fbpx

پاکستان کی عدالتوں کا احترام کرتا ہوں,کامران شاہ

رحیم یار خان کی معروف شخصیت متحرک سیاسی و سماجی رہنما سید کامران حسین شاہ نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کی عدالتوں کا احترام کرتا ہوں ۔ پاکستان کے تمام ریاستی اداروں کو دل سے محبت و عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ۔ اور دعا گو ہوں کہ پاکستان میں امن قائم ہو ۔ عام عوام کو انصاف ملے ۔ پاکستان کی سلامتی سب سے پہلے ہے ۔ سیاست سے زیادہ ملک کی سلامتی پہلے ہے ۔ قانون اور انصاف سے ہی ملک ترقی کرے گا ۔ ہر پاکستانی پر قانون کا احترام لازمی ہے ۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں  سید کامران نے کہا کے کچھہ عرصہ کے لیے اپنی کاروباری مصروفیات کے باعث تمام تر سیاسی سرگرمیاں مکمل طور ختم کر دی ہیں ۔ اس وقت میری تمام تر توجہ اپنے کاروبار کو فروغ دینے پر مرکوز ہے ۔ جہاں تک ماضی کی سیاسی جماعتوں کی وابستگی کا تعلق ہےتو کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے کا کوئی شوق نہیں ۔ اس موقع پر کچھہ تلخ حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے کامران شاہ کا کہنا تھا کہ  مجھے کافی عرصہ سے بدستور سیاسی مخالفت میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس موقع پر کوئی سیاست دان جن کے لیے میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا ۔ وہ سکون کی نیند سو رہے تھے۔ اس سے مجھے کافی سبق حاصل ہوا ہے ۔
اور یہ اب میرا تمام دوستوں کو پیغام ہے ۔ ملک کی ترقی کے لیے کاروبار میں مصروف ہوں ۔ کام کریں اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے کچھہ نہیں حاصل ہو گا ۔ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کریں ۔ یاد رہے ۔ سید کامران شاہ قانون کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں اور مستقبل میں اپنے والد محترم کی طرح وکالت کے پیشے سے وابستہ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔محترم کامران شاہ صاحب ۔پاکستان معروف قانون دان مرحوم محترم سید انعام حسین شاہ صاحب سینیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے سب سے چھوٹے صاحبزاے ہیں۔ اور پاکستان کے معروف سینیٹر صحافی کالم نگار برطانیہ میں مقیم میر اکرام حسین شاہ کے چھوٹے بھائی ہیں ۔اور ایک بھائی عمران حسین کینیڈا حکومت محکمہ صحت میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ۔ ان کے والد محترم کا نام رحیم یار خان شہر کی شخصیات و عدلیہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ سید کامران شاہ صاحب نے مزید کہا میں اپنی زندگی میں فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لوں گا ۔ انسانیت کی خدمت میں مصروف رہوں گا ۔ ہاں اب سیاسی جماعتوں کے لیے میرے پاس وقت نہیں رہا ۔ میرا وقت میرے دوستوں میری فیملی اور کاروبار کے لیے ہے ۔ فل حال سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ باقی سچ اور حق کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کرتی ہے ۔ ہم انسان ہیں فرشتے نہیں ۔ ہم سب سے زندگی میں سو انچ نیچ ہوتی ہے ۔ بے عیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close