بریکنگ نیوزخبریں

محکمہ انہار کاسب انجینئر28کروڑ روپے جائیداد کا مالک نکلا

محکمہ انہار کا کنگلا سب انجینئراطہر جمیل آج 28کروڑ روپے جائیداد کا مالک،بچے اعلیٰ سکولوں میں زیر تعلیم،ماہانہ تعلیم پر لاکھوں روپے کا خرچ،ہر سال نئی وی آئی پی گاڑی،غازی پور اور خان پور میں عالیٰ شان کوٹھی،ایری گیشن آفیسران کو کرپشن کی رقم کا آدھا حصہ پہنچاتا ہے،بقیہ رقم اپنے استعمال میں لاتا ہے،ایری گیشن آفیسران نے نمک حلالی کا حق ادا کرتے ہوئے اطہر جمیل کو غیر قانونی SDOبنایا تھا،ایک ماہ کی SDOشب 8کروڑ روپے کا سرکار مال پار،بہتی گنگا میں رحیم یار خان ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسران بھی پیچھے نہ رہے، وزیر اعظم سٹیزن پورٹل میں غلط رپورٹ دینے پر چیف انجینئر عابد مسعودپھنس گیا، سب انجینئراطہر جمیل،ایکسین عبدالستار،SEمرتضیٰ بلوچ اورچیف انجینئر عابد مسعود کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع،چیف انجینئر ایری گیشن ملتان اور ساہیوال نے رپورٹ سیکریٹری ایری گیشن کو ارسال کردی،گورنمنٹ کنٹریکٹر ملک محمد افضل انکوائری آفیسر کے سامنے پیش،تمام دستاویزی شواہد فراہم کر دئیے،میں خاندانی امیر ہوں اطہر جمیل تفصیل کے مطابق سیکشن چاچڑاں کا کرپٹ سب انجینئر اطہر جمیل کنگلا سب انجینئر تھا اس کے پاس چڑھنے کے لیے سائیکل تک نہیں تھا آج ہر سال نئی اعلیٰ نسل کی گاڑی تبدیل کرتا آرہا ہے اور کرپشن بدعنوانی کے ذریعے غازی پور،خان پور میں تقریباً28کروڑ روپے کی جائیداد بنا رکھی ہے یہ تمام غیر قانونی اثاثہ جات اوپن ہیں اس کے علاوہ بینک بیلنس بھی اطہر جمیل مختلف ناموں سے رکھتے ہیں اور بچے اعلیٰ سکولوں میں زیر تعلیم ہیں جنکا ماہانہ خرچ ایک لاکھ روپے سے زائد ہے یہ سب کہاں سے آرہا ہے اطہر جمیل نے کون سی پیسے بنانے والی مشین لگا رکھی ہے کہ چند ہزار روپے تنخواہ لینے والا آج 3لاکھ روپے سے زائد کا ماہانہ بچوں گھر اور گاڑی کا خرچ برداشت کررہا ہے ذرائع کے مطابق اطہر جمیل نے اپنی کوٹھیوں میں موجود تمام اشیاء دبئی ودیگر بیرون ممالک سے منگوائی ہیں بہاول پور ایری گیشن زون میں اطہر جمیل واحد سب انجینئر ہے جو چیف انجینئر،SEاور ایکسین کا چہیتا ہوتا ہے اطہر جمیل کی شروع سے ایک صفت رہی ہے کہ کرپشن بدعنوانی کی رقم کا آدھا حصہ وہ اپنے بالا آفیسران تک ایمانداری سے پہنچاتا ہے  جسکی وجہ سے چیف انجینئر محکمہ انہار بہاول پورزون عابد مسعود،SEرحیم یار خان مرتضیٰ بلوچ،ایکسین کینال ڈویژن رحیم یار خان عبدالستار نے چاچڑاں سیکشن میں تعینات سب انجینئر اطہر جمیل کو سب ڈویژن ملکانی میں ایس ڈی او کا اضافی چارج سونپ دیاتھا حالانکہ مذکورہ سب انجینئر کا سنیارٹی لسٹ میں نمبر233واں نمبرتھا اور بنیادی تعیناتی ڈیرہ غازی خان زون کی تھی محکمانہ پالیسی کے تحت اضافی چارج