تازہ ترین خبروں کے لئے موبائل ایپ ڈاون لوڈکریں

ڈوان لوڈ

رحیم یارخان: ریلوے ریسٹ ہائوس کے ملازم چوکیدار پر مقدمہ درج

رحیم یارخان: مبینہ رشوت نہ دینے پرریلوے اسپیشل برانچ کےاہلکار نے ریلوے ریسٹ ہائوس کے ملازم چوکیدار اور اسکے عزیز پر جھوٹا مقدمہ درج کروادیا، مقدمہ میں نامزد ملزم کے ورثا کا الزام،ڈیزل لیبارٹی کروانے اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ،
تفصیل کے مطابق تھانہ ریلوے پولیس خانپور کے اے ایس آئی محمد ارشد نے موقف اختیار کیا کہ مخبری ہوئی کہ ریلوے ریسٹ ہائوس رحیم یارخان کا چوکیدار محمداکرم چوری شدہ ڈیزل کے دو کینوں میں بھرا ہوا مزدا کے ذریعے بازار میں فروخت کرنے کے لیے لوڈ کروارہاہے بروقت ریڈ کیاجائے تو کامیابی مل سکتی ہے

جس پر وہ اے ایس آئی امجد علی، کانسٹیبل محمد افضل اور ریلوے پولیس کے حساس ادارہ کا کانسٹیبل عثمان غنی نے ریڈ کیا تو گاڑی پر ڈیزل لوڈ کیاجاچکا تھا اور ریسٹ ہائوس سے نکلنے کی تیاری کررہاتھا کہ ڈرائیور بابر علی کو پکڑلیا جبکہ چوکیدار محمد اکرم فرارہونے میں کامیاب ہوگیا۔

جس پر ڈیزل سے بھر کین اور گاڑی قبضہ میں لیکر محمد اکرم پر زیر دفعہ 109اور ڈرائیور بابر علی پرزیر دفعہ 122دوم کے تحت مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ۔تاہم بابر علی ڈرائیور کے ورثا نے الزام عائد کیاکہ اے ریلوے اسپیشل برانچ کے اہلکار عثمان غنی نے ریسٹ ہائوس رحیم یارخان کے چوکیدار محمد اکرم پر ڈیوٹی سے غائب رہنے کا الزام لگاکر رشوت طلب کررہاتھا اور رشوت کی رقم نہ دینے پر اس نے جھوٹا مقدمہ درج کرکے انہیں سبق سکھانے کی کوشش کی ہے ،

تھانہ ریلوے پولیس کے اعلیٰ افسران اور ریلوے انتظامیہ غیرجانبدارانہ انکوائری کروائیں تو تمام حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ ورثا نے مطالبہ کیاکہ تھانہ ریلوے اسپیشل برانچ کے اہلکار عثمان غنی کے خلاف انکوائری کی جائے اور ڈرائیور بابر علی پر قائم کیاگیا جھوٹا مقدمہ بھی ختم کیاجائے۔

اک نظر

Back to top button