جرائم وحادثاترحیم یارخان

رحیم یارخان میں شوہر نے بیوی کا منہ کالا کرکے ڈوپٹوں سے باندھ کر کمرے میں قید کردیا

رحیم یار خان : بیویوں ں پر بد چلنی کا الزام‘شوہروں نے مسلح ساتھیوں کی مدد سے دونوں خواتین کو اسلحہ کے زور پر ڈیرے پر لیجا کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے منہ کالا کرکے ڈوپٹوں سے باندھ کر کمرے میں قید کردیا‘والد اور بھائیوں کی منت سماجت پر رہائی دی‘قانونی کارروائی کرنے پر جان سے مارنے اور طلاق دینے کی دھمکیاں‘برادری طور پر فیصلہ نہ ہونے پر پولیس نے 7روز بعد مقدمہ درج کرلیا۔

تھانہ رکن پور کی حدود موضع مراد پور سانگی کے رہائشی مشتاق احمد نے پولیس کو اپنی تحریری شکایت میں بیان کیا کہ اسکی دونوں بیٹیوں نسرین بی بی اور ثمینہ بی بی کی چند ماہ قبل محمد طارق اور محمد عرفان نامی افراد سے شادی کردی تھی جس پر اسکے دونوں داماد ملزمان محمد طارق اور محمد عرفان نے اسکی دونوں بیٹیوں پر بدچلنی الزام کا عائد کرتے ہوئے 21اکتوبر کو رات 9بجے کے قریب اپنے دیگر ساتھیوں محمد ارشد‘محمد عارف‘ایاز احمد‘محمد ندیم اور حسیب احمد کی مدد سے آہنی راڈوں‘ڈنڈوں اور آتشی اسلحہ کا خود دلاتے ہوئے اسکی دونوں بیٹیوں نسرین بی بی اور ثمینہ بی بی کو اسلحہ کی نوک پر کار میں ڈال کر علاقہ کے بااثر کے وڈیرے راشد بشیر کے ڈیرے پر لے گئے

جہاں پر بااثر وڈیرے ملز م راشد بشیر نے اپنی والدہ زبیدہ بشیر کے ہمراہ بدچلنی کے الزام کی سزا سناتے ہوئے دونوں خواتین کو تھپڑوں مکوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے بالوں سے پکڑ کر گھیسٹنا شروع کردیا جس کے نتیجہ میں خواتین کے کپڑے پھٹ اور وہ نیم برہنہ ہوگئی‘

وڈیرے کے حکم پر دونوں خواتین کا منہ کالا کرکے ڈوپٹوں سے باندھ دیا اور اسی دوران وڈیرے کی والدہ زبیدہ بشیر موبائل پر انکی ویڈیوبناتی رہی اور بعد ازاں دونوں خواتین کو کمرے میں قید کردیا‘اطلاع ملنے پر و ہ اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ بااثر وڈیرے راشد بشیر کے ڈیرے پر چلے گئے

جہاں دونوں بیٹیوں کی چیخ و پکار سننے پر وڈیرے کی بیٹوں سمیت منت سماجت کی جس پر بااثر وڈیرے راشد بشیر نے اسکی دونوں بیٹیوں کو رہا کردیا۔وڈیرے راشد بشیر نے اسکے دونوں دامادوں محمد طارق اور محمد عرفان سمیت دیگر ساتھیوں کیخلاف کارتوائی نہ کرنے پر آمادہ کیا اور اسکی دونوں بیٹیوں کو قتل کرنے اورطلاق دینے کی دھمکیاں بھی دیں‘برادری طور ہونے والے واقعہ کا فیصلہ نہ ہونے پر متاثرہ لڑکیوں کے والد مشتاق احمد کی رپورٹ پر پولیس نے حبس بے‘سنگین نتائج کی دھمکیاں سمیت دیگر دفعات کا مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button