رکھنے والے سب انجینئر کو فنانشل اختیارات نہیں مل سکتے مگر قوانین کی سریحاً خلاف وزی کرتے ہوئے چیف انجینئر بہاول پور عابد مسعود،SEرحیم یار خان مرتضیٰ بلوچ اور ایکسین محکمہ انہار رحیم یارخان عبدالستارنے سب انجینئر اطہرجمیل کو مذکورہ اختیارات دے رکھے تھے جس پر دفتر خزانہ رحیم یارخان کے آفیسران مدثر،نوید اشر ف، چوہدری طارق کی ملی بھگت سے تقریباً 8کروڑ روپے کے بل مشینری وغیرہ کی مدات میں نکلوائے جا چکے ہیں مذکورہ انچارج ایس ڈی او کے جاری کردہ بلوں پر مشینری ڈیپارٹمنٹ کو تین مختلف چیکوں کے ذریعے خلاف ضابطہ بلوں کی چلت بھی کردی ہے۔ اطہر جمیل سب انجینئر کے پاس SDOکا اضافی چارج تھا وہ کیسے اور کس قانون کے تحت چیکوں پر دستخط کرسکتا ہے؟کیا اس کے پاس چیک کاٹنے کی پاور تھی؟جب اطہر جمیل کے پاس SDOکا چارج تھا اس وقت تمام نہریں چینل بند تھے پھر کون سی ایمرجنسی آن پڑی تھی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی تھی کہ ایک ماہ کے اندر کروڑوں روپے کے بل بنا ڈالے؟پنجاب میں بدقسمتی کی انتہا دیکھئے کہ سیکریٹری ایرگیشن پنجاب کو اس بارے میں وزیر اعظم سٹیزن پورٹل کے ذریعے آگاہ کیا تو موصوف نے کرپشن کی گئی رقم 8کروڑ روپے کے مین پارٹنرحصہ دار چیف انجینئر انہار بہاول پور زون عابد سعید مسعود سے رپورٹ طلب کرڈالی اب وہ کیا رپورٹ دیتا کہ غلط کام ہوا البتہ چیف انجینئر انہار عابدسعید مسعود نے سیکریٹری ایریگیشن پنجاب کو یہ پیغام ضرور دیا ہوگا کہ جناب اس 8کروڑروپے کا حصہ تو جناب تک بھی پہنچا ہے پھر بھی آپ رپورٹ طلب کررہے ہیں؟عابد مسعود نے سٹیزن پورٹل پر غلط رپورٹ دے کر خود پھنس گیا جس پر اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع ہوگئیں گورنمنٹ کنٹریکٹر ملک محمد افضل نے پہلے تحقیقاتی آفیسر چیف انجینئر ایری گیشن ملتان کے رو بروپیش ہو کر آفیسران کے تمام کالے کارنامے دستاویزی شواہد کی صورت میں فراہم کردئیے اور مزید ساہیوال ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ میں بھی تحقیقات شروع ہو چکی ہیں چیف انجینئر عابد سعید مسعود SEمرتضیٰ بلوچ اور ایکسین عبدالستار سب انجینئر اطہر جمیل کو بچانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں ملک محمد افضل،عبدالغفار ارائیں،محمد فہیم نے چیئرمین قومی احتساب بیورو نیب پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نیب قوانین کے تحت اس انکوائری کو مکمل کیا جائے اور تمام آفیسران عابد سعید مسعود،مرتضیٰ بلوچ،عبدالستار اور اطہر جمیل کے خلاف فوری کاروائی کی جائے جبکہ اطہر جمیل نے اپنے مؤقف میں بتایا کہ میں خاندانی امیر ہوں ہمارا شمار لینڈ لاٹوں میں ہوتا ہے۔ رقم میں نے اکیلے نہیں کھائی کہ مجھے پریشانی ہو گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button