ہیں کہ یہ ”خاموش چیخیں“ آئی جی پنجاب جناب فیصل شاہکارصاحب ، ایڈیشنل آئی جی ساﺅتھ پنجاب جناب احسان صادق صاحب ، آر پی او بہاولپور جناب صادق علی ڈوگر صاحب اور ڈی پی او رحیم یارخان جناب اختر فاروق کے کانوں تک بھی ضرور پہنچیں گی ، اس ”سمع خراشی“ پر پنجاب پولیس کے ان تمام ”مقتدرحلقوں“ سے پیشگی معذرت ۔۔۔۔ کہ ہم شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے پیروکاروں میں سے ہیں کہ جنہوں نے اللہ رب العزت سے”ہمکلام“ ہونے کیلئے بھی ”شکوہ ، جواب شکوہ“ کا اسلوب اپنایا تھا اور فرمایا تھا کہ
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں؟
فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا ! میں بھی کوئی گل ہوں؟ کہ خاموش رہوں
جرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ہے مجھ کو
ہے بجا ، شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصہ درد سناتے ہیں ، کہ مجبور ہیں ہم
سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ ، تو معذور ہیں ہم
اے خدا ! شکوہ اربابِ وفا بھی سن لے
خوگرِ حمد سے ، تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
پنجاب پولیس کسی زمانے میں انویسٹی گیشن کے شعبے میں چاروں صوبوں کی پولیس میں پہلے نمبر پر ہوا کرتی تھی ، لیکن رفتہ رفتہ یہ امتیازی پوزیشن ختم ہوتی گئی اور خیبر پختونخوا پولیس نے یہ اعزاز اپنے نام کر لیا ، یہ ”حادثہ“ ایک دم رونما نہیں ہوا ، نااہلی ، اقربا پروری ، کرپشن اور سیاسی دباﺅکے ناسور نے اب تو کینسر کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ قابل اجمیری کا مشہور شعر ہے
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ۔۔۔۔ ایک دم نہیں ہوتا
رحیم یارخان پولیس کی ویلفیئر کے نام پر محکمے میں جو ”ڈارک ویب“ یا ”انڈر ورلڈ“ قائم ہوچکی ہے ، آج ہم اس کا رونا بھی روئیں گے اور جنوبی پنجاب کے اُن بڑے پولیس افسران کے والدین سے بھی ”اظہار افسوس“ کریں گے کہ جنہوں نے نہ جانے کیسے کیسے ”حسیں خواب“ دیکھ کر اپنے بچوں کے نام دوست محمد ، احسان صادق ، صادق علی اور اختر فاروق رکھے تھے ۔ لیکن عظیم ماں باپ کے خوابوں کی عملی تعبیر یہ ہے کہ اُن کے یہ چشم وچراغ نہ تو باطل کے مقابلے میں ”حق“ کے حق میں کوئی ”فرق“ قائم کر پا رہے ہیں ، نہ صادق دوست ہونے کا حق ادا کرنا خود پر لازم سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی ”دوست محمد“ لگتے ہیں !
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے کہ تین طرح کے آپ کے دوست ہیں اور تین طرح کے دشمن ۔۔۔۔ دوستوں کی فہرست میں پہلے آپ کے ڈائریکٹ دوست ، دوسرے دوست کے دوست اور تیسرے دشمن کے دشمن ۔۔۔۔ اسی طرح دشمنوں کی فہرست میں ۔۔۔ ایک آپ کے ڈائریکٹ دشمن ، دوسرے آپ کے دشمن کے دوست اورتیسرے آپ کے دوست کے دشمن ۔۔۔۔ یوں دیکھا جائے تو جو شخص محمد ﷺ کا دوست یعنی ”دوست محمد“ ہے اُسے محمد ﷺ کے دوستوں کا دوست اور محمد ﷺ کے دشمنوں کا دشمن ہو نا چاہیئے ۔
محمد ﷺ کن کے دوست تھے ؟ یہ واضح پیغام آپ کی جوانی کے ایام میں مکہ میں کیئے گئے معاہدہ حلف الفضول سے واضح ہے کہ جب آپ کی عمر مبارک صرف 20 برس تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک چچا زبیر بن عبد المطلب اورمکہ کے بعض دوسرے عوام دوست سرداروں نے مروجہ قبائلی تعصب سے الگ ہو کر اور رنگ و نسل کے امتیاز سے بالاتر ہو کر ہر مظلوم کی حمایت ونصرت کے عنوان سے مکہ مکرمہ کے لوگوں کو ایک ‘‘ نیو سوشل کنٹریکٹ’’ کا حصہ بنایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت جوش وجذبے کے ساتھ اس اجتماعی حلف میں شمولیت اختیار کی اور اسی معاہدے ، اسی اجتماعی حلف کو ”حلف الفضول“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندگی بھر اس معاہدے کا حصہ ہونے پر فخر کرتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ ‘‘ میں عبدللہ بن جدعان کے گھر میں منعقد ہونے والے معاہدہ ‘‘ حلف الفضول ’’ میں شریک تھا ، اگر آج (زمانہٴ اسلام میں ) بھی مجھ کو اس کا واسطہ دے کر بلایا جائے تو میں ضرور مدد کو پہنچوں گا ’’
مکہ کے لوگوں نے لُٹے پٹے لوگوں کو اُن کا چھینا اور لوٹا گیا مال واپس دلوانے کےلیے یہ معاہدہ کیا تھا ، ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘ اس اتحاد کے عوض مجھ کو سرخ اونٹ لینا بھی منظور نہیں’’ ۔۔ بعض روایتوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں حق و انصاف کی دہائی کے لیے حلف الفضول کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی ۔۔۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بنواُمیہ کے دور حکومت میں ایک موقع پر امیر مدینہ ولید بن عتبہ کے ساتھ اپنے ایک قضیہ میں ان الفاظ سے عوامی مدد طلب کی تھی۔
‘‘تم میرے ساتھ حق و انصاف کا معاملہ کرو، ورنہ میں اپنی تلوار لوں گا اور مسجدِ رسول ﷺ میں کھڑے ہوکر حلف الفضول کی دہائی دوں گا ’’
حلف الفضول کی اصطلاح کا ایسا اثر تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہہ ، حضرت مسعود بن مخرمہ زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور حضرت عبدالرحمن بن عثمان زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہہ اس لفظ کو سنتے ہی حضرت امام حسین علیہ السلام کی حمایت ونصرت کے لیے کھڑے ہو گئے ، حضرت عبداللہ بن زبیر زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی تائید میں جو جملے کہے اس سے بھی حلف الفضول کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، انہوں نے فرمایا ،
‘‘اور میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ اگر انہوں نے ”حلف الفضول“ کا واسطہ دیا تو میں بھی اپنی تلوار اٹھاوٴں گا اور ان کا ساتھ دوں گا، یا تو ان کا حق ملے گا یا ہم دونوں مرجائیں گے’’
لٹے پٹے اور مظلوم لوگوں کی مدد کیلئے اس شدت کے ساتھ اُٹھنا کہ اپنی ذاتی سلامتی اور اپنے ذاتی مفادات سب خطرے میں پڑ جائیں رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے ، اس جذبے کا ایک اور عکس آپ کے سب سے قریبی دوست ” یارغار“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے منصب خلافت سنبھالنے کے فوری بعد دیئے گئے خطبے میں بھی موجود ہے ، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل مدینہ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ تم میں سے جو سب سے زیادہ کمزور ہے وہ میرے نزدیک سب سے زیادہ طاقتور ہے جب تک میں اُسے اُس کا حق دلا نہ دوں اور تم میں سے جو سب سے زیادہ طاقتورہے وہ میرے نزدیک سب سے زیادہ کمزور ہے جب تک میں اُس سے (کمزور کا) حق وصول نہ کر لوں ۔۔۔ یہ یے رسول اللہ ﷺ کے دوستوں اور آپ ﷺ کے دوستوں کے دوستوں کا کنڈکٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے بھی بڑا حوالہ یہ ہے کہ معاشرے کے یہ پسے ہوئے طبقات صرف حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہی دوست نہیں ، بلکہ ان کا ایک مقام اس سے بھی بلند تر ہے ، مسند احمد بن حنبل کی حدیث مبارکہ نمبر 17265 ہے ، ” الکاسب حبیب اللہ “ ۔۔۔۔ یعنی کسب کرنے والے ، کام کرنے والے (ورکنگ کلاس) اللہ کے پیارے ہیں ، اللہ کے حبیب ہیں ، اللہ کے دوست ہیں ۔
قارئین کرام ! اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے دوستوں سے زیادتی کا معاملہ ہو اور آپ کا نام بھی دوست محمد ہو ، اس کے باوجود آپ کے عمل میں ۔۔۔۔ آپ کے کنڈکٹ میں ۔۔۔۔ ”حق دوستی“ ادا کرنے کی ہلکی سی جھلک بھی دکھائی نہ دے تو اس پر یہ نام رکھنے والے عظیم والدین سے اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مثل مشہور ہے کہ ۔۔۔۔ آنکھوں سے اندھی اور نام ”نور بی بی“ ۔۔۔۔ اسے آپ ”اونچی دوکان پھیکا پکوان“ ۔۔۔۔ سمیت کئی نام دے سکتے ہیں ۔
قارئین کرام ! 3 صوبوں کے سنگم کے ایس پی انویسٹی گیشن کے ” اپنے گھر“ میں یعنی اپنے آفس میں کی گئی ”انویسٹی گیشن“ کی اس سے زیادہ تذلیل کیا ہو سکتی ہے؟ ۔۔۔۔ کہ مدعی کو انصاف دلوانے کی بجائے اُسے اُس کے ”ملزم نمبر ون“ کے حوالے کر دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔!
