آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کو مزید اختیارات دینے بارے اسٹینڈنگ آرڈر جاری کردیا۔

اسٹینڈنگ آرڈر میں آپریشنل، انویسٹی گیشن، انتظامی اور مالی امور سے متعلق اختیارات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
گریڈ 18تک ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر سمیت ایگزیکٹو، منسٹریل اور دیگر سٹاف کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے مجاز ہونگے۔
انویسٹی گیشن سے متعلقہ تمام امور کی نگرانی اورتیسری مرتبہ انویسٹی گیشن کی تبدیلی کیلئے منظوری دینا بھی شامل ہے۔
ریجنل پولیس آفیسر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز کی اے سی آرز اپنی ڈائریکٹ کمانڈ میں لکھیں گے جبکہ گریڈ 17تک ایگزیکٹو اور منسٹریل سٹاف کے پنشن کیسزکی منظوری دیں گے۔آئی جی پنجاب

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے کہاہے کہ حکومت پنجاب کے ویژن کے تحت موثر پولیسنگ سے جنوبی پنجاب کے شہریوں کوہر ممکن ریلیف دینے اور انکی دہلیز پر ہی مسائل کے حل کیلئے ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کو مکمل بااختیار اور مضبوط بنایا جارہاہے تاکہ وہ انتظامی، مالی و آپریشنل معاملات کو بہتر انداز میں نبرد آزما ہوکر نہ صرف پولیس سیٹ اپ کو مضبوط بنائیں بلکہ سمارٹ اینڈ کمیونٹی پولیسنگ کے تحت عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف دے سکیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کے اختیارات اور فرائض بارے نیا اسٹینڈنگ آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے تحت انہیں گریڈ 18تک ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر سمیت ایگزیکٹو، منسٹریل اور دیگر سٹاف کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے مکمل اختیارات دے دئیے گئے ہیں جبکہ ساتھ ہی سروس اور ڈسپلن سے متعلقہ امور میں گریڈ 17تک ایگزیکٹو اور منسٹریل سٹاف کی اپیلوں بارے جزاؤں اور سزاؤں کے فیصلے کرنے میں مکمل با اختیار ہونگے تاکہ وہ جنوبی پنجاب کے تین ریجنز اور گیارہ اضلاع کے عوام کی خدمت اور حفاظت کے فرائض بطریق احسن اور آزادی سے سر انجام دے سکیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے انویسٹی گیشن سے متعلقہ امور کی نگرانی کے تمام اختیارات بھی ایڈیشنل آئی جی کے سپرد کئے گئے ہیں جس میں تیسری مرتبہ انویسٹی گیشن کی تبدیلی کیلئے منظوری دینے کا اہم اختیار بھی شامل ہے جبکہ وہ ریجنل پولیس آفیسرز، ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز کی پرفارمنس ایویلوئیشن رپورٹس (PERs) بھی اپنی ڈائریکٹ کمانڈ میں لکھیں گے اور گریڈ 17تک ایگزیکٹو اورمنسٹریل سٹاف کے پنشن کیسز کی منظوری بھی دیں گے۔
اسٹینڈنگ آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب کے فرائض اور اختیارات میں آپریشنل، انویسٹی گیشن، انتظامی اور مالی امور سے متعلق اختیارات کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ اورمکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے کر حکومتی ویژن کی تکمیل کرسکیں۔اسٹینڈنگ آرڈر کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب ڈیرہ غازی خان، بہاولپوراور ملتان ریجن کے اضلاع میں پبلک آرڈرکو برقرار رکھنے، جرائم کی روک تھام، عوام کے تحفظ، پولیس آپریشنز، انویسٹی گیشن، ٹریفک، پولیس کے دیگر فرائض سمیت پولیس آرڈر 2002کے آرٹیکل 3اور4میں درج فرائض کی نگرانی کریں گے۔ اسی طرح ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کو انویسٹی گیشن سے متعلقہ تمام امور کی نگرانی،انویسٹی گیشن کے حوالے سے جاری کردہ اسٹینڈنگ آرڈرز، اورپولیس آرڈر2002کے آرٹیکل 18اور 18Aکے تحت تفتیش سے متعلقہ صوبائی پولیس سربراہ کے تمام اختیارات حاصل ہونگے جس میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق تیسری مرتبہ انویسٹی گیشن کی تبدیلی کیلئے منظوری دینا بھی شامل ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ساؤ تھ پنجاب گریڈ 18تک ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر سمیت ایگزیکٹو، منسٹریل اور دیگر سٹاف کی ٹرانسفر پوسٹنگ کرنے کے مجاز ہونگے جبکہ سروس اور ڈسپلن سے متعلقہ امور جیساکہ گریڈ 17تک ایگزیکٹو اور منسٹریل سٹاف کی اپیلوں بارے انتظامی اختیارات استعمال کرسکیں گے۔ریجنل پولیس آفیسر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز کی اے سی آرز اپنی ڈائریکٹ کمانڈ میں لکھیں گے جبکہ سٹی پولیس آفیسر،ڈی پی او اور دیگر افسران کی اے سی آرز پر کاؤنٹر سائن کریں گے اسی طرح گریڈ 17سے 19تک ایگزیکٹو آفیسرزاور گریڈ 17تک منسٹریل سٹاف اے سی آرزمیں سیکنڈ کاؤنٹر سائننگ آفیسر کے اختیارات استعمال کریں گے۔
اسٹینڈنگ آر ڈر کے مطابق ایڈیشنل آئی جی ساؤ تھ پنجاب نئے فنکشنل ہیڈ "LQ-South Punjab”کے کنٹرولنگ آفیسر کے اختیارات استعمال کریں گے جس کا یکم جولائی 2021سے جنوبی پنجاب کے تین پولیس ریجنز اور 11اضلاع کیلئے آغازہورہا ہے۔اسی طرح "LQ4126-SUPERINTENDENCE” فنکشل ہیڈ کے تحت مالی امور کی نگرانی بھی انہی کے سپرد ہے پولیس ریجنز، اضلاع اور دیگر دفاتر کے تمام مالی معاملات کی نگرانی کریں گے۔گریڈ 17تک ایگزیکٹو او ر منسٹریل سٹاف کے پنشن کیسزکی منظوری دیں گے۔ایک کیس میں 5لاکھ تک میڈیکل اخراجات کے بل اور ٹی اے ڈی اے بلز کی منظوری دیں گے۔سی ٹی ڈی اور دیگر صوبائی اداروں کو آپریشن، انکوائری اور تفتیشی امور میں تعاون فراہم کریں اور آئی جی پنجاب کو مطلع رکھیں گے۔تمام ترقیاتی سکیموں کی نگرانی، ان پر پیش رفت کا جائزہ اور مستقبل کیلئے نئے پراجیکٹس اور پروگرامز کی منصوبہ بندی کریں گے۔ آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی جانب سے فنڈز کی ڈیمانڈ بارے بجٹ تیار کریں گے۔ لاجسٹکل، مالی اور ہیومن ریسورس کی نگرانی اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کی نگرانی کریں گے۔
اسٹینڈنگ آرڈر میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ ایڈیشنل آئی جی ساؤ تھ پنجاب تھانوں، پولیس لائنز، دفاتر سمیت دیگر پولیس دفاتر میں جاری کردہ ہدایات کی چیکنگ کیلئے بروقت رسمی و غیر رسمی انسپکشن کریں گے۔فورس کی ویلفیئر اور تربیتی امور کے حوالے سے جاری پروگرامز کی نگرانی کریں گے۔ عوامی شکایات کے بروقت ازالے کیلئے پبلک کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کی نگرانی کریں گے۔ سنٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات، پالیسیز اور ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ ڈی ایس پی یا دیگرسینئر افسران کی کارکردگی،راست بازی اور پبلک سروس ڈلیوری کے معیار کے متعلق آئی جی پنجاب کو مطلع رکھیں گے۔سنٹرل پولیس آفس کے دیگر شعبوں اوردیگر پولیس یونٹس کے ساتھ کوارڈی نیشن رکھیں گے۔ بوقت ضرورت DDO کے اختیارات استعمال کرسکیں گے۔آئی جی پنجاب نے سٹینڈنگ آرڈرجاری کرتے ہوئے مزید تاکید کی ہے کہ اسٹینڈنگ آرڈرز میں درج تمام ہدایات اور احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایاجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »