رحیم یارخان کا کلچر

تہذیب و ثقافت

ضلع رحیم یار خان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ اس کی سرحدیں پنجاب سندھ اور بلوچستان سے ملتی ہیں۔ اسی اعتبار سے اس کی تہذیب و ثقافت پر بھی یہ اثرات نظر آتے ہیں۔ لسانی اعتبار سے بھی ضلع میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ بڑی زبان سرائیکی ہے مگر سندھی بلوچی اور پنجابی اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی علاقے میں پنجاب کے تمام دریا اکٹھے ہو کر سندھ میں گرتے ہیں۔
قدیم زمانوں سے یہ علاقہ وادی سندھ کی تہذیب کی قدیم روایت سے جڑا ہوا ہے جسے ہاکڑہ تہذیب بھی کہا جاتا ہے۔ اس تہذیب کے ضلع میں کئی مقامات پر آثار ملتے ہیں 512 قبل مسیح میں یہ علاقہ ایرانی تسلط میں رہا۔ تیسرے صدی قبل مسیح یہاں بدھ مت کا زور رہا۔ ہندو برہمن شاہی بھی یہاں رہی اور سکندرِ اعظم کے حملوں کا اثر بھی یہاں تک پہنچا۔ پھر یہاں موریہ اور کشان حکمران رہے۔ سندھ کا رائے خاندان بھی یہاں کافی دیر حکومت کرتا رہا پھر یہ علاقہ مغلوں کے زیرِ تسلط آگیا۔ سابق ریاست بہاول پورکی ابتدا ء بھی ضلع رحیم یارخان سے ہوئی اور یہ علاقہ ریاست کا حصہ رہا ان سب ادوارکااثر یہاں کی تہذیب اور ثقافت کے مظاہر سے عیاں ہوتا ہے ۔
رسم و رواج
رحیم یار خان اپنی تہذیب اور رسم و رواج کے لحاظ سے قدیم و جدید رسومات کا خوبصورت امتزاج رکھتا ہے۔ اب بھی مختلف لسانی گروہوں اور برادریوں نے اپنے صدیوں پرانے رسم و رواج کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ رسم و رواج میں بچے کی پیدائش سے رسوم شروع ہوتی ہیں جیسے چھٹی کا دن جس دن بچے کا نام تجویز کیا جاتا ہے اور عزیزو اقارب اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسی طرح رسم عقیقہ و ختنہ بھی تقریب کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات جو یہاں پر دو خاندانوں کے ملاپ کی صورت میں ہوتی ہیں جو والدین کی طرف سے طے کردہ ہوتی ہیں جیسے منگنی ، مایوں، مہندی، نکاح، رخصتی، ولیمہ۔ البتہ کچھ روایات جو فرسودہ ہیں جیسے "وٹہ سٹہ” لڑکی کے بدلے لڑکی کا رشتہ جو ایک ہی خاندان اور برادری میں طے ہوتا۔ اسی طرح کم عمر کی بچیوں کی شادی اور بھیل مینگوال اور دیگر شیڈولڈ کاسٹ قوموں میں "ڈین ” یا رقم لے کر شادی کرتے ہیں ۔ جہاں پیدائش اور شادی کی رسومات ہیں وہاںمرنے پر بھی کئی ایک رسومات ہوتی ہیں جیسے قل خوانی ،سات جمعراتیں ،ساتواں ،دسواں اور چالیسواں ، پیر یا مرشد سے بے پناہ عقیدت کے باعث مزاروں پہ جاکے منتیں ماننا عام اور تعویذ گنڈے کا رواج بھی عام ہے۔
چولستانی آبادی جن میں مہر ،بھیل اور مینگوال قبائل ہیں یہ لوگ شہروں اور آبادیوں سے دور الگ بستی بناکر رہتے ہیں اس وجہ سے ان لوگوں کے ہاں صدیوں پرانی ثقافت اور رسم و رواج بدستور اسی طرح موجو د ہیں ۔ اور انکا رہن سہن اور لباس تک بھی نہیں بدلا ۔ نئی آباد ی جونہی ان کی بستیوںکے قریب پہنچتی ہے یہ اپنے ٹھکانے بدل لیتے ہیں۔

لباس

ضلع کے دیہات میں عمومی طور پر لوگ لنگی یا چادر باندھتے ہیں کرتا یا چولہ پہنتے ہیں اور سر پر چادر یا پگڑی باندھتے ہیں ۔ شہری علاقوں میں شلوار قمیض عام لباس ہے۔ دیہات میں خواتین چولہ اور کرتے کے ساتھ شلوار پہنتی ہیں اور سر کو ایک بڑے دوپٹے کے ساتھ ڈھانپتی ہیں ۔ چولستان کے علاقے کا مخصوص لباس ہے جس میں خواتین چولی اور گھگھرا پہنتی ہیں اور سرپر دوپٹہ اوڑھتی ہیں ہاتھوں ،میں کلائی سے کہنی تک یا اس سے بھی اوپر تک ہاتھی دانت اور اب پلاسٹک کی کڑا نما چوڑیاں پہننے کا رواج عام ہے ۔ موسم کے لحاظ سے سردیوں اور گرمیوں میں لباس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

لوک ناچ 
ضلع رحیم یار خان چونکہ سرائیکی علاقہ ہے اس لئے ہر چھوٹی بڑی تقریب پر ڈھول بجانا اور جھومر ڈالنا عام ہے جبکہ بھنگڑا دوسرا بڑا لوک ناچ ہے۔ دیگر لوگ ناچوں میں دھمال (جو مزاروں پر کثرت سے ڈالی جاتی ہے )، لڈی خواتین کا پسندیدہ لوک ناچ ہے جسے و ہ شادی بیاہ کی تقاریب میں ڈالتی ہیں، کیکلی بچیوں کا ناچ ہے۔ ضلع کونسل اور بلدیہ کی جھومر پارٹیاں ملازم ہیں جو ہر فنکشن میں پرفارم کرتے ہیں ۔ چولستان میں جھومر ڈالنا پسند کرتے ہیں جس میں مرد و زن سب شامل ہوتے ہیں۔ 

Back to top button
Translate »
Close
Close