fbpx

ٹرانسپورٹرز نے جائے حادثہ سے مسافروں کو بسیں فراہم کیں

رحیم یارخان : لاہور سے کوئٹہ جانے والی 24 ڈاؤن اکبر ایکسپریس ولہار اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔ 21 افراد جان بحق 81 افراد زخمی، زخمیوں میں کم سن بچے عورتیں اور بزرگ بھی شامل، جاں بحق افراد کی 20نعشیں صادق آباد ہسپتال جبکہ 1 کی نعشیں شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان میں موجود ہیں پولیس، ریسکیو1122، پاک فوج، رینجرز و دیگر اداروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا، مقامی آبادی کے افراد مسافروں، زخمیوں کے لیے  پانی لے آئے ٹرانسپورٹرز نے جائے حادثہ سے مسافروں کو بسیں فراہم کیں۔ پولیس نے ہسپتالوں میں امدادی کیمپ اور خصوصی کاؤنٹر قائم کر دئیے۔ 

الاصبح لاہور سے کوئٹہ جانے والی  24 ڈاؤن اکبر ایکسپریس ولہار اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجہ میں اکبر ایکسپریس کی تین بوگیوں کو شدید نقٓصان پہنچا اور گاڑی میں سوار 21 افراد جان بحق 81 افراد زخمی ہو گئے، حادثہ کی اطلاع ملتے ہی سب سے پہلے ڈی ایس پی ٹریفک پولیس فیاض احمد پنسوتہ موقع پر پہنچے جس کے بعد اے ایس پی ڈاکٹر حفظ الرحمن بگٹی اور سرکل ایس ایچ اوز بھی بھاری نفری کے ساتھ ولہار اسٹیشن پہنچ گئے اور گاڑی میں جانبحق اور زخمی ہونے والے افراد کو نکالنے کا کام شروع کر دیا دریں اثناء پاک فوج، رینجرز، ریسکیو 1122 و دیگر امدادی اداروں نے بھی موقع پر پہنچ کر کام شروع کر دیا اور جائے حادثہ کو چاروں اطراف سے گھیر لیا گیا تاکہ مسافروں کا کوئی دیگر نقصان نہ ہو۔ ڈی پی او عمر سلامت، ڈی سی جمیل احمد جمیل  بھی جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے اور اپنی نگرانی میں جائے حادثہ کا ریسکیو آپریشن مکمل کروایا۔ گاڑی کا حادثہ اس قدر شدید تھا کہ کئی افراد کی نعشیں ڈبوں کو کاٹ کر نکالی گئیں جبکہ بچ جانے والے اور زخمی افراد کو بھی ڈبے کاٹ کر نکالا گیا۔ زخمیوں میں کم سن بچے، عورتیں اور بزرگ بھی شامل تھے، جبکہ اس حادثے میں پاک آرمی کے دو جوانوں کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر مقامی افراد نے زخمیوں و دیگر مسافروں کو پانی اور بچوں کو دودھ فراہم کر کے انسانیت کی بہترین مثالی قائم کی۔ جبکہ آر پی او بہاولپور عمران محمود بھی بہاولپور سے ولہار اسٹیشن پہنے جائے حادثہ کا ملاحظہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کے بروقت رسپانس کی وجہ سے کافی انسانی جانیں بچائی گئی ہیں ورنہ جس شدت کا حادثہ ہے جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا جس پر وہ تمام اداروں کو خراج تحیسن پیش کرتے ہیں انہوں نے حادثہ کے متاثرین، زخمیوں اور جانبحق ہونے والے افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ڈی سی جمیل احمد نے صادق آباد اور رحیم یارخان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی اور تمام ایمبولینسز کو جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔ ڈی پی او عمر سلامت کے حکم پر پولیس نے جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور ہسپتال میں متاثرین کی مدد کے امدادی کیمپ قائم کر کے متاثرین کو صادق آباد ہسپتال منتقل کر دیا اور وہاں پر انہیں کھانا کھیلایا گیا اور دیگر ضروریات بھی پوری کی گئیں۔ پولیس کے جوانوں نے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے رضا کارانہ طور پر خون کے عطیات کے لیے خود کو پیش کر دیا اور خون کے عطیات دئیے۔ آخری اطلاعات تک حادثہ میں جانبحق ہونے والے 21 افراد میں سے 20 کی نعشیں صادق آباد تحصیل ہسپتال میں موجود تھیں اور ایک نعش رحیم یارخان شیخ زید ہسپتال میں رکھی گئی تھی۔ جن میں سے آٹھ افراد کی شناخت ہو گئی تھی جن کی نعشیں قانونی کارروائی کے بعد ان کے ورثاء کو دی جائیں گیں۔ جبکہ 81 زخمی رحیم یارخان اور صادق آباد کے ہسپتالوں میں موجود ہیں جن کو محکمہ صحت بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہا اور ڈاکٹر و دیگر سٹاف ان کے لیے بہترین کوششوں میں مصروف ہے جن کے ساتھ پولیس اہلکار بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پولیس کاؤنٹرز سے متاثرین کے ورثاء کو معلومات اور رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس حادثہ میں پولیس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو ہسپتال انتظامیہ نے سراہا اور پولیس کے تعاون کو میثالی قرار دیا۔ ہسپتالوں میں ٹرین حادثہ میں زخمی ہونے والے ہر ای شخص کے ساتھ ایک ایک پولیس اہلکار بطور تیمار دار فرائض سر انجام دے رہا ہے اور اس کے ورثاء کے آنے تک پولیس یہ فریضہ سرانجام دے گی۔ جبکہ ٹرانسپورٹرز افضل وڑائچ اور عادل وڑائچ و دیگرنے حادثہ میں محفوظ رہنے والے اور سفر کے قابل افراد کو ان کی منزل مقصود تک پہچانے کے لیے بسیں ڈی پی او اور ڈی سی کے حوالے کردیں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close