تنخواہ مانگنا ملازم کو مہنگا پڑ گیا

violence in rahim yar khan news

رحیم یارخان(    )تنخواہ مانگنا ملازم کو مہنگا پڑ گیا،بااثر شخصیات کا اپنے ہی ملازم پر وحشیانہ تشدد، سر کے بال کاٹ دیے،منہ کالا کرکے گلے میں جوتوں کاہار پہناکرسارا دن درخت سے باندھی رکھا،ملازم کے گھر کا سارے سامان پر قبضہ کرلیا، متاثرہ شخص دربدر کی ٹھوکرے کھانے پر مجبورحکام سے انصاف کا مطالبہ تفصیل کے مطابق رحیم یارخان کے نواحی علاقہ چک 88 کے رہائشی خالق نے بتایا کہ میں چک 88 کے زمیندارظفر پرویا کے گھر میں عرصہ چھ سال سے ملازمت کرتا ہوں، چند روز قبل میں نے ظفر پرویا سے اپنی تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا تو ظفر پرویا نے مجھے اپنے باغ میں بْلایا اور وہاں مجھ پر تشدد کرن شروع کر دیا، اور مجھ پردو گھنٹہ مسلسل تشدد کرتے رہے،میرے سر کے بال کاٹ دیے اور میرے گلہ میں جوتوں کا ہار پہنا کر مجھے درخت کے ساتھ باندھ دیا، میرے کپڑے اتار دیے،متاثرہ شخص نے بتایا کہ ظفر پرویا کے ساتھ اس کے قریبی ساتھی فیصل،اشرف، چیمہ،نثار،ڈوری،جلال،حاکم، کالیا وغیرہ بھی موجود تھے جو مجھے میرے ملزم ظفر پرویا کے ساتھ مل کر مارتے رہے، اور میری برہنہ ویڈیو بناتے رہے اور گن پوائنٹ پر مجھے کہتے رہے کہ میری بیوی کے ساتھ ہم زبردستی زیادتی بھی کرے گے، اور میری بیوی کے ساتھ ملزمان بالا نے زبردستی کرنے کی بھی پوری کوشش کی اور اْسے بھی مارا پیٹا اور گالم گلوچ کرتے رہے،اور میرے گھر کا سامان اپنے قبضہ میں لے لیا،تین تولہ سونا اور پچاس ہزار روپے بھی ملزمان نے اٹھالیے ہیں جو کہ میرے مقدمہ میں درج ہے متاثرہ شخص نے بتایا کہ پولیس کو جب اطلاع ملی تو پولیس نے موقع پر پہنچ کر چار ملزمان کو گرفتار کرلیا،لیکن افسوس اس بات کا کہ پولیس نے سیاسی دباؤ میں آکر میرا مین ملزم ظفر پرویا کو شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا اور تین ملزمان کو گرفتار کر لیا،انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے فوری مقدمہ نمبر175/10زیر دفعہ 337ت پ 355 ت پ 342 ت پ 379 ت پ درج کرلیا گیا، اور تین ملزمان کا ریمانڈ لے لیا جبکہ چھ ملزمان عبوری ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں،متاثرہ شخص کا کہنا تھا پولیس نیمیرے مقدمہ میں میری بیوی کے ساتھ زبرداتی زیادتی کرنے کی دفعات شامل نہیں کی بلکہ اب بااثر ملزمان کے کہنے پر مجھے حراساں و پیشان کیا جا رہا ہے میں غریب آدمی ہوں میری جان کو خطرہ ہے ملزمان کسی بھی وقت مجھے بچوں بیوی کو جان سے مار دیں گے متاثرہ شخص نے بتایا کہ ملزمان کی جانب سے مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،اور مجھے صلح کرنے کیلیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے پولیس مجھے انصاف فراہم کرے،متاثرہ خالق نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب،آر پی او بہاولپور، ڈی پی او رحیم یارخان و تمام اعلیٰ افسران سے فوری انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
violence in rahim yar khan news

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close