fbpx

صادق آباد پولیس کا 25سالہ نوجوان پر بہیمانہ تشدد،مووی بھی بناتے رہے

رحیم یارخان (ڈیسک)نیاپاکستان،پرانی پنجاب پولیس ‘صادق آباد میں چوکی 206پی کی پولیس نے 25سالہ نوجوان نوید کو موٹرچوری کے الزا م میں گھر میں گھس کر چادراور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے اٹھایا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد 40ہزار روپے لیکر چھوڑدیا‘

حالت خراب دیکھ کر والدعبدالرزاق نے پولیس کو شکایت کی تو پولیس اہلکاروں نے دوبارہ نوجوان کوا ٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا‘مقدمہ درج کرکے عدالت میں پیش کردیا‘ عدالت نے ضمانت لے کر رہائی دے دی ورثا کا پریس کلب کے باہر پولیس کیخلاف احتجاج ۔

 پنجاب پولیس نے تشدد کی ایک اور داستاں رقم کردی گائوں میں چوری ہونے والی موٹروں کے الزام میں 25سالہ نوجوان نوید کو گھر میں رات کے وقت پولیس کے جوانوں نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے 4روز قبل گرفتار کیا‘

بغیر مقدمہ اپنی حراست میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بناتے رہے متاثرہ نوجوان نوید کے مطابق پولیس اہلکار اسے تشدد کا نشانہ بناتے وقت مووی بھی بناتے رہے اور اسے جنگل میں بھی لے جاکر مارا گیا بعدازاں چوکی 206پولیس نے مبینہ طور پر چالیس ہزار روپے ورثا سے لیکر نوید کو رہا کیا والد عبدالرزاق نے جب بیٹے کی حالت غیر دیکھی تو پولیس انچارج کو شکایت کی جس پر پولیس اہلکاروں نے نہ صرف نوید کو دوبارہ اٹھا لیا بلکہ تشدد کا بھی نشانہ بناتے ہوئے چوری کا مقدمہ بھی درج کردیا ،جس پر عدالت نے نوید کو ضمانت پر رہا کردیا ،

متاثرہ نوجوان کے ورثا نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close