fbpx
رحیم یارخان

میاں عامر ضیاء ٹیکس ایمنسٹی سکیم 2019ء کے بارے تفصیل بتاتے ہوئے

حکومت کی جانب سے دی گئی مہلت اور ایمنسٹی سکیم 2019ء درحقیقت محدود پیمانے پر اثاثہ جات ڈیکلریشن کا نادر ترین موقع ہے جو شاید دوبارہ نہ مل سکے

ضلعی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان ٹیکس بار کے نائب صدر میاں عامر ضیاء نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت فیصلہ کرچکی ہے کہ غیر دستاویزی اکنامی کو بتدریج دستاویزی شکل دیدی جائے اور اس کے تناظر میں محکمہ کی سطح پر بھی شناختی کارڈ کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل جاری ہے جس کے بعد از خود اثاثہ جات ڈیکلر/ ظاہر نہ کرنے والوں کو پریشانی کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ سزا کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام تاجر سے لیکر بڑے تاجروں کیلئے بھی کم ٹیکس شرح پر ٹیکس کی ادائیگی سے ناصرف چھوٹ مل سکتی ہے بلکہ وہ گذشتہ ایک سال کی ویلتھ اسٹیٹ منٹ کو بھی اپ گریڈ کرسکتے ہیں‘ حکومت کی متعارف کردہ اثاثہ جات ڈیکلریشن سکیم کے نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سکیم سے صرف نجی شعبہ سے وابستہ افراد ہی فائدہ لے سکتے ہیں‘ بیرون ممالک سے بھیجی گئی 5 ملین سے زیادہ کی رقم پر ادارہ ٹیکس گزار سے تفصیلات طلب کرسکے گا اس سکیم کے تحت سونا‘ بانڈز اور سیونگ سرٹیفکیٹس کو ڈیکلر نہیں کیا جاسکتا البتہ کیش کی رقم کو بینک کھاتہ میں جمع کرانے کے بعد 4 فیصد ادائیگی کرکے اس کو وائٹ کیا جاسکتا ہے‘ کاروباری حضرات بھی اسٹاک ویلیو کو ظاہر کرکے غیر ظاہر شدہ اثاثہ کو ڈیکلر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی متعارف کردہ خصوصی موبائل ایپ پر بھی ہر شخص اب دیکھ سکے گا کہ اس کے نام جائیداد‘ گاڑیاں‘ ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی سمیت بیرون واندرون ملک اثاثے اور غیر ملکی دوروں پر کتنا خرچ ہوا لہذا ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہم سب کو بروقت اس سکیم سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close