fbpx

ڈہرکی پولیس لاپتہ دو بہنوں کا سراغ نہیں لگا سکی۔

Two Hindu Girls Raveena & Reena case update

گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کے محلہ حافظ سلیمان سے تعلق رکھنے والی غیر مسلم مینگواڑ برادری کی دو لڑکیاں روینا بائی اور رینا بائی 20 مارچ کی شام پانچ بجے ہولی کے روز اچانک لاپتہ ہوگئیں جب رات گئے تک لڑکیاں گھر واپس نہیں آئیں اہل خانہ نے اگلے روز مینگواڑ برادری کے مکھی شیو لعل اور اسکے بھائی شمن لعل کی سربراہی میں ڈہرکی میں قومی۔شاہراہ پر۔ٹائروں کو آگ لگا کر سندھ اور پنجاب کی ٹریفک بلاک کردی جس سے کئی گھنٹے تک ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ایس ایچ او ڈہرکی طفیل بھٹو نے مظاہرین سے مذاکرات کرکے مبینہ لاپتہ بہنوں کے بھائی شمن لعل کی مدعی میں تین نامعلوم۔سمیت چھ افراد کے خلاف رینا اور رینا کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرادیا جبکہ رینا اور روینا نے بھرچونڈی شریف پہنچ کر میاں جاوید کے ہاتھ پر بیت کر کے اسلام قبول کرلیا اور دونوں بہنوں نے سوشل میڈیا پر کلمہ پڑھتے اپنے تحفظ کی اپیل کی اور کہا کہ انہیں پولیس سے بچایا جائے ہم اپنی خوشی سے آئے ہیں کسی نے زبردستی نہیں کی ہے اس دوران روینا کا اسلامی۔نام آسیہ بی بی اور رینا کا نام شازیہ رکھا گیا جبکہ 22 مارچ کو دونوں بہنیں رحیم یار خان کے شہر خان پور میں پہنچ گئیں اور بار روم خان پور وکلاء کے سامنے اپنی مرضی سے اسلام۔قبول کرنے کا اعتراف کیا اور پھر وہیں سنی تحریک کے جنرل سیکریٹری جواد حسن گل کے تعاون سے مقامی نجی شادی ہال میں شادی کی سادہ سے تقریب رکھی گئی اور اسلامی طریقہ سے گواہوں کی موجودگی میں نکاح خواں قاری بشیر احمد قادری نے نکاح پڑھایا اسطرح آسیہ عرف روینا کی شادی صفدر کوبھر سے طے پائی اور شازیہ عرف رینا کا نکاح برکت ملک سے قرار پائی اس دوران مٹھائی بھی تقسیم کی گئی اور دلہنوں کا منہ بھی میٹھا کرایا گیا اس دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نومسلم دلہن بہنوں نے کلمہ پڑھتے ہوئے کہا کہ انہوں اپنی مرضی سے مسلماں ہوئے اور اپنی مرضی سے شادیاں کی ہیں اور کسی نے زبردستی نہیں کی ہے ۔۔ جس کے بعد چاروں میاں بیوی لڑکی کے ورثاء کے خوف سے چھپ گئے شادی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئ اور پاکستان کے ہندو لیڈروں کے جبری مسلمان کرنے اور جبری شادی کے بیانات آنا شروع ہوگیے جس کے بعد بھارت سے بھی پاکستان مخالف بیانات کے بعد حکومت پاکستان اور ضلع گھوٹکی ضلع رحیم یار خان کی انتظامیہ حرکت میں آئی اور رحیم یارخان پولیس نے نکاح میں شامل اور گواہوں اور انکے اہلخانہ کے آٹھ سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور سنی تحریک کے ضلعی جنرل سیکریٹری کے خلاف سولہ ایم پی اور اور چوری کا مقدمہ درج کرلیا ہے دوسری جانب پولیس سندھ اور پنجاب میں چھاپے مارنے شروع کردئے ہیں

Raveena & Reena Case
Raveena & Reena Case

ایس ایس پی گھوٹکی فرخ نجات کے مطابق تین پولیس پارٹیاں پنجاب میں نو مسلم لڑکیوں کی تلاش میں ہیں جبکہ یہاں صفدر کو بھر اور برکت ملک کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ دار پولیس کے خوف سےگھروں کو چھوڑ کر نا معلوم مقام پر پناہ لئے ہوئے ہیں اور گھروں پر پولیس تعینات کردی ہے جبکہ اپنا نام ظاہر نہ کرنے صفدر اور برکت کے دوستوں کا کہنا ہے کہ دونوں کی رینا اور روینا سے دوستی تھی گھروں میں آنا جانا تھا یہاں تک کہ لڑکیوں کے گھروں کی تعمیر میں بھی دونوں لڑکوں نے لوہے سیمنٹ اینٹوں مستری مزدوری میں مالی مدد کے ساتھ ساتھ گھریلو استعمال کی اشیاء موبائل فون بھی دیئے گئے تھے تاہم آخری اطلاعات تک لڑکیوں کی جانب سے بہاولپور کی عدالت میں تحفظ کی درخواست دائر کی گئی ہے اور اب اطلاعات ہیں۔کہ تحفظ کہ درخواست اسلام آباد میں داخل کی گئی ہے تاہم ابھی تک دونوں جوڑوں کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے جبکہ سماجی حلقوں کا کہنا ہے یہ پاکستان کا اندرونی اور سماجی مسئلہ ہے جو کہ مسلمانوں کے خاندانوں کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور آئے روز پسند کی شادی کے معاملات ہوتے رہتے ہیں اسے مذہبی رنگ نہیں دینا چاہیے اور نا ہی کسی نے لڑکیوں کو اغوا۔کیا اور نا ہی زبردستی اسلام قبول کرایا گیا اور نا ہی زبردستی شادی کی گئی ہے۔

Two Hindu Girls Raveena & Reena case update

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close