گندم چوری سکینڈل، 6 بااثر فوڈز مالکان کےخلاف مقدمہ
رحیم یار خان(بیورو رپورٹ)پولیس نے بینک کے پاس بطور ضمانت(پلیج)رکھی گئی گندم کے بڑے ذخیرے کی مبینہ چوری اور خورد برد کے الزام میں ایک فرم کے 6 بااثر مالکان و دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ مقدمہ مقامی بینک کی جانب سے تعینات سکیورٹی کمپنی کے سپروائزر کی درخواست پر تھانہ اقبال آباد میں درج کیاگیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی محمد اعظم، سپروائزر مکدم کمپنی (بینک کی سکیورٹی کمپنی) نے موقف اختیار کیا کہ ڈیرہ شمش میں واقع عمر فوڈز نے بینک اسلامی رحیم یار خان برانچ سے تقریبا 40 کروڑ روپے کا بھاری قرض حاصل کیا تھا،
جس کے عوض 44 ہزار 850 گندم کی بوریاں(ہر بوری 100 کلوگرام) بطور ضمانت رکھوائی گئی تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق مکدم کمپنی کا اہلکار غلام عباس عمر فوڈز میں گندم کے اسٹاک کی حفاظت پر مامور تھا۔
مدعی کے بقول 26 اگست 2025 کو معمول کے معائنے کے دوران غلام عباس نے بتایا کہ عمر فوڈز کے مالکان نے اپنے ملازمین کے ذریعے اس کا موبائل فون چھین لیا،
اسے ایک کمرے میں بند رکھا اور زبردستی بڑی تعداد میں گندم کی بوریاں وہاں سے نکال لیں، بعد ازاں اسے رہا کر دیا گیا۔
اطلاع ملنے پر گواہان ساجد حسین اور شاہد حسین سکنہ چک عباس موقع پر پہنچے۔ جب گندم کے ذخیرے کی گنتی کی گئی تو تقریبا 39 ہزار گندم کی بوریاں (100 کلوگرام فی بوری) اسٹاک سے غائب پائی گئیں۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا ہے کہ جب مدعی نے ملزمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے گندم اٹھانے کا اعتراف کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ جو کرنا ہے کر لو۔
پولیس نے اس بنیاد پر ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 406 اور 379 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
نامزد ملزمان میں عمر فوڈز کے مالکان محمد نعیم راشد، شاہد بشیر، وسیم بشیر اور محمد حارث ساکنان ٹرسٹ کالونی)، آفتاب/عاطف غفار مالک بیک ہاس / رائل ڈیزرٹ پام ہوٹل، سینئر نائب صدر انجمن تاجران جنوبی پنجاب، بھتیجا صدر انجمن تاجران رحیم یار خان عبدالرﺅف مختار، ساکن چرچ روڈ اور بشیر احمد ساکن محلہ اعوان شامل ہیں۔
ایک گندم کے تاجر کے مطابق موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق غائب ہونے والی 39 ہزار بوریاں گندم کی مالیت تقریبا 46 کروڑ روپے بنتی ہے،
جو ضلع کی تاریخ کے بڑے مالی و غذائی اسکینڈلز میں شمار کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نامزد ملزمان نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ معاملہ چوری نہیں بلکہ کاروباری لین دین اور قرض کی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گندم کی منتقلی بینک اور سکیورٹی کمپنی کے علم میں تھی، جبکہ درج کی گئی ایف آئی آر کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا گیا ہے۔
بینک اسلامی کے ایریا منیجر اور برانچ منیجر نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم بینک ذرائع نے بتایا کہ بینک اسلامی کی جانب سے مکدم کمپنی کے خلاف بھی قرض کی ریکوری کے لیے الگ ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے،
جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔پولیس ترجمان زیشان رندھاوا نے بتایا کہ تاحال اس مقدمے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی،
تاہم تفتیش جاری ہے اور بینک، سکیورٹی کمپنی اور نامزد ملزمان سمیت تمام پہلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس واقعے نے نہ صرف کاروباری بلکہ بینکاری حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور بینکوں میں بطور ضمانت رکھے گئے زرعی اجناس کے تحفظ اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔






