پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان کا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے باہر احتجاج

رحیم یارخان : حکومت کی طرف سے فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے اختیارات صوبائی محکمہ زراعت کو دینے کے خلاف سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین چودھری بلال احمد گجر کی ہدایت پر پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان نے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس احتجاجی مظاہرے میں ضلع بھر سے پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کے مالکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ فیڈریل سیڈ ایکٹ 2016 میں ترمیم اور صوبائی محکمہ زراعت کی مداخلت سیڈ انڈسٹری کے معاشی قتل کے مترادف ہے جسے ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وائس چیئرمین سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان میاں محمد حسین نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ناقص زرعی پالیسی کے باعث حکومت زرعی اجناس کے بیج تیار کرنے والے شعبے کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق آراستہ کرنے کے بجائے رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے اور کپاس ،گندم ،دھان ،سبزی و فروٹ اور چارہ جات کے بیج تیار کرنے والی700 پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں کو ختم کرنے کے در پر ہے۔ سابق چیئرمین سیڈ ایسوسی ایشن آف پاکستان رانا سلیمان محمود خان نے کہا کہ فیڈرل سیڈ ایکٹ 2016میں ترمیم کرکے زرعی اجناس کے بیجوں کی تیاری کے معاملات کا اختیار وفاقی سطح پر قائم ادارے فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے لے کر صوبائی سطح پر محکمہ زراعت کے حوالے کئے جانے سے سیڈ انڈسٹری تباہ ہو کر رہ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کے پاس انفراسٹکچر ہی نہیں ہے کہ وہ زرعی اجناس کے بیجوں کی تیاری ،رجسٹریشن ،سرٹیفکیشن کے معاملات کو دیکھ سکے ،خبیر پختون خواہ کی سیڈ کمینیوں کو اگر اپنابیج پنجاب میں اور پنجاب کی سیڈ کمپنیو ں کو تیار کردہ بیج سندھ میں اور سندھ کی سیڈ کمپنیوں کو بیج پنجاب اور بلوچستان میں فروخت کرنا مشکل ہو جائے گا۔

سابق وائس چیئرمین سیڈ ایسوسی ایشن پاکستان چوہدری محمد سلیم بھلر نے کہا کہ ملک میں زرعی شعبہ اور ادارے حکومت میں بیٹھے چند بڑے شوگر ملز مالکان کے ہاتھوں یرغمال ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کے کاٹن زونز میں غیر قانونی طور پر نئی شوگر ملیں قائم کیں جس کے باعث پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار ایک کروڑ50 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر ایک کروڑ گانٹھ کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔اب ایک بار پھر یہ مافیا گنے کی کاشت بڑھانے کے لئے پرائیویٹ سیڈ کمینوں کو ختم کرنے کے در پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کالے قانون کو ہر گز رائج نہیں ہونے دیں گے۔ سیڈ انڈسٹری جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے جس سے لاکھوں کسان اور محنت کش طبقہ استفادہ کررہا ہے۔

اگر حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کوئی غلط قدم اٹھایا تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ حکومت اس کالے قانون کو رائج کرنے سے گریز کریں تاکہ ملکی معیشت اور اس کی زراعت ترقی کرتی رہے۔ احتجاجی مظاہرے میں سیڈ کمپنیز ایسوسی ایشن کے مالکان حافظ غلام یسین مہر میاں محمد اجمل میاں محمد عارف حبیب الرحمن رئیس احمد اکمل ورند میاں خرم منیر میاں محمد اختر ملک محمد ارشد عدنان جاوید رانا نوید احمد محمد قاسم بھٹی چودھری وقاص احمد محمد سلیم محمد اصغر حاجی محمد ارشد و دیگر نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »