بہاولپور کے 80 فیصد کسان سبسڈی سے محروم رہ گئے
رحیم یارخان : محکمہ زراعت اور پنجاب بینک کسانوں کا استحصال کرنے میں مصروف دونوں ادارے باہمی ملی بھگت سے کسانوں کے لئے پنجاب حکومت کی سبسڈی کی رقوم اڑانے میں مصروف ہیں۔

حکومت پنجاب کی طرف سے گزشتہ برس کسانوں کو گندم پر 20 ہزار روپے کی سبسڈی دی گئی یہ سبسڈی کسان کارڈوں کے ذریعے کسانوں میں تقسیم کی گئی لیکن پنجا ب بینک اور محکمہ زراعت نے سبسڈی کی یہ رقوم مکمل طور پر تقسیم نہیں کیں اور صرف چند کسانوں تک ہی یہ رقم پہنچ پائی جبکہ کسانوں کی اکثریت تاحال اس سے محروم ہے
اسی طرح رواں برس حکومت پنجاب نے ڈیزل کی مد میں کسانوں کے لئے1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کا اعلان کیا اور سبسڈی کی یہ رقم بھی کسان کارڈز کے ذریعے کسانوں کو تقسیم کی گئی لیکن گندم کی سبسڈی کی طرح ڈیزل کی سبسڈی بھی صرف مخصوص لوگوں کو ہی دی گئی جبکہ کسانوں کی اکثریت تاحال اس امداد کی منتظر ہے۔
محکمہ زراعت اور پنجاب بینک کے حکام اس حوالے سے کسانوں کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیتے اور صرف انہیں ٹرخانے میں مصروف ہیں
بہاولپور کے 80 فیصد کسانوں کو یہ سبسڈی نہیں دی گئی کسانوں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ زراعت اور پنجاب بینک گندم سبسڈی کی طرح ڈیزل سبسڈی کی رقوم میں بھی کسانوں کو چونا لگانے میں مصروف ہیں اور دونوں اداروں کے حکام سبسڈی کی یہ رقم خرد برد کرنے میں مصروف ہیں۔
کسانوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب،وزیر زراعت پنجاب، صدر پنجاب بینک، سیکریٹری زراعت پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے فوری نوٹس لینے اور تمام کسانوں تک سبسڈی کی رقوم شفاف انداز میں پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔






