کچے میں 500 ڈاکو سرنڈر ہو چکے ہتھیار نہ ڈالنے والوں کے خلاف اعلان جنگ ہے،
رحیم یارخان : آئی جی پنجاب پولیس عبدالکریم نے کہا ہے کہ 500 ڈاکو سرنڈر ہو چکے ہتھیار نہ ڈالنے والوں کے خلاف اعلان جنگ ہے، کچہ میں حاصل شدہ کامیابیوں اور امن و امان کے تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں،

علاقہ سے ڈر اور خوف کے سائے چھٹ چکے تین ماہ سے اغواء کی کوئی واردات نہیں ہوئی آئندہ کا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے دورہ رحیم یارخان میں کچہ کے دورہ کے دوران ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کامران خان، آر پی او بہاولپور غازی محمد صلاح الدین اورڈی پی او عرفان علی سموں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات عمل درآمد کرتے ہوئے پولیس کچہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس میں پنجاب پولیس کے سامنے کچہ کے 500 ڈاکوؤں نے سرنڈر کر دیا ہے اور جو ہتھیار نہیں ڈالیں گے ان کے خلاف اعلان جنگ ہے،
پولیس کسی کے سرنڈر ہونے کا انتظار نہیں کر رہی بلکہ ہم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، کچہ میں کامیابیوں میں شہداء کا خون شامل جنہیں برقرار رکھا جائے گا اور امن و امان کی صورت حال ہر صورت قائم رکھی جائے گی،
انہوں نے کہا کہ پولیس کی ضروریات کے مطابق کچہ میں تعمیرات مکمل کی جائیں گی اور آئندہ موئثر حکمت عملی واضع کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے
جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے کچہ سے ڈر اور خوف کی فضا ختم ہو چکی ہے تین ماہ سے اغواء کی کوئی واردات نہیں ہوئی،
قبل ازیں کچہ پہنچنے پر آر پی او بہاولپور غازی محمد صلاح الدین نے انہیں مجموعی صورت حال اور کچہ آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی،
ڈی پی او عرفان علی سموں نے انہیں کچہ پولیس کیمپس کا دورہ کرواتے ہوئے ڈرون اور تھرمل ٹیکنالوجی کے ڈیموں دکھائے اور بتایا کہ رحیم یارخان پولیس کچہ سمیت ضلع بھر میں عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لارہی ہے،
پولیس مقابلوں میں 68 ڈاکو ہلاک، 97 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، 15 سر کی قیمت رکھنے والوں سمیت 218 کچہ کے خطرناک ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا 4 کچہ کریمینلز مقابلوں کے دوران مارے گئے 8 کو گرفتار کیا گیا ہے،
آئی جی پنجاب پولیس عبدالکریم نے کچہ پولیس کیمپس، پیکٹس اور اگلے مورچوں پر تعینات افسران و جوانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے بلند مورال کی تعریف کی اور علاقہ کا جائزہ لیتے ہوئے افسران سے باہمی پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔






