تازہ ترین خبروں کے لئے موبائل ایپ ڈاون لوڈکریں

ڈوان لوڈ

پروفائل مخدوم خسرو بختیار

مخدوم خسروبختیار ،مخدوم رکن الدین کے بڑے صاحبزادے ہیں اور بذات خود مخدوم رکن الدین 1988 میں پیپلز پارٹی کی طرف سے حلقہ NA 148 رحیم یار خان سے الیکشن جیتے اور MNA رہے ہیں،
مخدوم خسروبختیار رحیم یار خان کے نواحی علاقہ میانوالی قریشیاں میں 7 جولائی 1969 کو پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم ایچی سن لاہور سے حاصل کی اور 1990 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد 1994 میں لندن اسکول آف اکنامکس سے( LLB (H کیا ،بعد ازاں 1995 میں لنگز یونیورسٹی سے Bar-at-Law
تعلیمی سفر کی تکمیل کے بعد ذاتی مطالعے کے لیے میانوالی قریشیاں میں عالی شان لبریری بنائی
سیاسی کئریر کا آغاز (ن) لیگ سے کیا اور اپنے آبائی حلقے سے ایم پی اے کا الیکشن جیتے 1997 سے 1999 تک وزیر اعلٰی پنجاب کے خصوصی مشیر رہے۔
رحیم یار خان کی ضلعی سیاست میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ،بلدیاتی سیاست اور توڑ مروڑ کے ماہر ہیں ۔
جبکہ 2002سے 2007 تک رکن قومی اسمبلی اور (ق) لیگ ،پرویز مشرف حکومت میں امور خارجہ کے مشیر رہے ۔
2013سے 2018 اور بلا تعطل 2023 تک ایم این اے اور وفاقی وزیر ،فوڈ اینڈ ٹیکنالوجی ،اقتصادی امور،صنعت و پیداوار،پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ رہے۔
سرائیکی صوبہ محاذ کے داعی بھی تھے ۔
عمران خان کی حکومت میں کابینہ کے سر فہرست اور اعلی سطح کے ممبر سمجھے جاتے تھے ۔
جب عمران خان اور فوج آمنے سامنے آئے تو واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہم اداروں کے ساتھ مزاحمتی سیاست نہیں کر سکتے بلکہ میں حلقے کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں ۔مطلب کہ حلقے کو محرومی سے بچانے ،ترقیاتی منصوبوں ،سیاسی بحران سے نجات اور حلقے میں عوام کے ہر دور میں کام جاری رہیں اس پر یقین رکھتا ہوں ،اسی سبب مختلف ادوار مختلف پارٹی کی حکومت کا حصہ رہے۔
ملکی حالات ،واقعات اور سیاسی بحران و کشمکش کو سیاسی بصیرت سے بھانپتے ہوئے خود الیکشن 2024 میں حصہ نہیں لیا ،پورے پاکستان کی طرح حلقہ NA.171 بھی عمرانیات اور سوشل میڈیا کی لپیٹ لپٹا اور پی ٹی آئی الیکشن کے ریلے ممتاز مصطفی ایڈوکیٹ رنگے گئے ۔
حالانکہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے دیکھا جائے تو حلقے میں ریکارڈ کام ہوئے ہیں ،جس میں زیادہ کنٹری بیوشن مخدوم ہاشم جواں بخت کا ہے ،جو قابل ذکر ہیں
اقبال آباد تا رحیم یار خان دو رویہ سڑک ،شیخ واہن سے انٹر چینچ تک پختہ سڑک ،پل قادر والی سے کوٹسمابہ کارپٹ روڈ رکن پور سے براستہ چک 55 پل بہرام کارپٹ روڈ،پل بہرام سے سونک روڈ ،کھائی خیر شاہ سے پل ترک کار پٹ روڈ ،جلال پور سے گڑھی اختیار خان روڈ ،پل قادرو والی سے کوٹسمابہ روڈ تک ،سردار گڑھ سے براستہ پوران ،شاہ پور ،نبی پور،احسان پور روڈ ،ظاہر پیر سے پل پہوڑاں تک پختہ روڈ ،ججہ عباسیاں گورنمنٹ ڈگری کالج ،ظاہر پیر ریسکیو دفتر کا قیام ،ظاہر پیر سپورٹس کمپلیکس ،ظاہر پیر شیخ زید یونٹ 2 کا قیام ،میانوالی قریشیاں ٹی ایچ کیو ہسپتال ،سردار گڑھ سے حاجی پور روڈ ،ہیڈ حاجی پور بریج کی تعمیر ،مسن آباد تا موچی والا روڈ ،شیخ واہن تا فتح پور قریشیاں پختہ روڈ ،رکن پور سپورٹس کمپلیکس ،سوئی گیس تا بستی لقمان اور پل 14 ہزار سے مراد پور پختہ روڈ ،یہ سب ریکارڈ ترقیاتی کام ہیں اسکے علاوہ بھی منصوبے موجود ہیں جنہیں تکمیل کیا گیا تھا ۔
سیاسی و سماجی ناقدین اور خود سیاستدان میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ،دونوں معاملات کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں ،باقی بات رہی روایتی سیاست کی تو یہ بات ناقدین کی جائز ہے کہ عمرانیات نے سیاسی شعور اجاگر کیا ہے جس سے وڈیرہ جو پوری بستی کے ووٹوں کی ذمہ داری دے دیتا تھا جبکہ باقی اہل علاقہ بھی وڈیرے کی بات مان لیتے تھے اب نہیں ،اب ووٹر خود سیاست دان بن گیا ہے ،ووٹ کی ہاں کسی اور کو جبکہ ووٹ اپنی مرضی سے ،اب قدامت پرست سیاسی ارکان کو نئی سیاسی ہوا میں موجود ووٹر آکسیجن کو اپنے اندر سمونے کا فن اپنانا ہو گا ،
سیاسی تنقید اپنی جگہ جبکہ حقائق کو بھی تسلیم کرنا ہو گا ،موصوف حکومت کا حصہ ہوں یا نہ ہوں ان لوگوں کے کام نہیں رکتے ،ہم اور آپ کی تنقید سے مخدومیت اور سیاسی رتبے سے کم نہیں ہوں گے ۔

 

اک نظر

Back to top button