تازہ ترین خبروں کے لئے واٹس ایپ چینل جوائن کریں

Join WhatsApp Channel

ٹیکس سےآمدن کی بنیادی چھوٹ میں اضافہ نا گزیر

میاں زاہد سرفراز, ٹیکسز و کارپوریٹ لاز کنسلٹنٹ سابقہ صدر رحیم یار خان ٹیکس بار ایسوسی ایشن
پاکستان میں انکم ٹیکس کی بنیادی چھوٹ 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر کم از کم 12 لاکھ روپے سالانہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موجودہ مہنگائی، کاروباری مشکلات، کم ہوتی قوتِ خرید اور ٹیکس دہندگان پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں یہ اقدام نہ صرف معاشی انصاف کو فروغ دے گا بلکہ ملک میں ٹیکس کلچر کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی اعتماد کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
ایک ایسے وقت میں جب محدود تعداد میں تنخواہ دار طبقہ اور رجسٹرڈ کاروباری افراد قومی محصولات کا بڑا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، ضروری ہے کہ ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ، قابلِ عمل اور عوام دوست بنایا جائے۔ اگر بنیادی ٹیکس چھوٹ کو 12 لاکھ روپے تک بڑھا دیا جائے تو متوسط طبقہ فوری ریلیف محسوس کرے گا، جس سے اُن کی قوتِ خرید بہتر ہوگی، کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور معیشت میں پیسے کی گردش بڑھے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب ٹیکس قوانین عوام کی معاشی استطاعت کے مطابق ہوں تو لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کم آمدنی والے افراد کو بلاجواز ٹیکس بوجھ سے آزاد کر کے حکومت زیادہ بڑے اور غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف موجودہ ٹیکس گزاروں کا بوجھ کم ہوگا بلکہ “ہر شہری اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس ادا کرے” کا اصول بھی مضبوط ہوگا۔
پاکستان میں ٹیکس نظام کے حوالے سے عوامی اعتماد کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت اور ایف بی آر یہ پیغام دیں کہ ٹیکس قوانین سب کے لیے یکساں ہیں، چھوٹے آمدنی والے افراد کو تحفظ دیا جائے گا، جبکہ بڑے غیر رجسٹرڈ شعبوں اور بااثر طبقات کو بھی مساوی طور پر ٹیکس دائرے میں لایا جائے گا، تو یقیناً ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال ہوگا۔ اعتماد ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط ٹیکس کلچر قائم ہوتا ہے۔
مزید برآں، جب کاروباری طبقے پر غیر ضروری مالی دباؤ کم ہوگا تو صنعت و تجارت میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ سرمایہ کاری بڑھے گی تو پیداوار میں اضافہ ہوگا، نئی صنعتیں قائم ہوں گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور بالآخر حکومتی محصولات بھی قدرتی طور پر بڑھیں گے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ٹیکس اصلاحات کا بنیادی اصول یہی ہے کہ پہلے معیشت کو وسعت دی جائے، پھر محصولات میں اضافہ خود بخود ممکن ہوتا ہے۔
لہٰذا، موجودہ معاشی حالات میں بنیادی ٹیکس چھوٹ کو 12 لاکھ روپے تک بڑھانا صرف ایک ریلیف نہیں بلکہ ایک جامع معاشی، سماجی اور انتظامی اصلاح ہے۔ یہ اقدام ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کو دستاویزی، مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

اک نظر

Back to top button