ان سطور کی وساطت سے ہم پنجاب پولیس کے ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن اور ڈی آئی جی لیگل سے یہ معصومانہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ پہلے پولیس چوکی ، پھر متعلقہ تھانے ، اس کے بعد ڈی پی او آفس کی کھلی کچہری ، پھر ڈی ایس پی صدر کی انویسٹی گیشن کا طویل اور تھکا دینے ولا سفر طے کرنے والی مدعیہ جب ڈھائی تین ماہ ہسپتالوں اور تھانوں کے چکر لگانے کے بعد آر پی او کی کھلی کچہری میں داد فریاد کرے اور گھومتا پھرتا یہ کیس ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر میں پہنچ جائے اور غریب کھیت مزدور خاتون آخری اُمید لے کر وہاں پہنچے اور ایس پی انویسٹی گیشن اُس کیس کی تفتیش واپس اُسی اے ایس آئی و چوکی انچارج کے حوالے کر دیں کہ جس کی ملی بھگت سے خورشید مائی بے حرمتی واغوا کیس کے بااثر ملزمان نے غریب کھیت مزدور گھرانے کی خواتین سے لرزہ خیز دہشت گردی کی تھی ، اور دو ڈھائی سوافراد کے سامنے چادر و چاردیواری کا تقدس سرعام پامال کیا تھا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس پورے پولیس سسٹم کا ”ماتم“ کرنے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے؟
ستم بالائے ستم یہ کہ اس انتہائی غیر پیشہ ورانہ طرز عمل اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا ارتکاب جس پولیس آفیسر کی طرف سے کیا جائے اُس کا نام بھی دوست محمد ہو ! ۔۔۔۔۔ استغفراللہ ، استغفراللہ ، استغفراللہ
آر پی او بہاولپور جناب صادق علی ڈوگر کو ہم یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ، مظلوم خورشید مائی ڈی پی او آفس میں منعقدہ آپ کی کھلی کچہری میں بھی پیش ہوئی تھی ، اس وقت کے ڈی پی او رحیم یارخان کیپٹن (ر) محمد علی ضیاء بھی آپ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور مظلوم خورشید مائی اور اس کی بہن نے آپ کو بتایا تھا کہ وہ ان ڈی پی او صاحب کی کھلی کچہری میں بھی پیش ہوئی تھیں اور آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ڈی پی اوکیپٹن (ر) محمد علی ضیاء نے اثبات میں سر ہلایا تھا کہ ہاں واقعی یہ خواتین اُن کے پاس آئیں تھیں اور اُنہوں نے میرٹ پر تفتیش کا حکم بھی دیا تھا ۔
آر پی او بہاولپور جناب صادق علی ڈوگرصاحب ! اُس روز مظلوم خورشید مائی کی دکھ بھری داستان سن کر آپ بھی سخت برہم ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ غریب آدمی کی ایف آئی آر تک درج نہ کی جائے ۔ آپ نے اس کیس کی تفتیش ایس پی صدر رحیم یارخان غلام دستگیر لنگاہ کے حوالے کی ۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر ہوا یوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔ لنگاہ صاحب نے( اپنی جان چھڑانے کیلئے ) یہ تفتیش آگے ”لنگاہ“ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ معاملہ ایس پی انویسٹی گیشن کے حضور پیش ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ اُنہوں نے جو کیا، اس کا رونا ہم انہی سطور میں رو چکے ہیں ۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب رحیم یارخان کے سابق قائمقام صدر اور نوائے وقت کے موجودہ ڈسٹرکٹ رپورٹر جناب بشیر چوہدری صاحب کے ہمراہ اگلے روز ہم اس کرائم اسٹوری کا فالواپ لینے کیلئے ایس پی انویسٹی گیشن آفس گئے اور ایس پی انویسٹی گیشن کے ریڈر سے ملے تو اس نے بتایا کہ ”صاحب “ نے کل دونوں ( اے ایس آئی اور خورشید مائی ) کو سنا تھا اور کیس نمٹا دیا ہے ، ہم نے پوچھا ۔۔۔ ‘‘کیا آرڈر جاری کیا ”صاحب “ نے؟ ۔۔۔۔ تو ریڈر نے جواب دیا کہ اُنہوں نے چوکی انچارج راجن پور کلاں اے ایس آئی فدا حسین ڈریگھ کو ”میرٹ“ کرنے کا حکم دیدیا ہے ۔۔۔۔ ہم نے بے ساختہ پوچھا ۔۔۔۔ ” میرٹ “ کرنے سے مطلب ؟ ۔۔۔۔ اس پر ریڈر نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ اے ایس آئی اپنا ”میرٹ “ تو پہلے ہی کر چکا ہے ۔۔۔۔ وہ اس سارے وقوعے کو من گھڑت کہتا ہے ۔۔۔۔۔ اب وہ اپنے کیئے ہوئے ” میرٹ“ کیخلاف کیسے جا سکتا ہے ؟
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
قارئین کرام ! آر پی او بہاولپور کے نام درخواست میں خورشید مائی نے اپنی ایف آئی آر درج کرنے اور کیس کی میرٹ پرتفتیش کیلئے چار پانچ بنیادی مطالبے کیئے تھے ، ہمارا آئی جی پنجاب جناب فیصل شاہکارصاحب ، ایڈیشنل آئی جی ساﺅتھ پنجاب جناب احسان صادق صاحب ، آر پی او بہاولپور جناب صادق علی ڈوگر صاحب اور ڈی پی او رحیم یارخان جناب اختر فاروق سے ایک ہی معصومانہ سوال ہے کہ ان میں سے کون سا مطالبہ غیر قانونی ہے یا غیر منطقی ہے ؟
(1) جرگہ گردی کے اس لرزہ خیز وقوعے کی سائنٹفک بنیادوں پر تفتیش یقینی بنانے کیلئے وقوعہ کے روز کی ” تینوں فریقوں“ یعنی مدعی ، ملزمان اور مقامی پولیس کے موبائل فونز کی ڈیٹا لوکیشنزنکلوائی جائیں۔
(2) خورشید مائی کے گھر ، اور دریائے سندھ کے کنارے کچہ ایریا کے نجی ٹارچر سیل ( دونوں مقامات ) کی جیوفینسنگ کو کیس کی انکوائری کا باضابطہ حصہ بنایا جائے
(3) اس بات کی انکوائری کروائی جائے کہ اے ایس آئی فدا حسین ڈریگھ نے وقوعے کے روز سے ہی یہ موقف اختیار کیوں کرنا شروع کر دیا کہ غریبب کھیت مزدور خاتون کو نام نہاد کھوجی کتے نے نہیں کاٹا ، جبکہ بعد ازاں خورشید مائی کو کتے کے کاٹے کی ویکسین لگائی گئی اور ایم ایل سی میں کتے کے کاٹنے کی تصدیق بھی ہو گئی !
(4) اس بات کی انکوائری کروائی جائے کہ غیر قانونی جرگہ منعقد کر کے نجی پولیسنگ کرنے ، گھر پر دھاوا بولنے ، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خورشید مائی کے بھائی مشتاق کو اغوا کر کے دریائے سندھ کے کچہ ایریا لے جا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے اس سارے لرزہ خیز وقوعے کے دوران اور اس سے قبل ۔۔۔ بااثر ملزمان پولیس چوکی راجن پور کلاں کے انچارج اے ایس آئی فدا حسین ڈریگھ اور ایس ایچ او تھانہ آباد پور نوید نواز واہلہ سے رابطے میں تھے یا نہیں ؟
(5) خورشید مائی کے بھائی مشتاق کو اغوا کرنے والوں نے بعد ازاں اسے پولیس تھانہ آباد پورکے حوالے کر دیا تھا ، جہاں وہ تین چار دن غیر قانونی حراست میں رہا اور ایک پرانے کیس میں اُس کا ریمانڈ بھی لیا گیا ، اگر وہ جرگہ گردی کے ملزماں جام لطیف آرائیں کی مبینہ چوری میں مطلوب تھا تو اس کیخلاف یہ ایف آئی آر بروقت درج کیوں نہیں کی گئی ؟ اور ہفتہ بھر تک پولیس کی قانونی وغیر قانونی حراست کے دوران جام لطیف آرائیں کی مبینہ چوری کی تفتیش کیوں نہیں کی گئی ؟
قارئین کرام! آخر میں ہم پنجاب پولیس کے انویسٹی گیشن، اسٹیبلشمنٹ اور لیگل ڈیپارٹمنٹس سے بھی یہ معصومانہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ صوبے کی ٹیل پر کام کرنے والے پولیس افسران کے کنڈکٹ کی مانیٹرنگ کا صوبائی لیول کا اُن کا بھی کوئی سسٹم ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ ضلع رحیم یارخان کوئی ”راجواڑہ“ ہے؟ اور یہاں ”سکھا شاہی“ ہے کہ جس آفیسر کا جو جی چاہے وہ کرے! ۔۔۔۔ اور اسے اپنے کسی بھی غیر قانونی فعل کی جوابدہی کا ذرہ برابر خوف بھی نہ ہو ؟
رحیم یارخان پولیس کے راز ہائے درون خانہ سے آگاہ حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ غریب عوام کے ساتھ زیادتیوں کی ایف آئی آرز تک درج نہ کیئے جانے کے ان گنت واقعات کی اصل وجہ وہ روایتی پولیس کلچر ہے کہ جس کے تحت تھانیداروں کی تقرریاں اور تبادلے ہوتے ہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈی پی او آفس کی سکیورٹی برانچ کے افسران جناب حسین نظامی صاحب اور جناب غضنفر باجوہ صاحب محکمے کی وہ ”ڈارک ویب“ چلا رہے ہیں کہ جو ”پولیس ویلفیئر فنڈ“ اکھٹا کرتی ہے ، اگر ڈی پی او صاحب اسد سرفرازخان جیسے، یا ، کیپٹن (ر) محمد علی ضیا جیسے آ جائیں تو اس ”پولیس ویلفیئر فنڈ“ کی شرح دگنی کرکے اس میں ” آفیسرز ویلفیئر فنڈ “ بھی شامل کر دیا جاتا ہے ، یوں ہر تھانے وچوکی پر ”ماہانہ فنڈ کی مقدار“ دوگنی کردی جاتی ہے اور محکمے کی اس ”ڈارک ویب“ کی براہ راست سرپرستی ایس پی انویسٹی گیشن کے سپرد رہتی ہے ، واللہ واعلم باالصواب
خداوندان پنجاب پولیس سے ہماری درخواست ہے کہ ” ڈارک ویب، پولیس ویلفیئر فنڈ اور آفیسرز ویلفیئر فنڈ “ کے حوالے سے اس تھوڑا کہے کو بہت جانیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور خورشید مائی بے حرمتی وغوا کیس کے حوالے سے بھی ہم نے جس ظلم عظیم کی طرف توجہ دلائی ہے اس پر بھی نظر کرم فرمائیں ۔۔۔۔ وگرنہ جہاں تک ہمارے اس ”توجہ دلاﺅ نوٹس“ نما ”ناشتہ“ کا معاملہ ہے ، ہم اپنی سی کوشش جاری رکھیں گے اور جس طرح بار بار اس مسئلے کی طرف توجہ دلا چکے ہیں ۔۔۔۔۔ آئندہ بھی دلاتے رہیں گے کہ آخر کسی روز تو ہماری یہ ”خاموش چیخیں“ ڈی پی او رحیم یارخان اور ایس پی انویسٹی گیشن کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جائیں گی ۔۔۔۔ ‘‘دنیا بہ امید قائم’’ ۔۔۔۔ ہمارا ”قلمی جہاد“ جاری رہے گا ، تاآنکہ یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا ۔ بقول شاعر
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذری ہے، رقم کرتے رہیں گے
اک طرز تغافل ہے ، سو وہ اُن کو مبارک
اک عرض تمنا ہے ، سو ہم کرتے رہیں گے

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button