fbpx

عمر قید کا مطلب تا حیات قید یا پھر 25سال قید؟

سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم عبدالقیوم کی سزائے موت کیخلاف نظر ثانی درخواست خارج کر دی۔ پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی ملزم کو سزائے موت دی تھی،سپریم کورٹ نے بھی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے پوئے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمر قید سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمر قید کا یہ مطلب نکال لیا گیا 25 سال قید ہے۔انہوں نے کہاکہ عمر قید کی غلط مطلبلیا جاتا ہے،عمر قید کا مطلب ہوتا ہے تا حیات قید۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کسی موقع پر عمر قید کی درست تشریع کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایسا ہو گیا توپھر دیکھیں گے کون قتل کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا ہوا تو اس کے بعد ملزم عمر قید کی جگہ سزائے موت مانگے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »