شکریہ پاکستان شکریہ پاکستان

از قلم میر اکرام حسین
شکریہ پاکستان شکریہ پاکستان

افغانستان آج بھی روس کا غلام ہوتا ۔ اگر پاکستان جیسا ہمسایہ نہیں ہوتا ۔ اور آج افغانستان بک چکا تھا ہندوستان کے ہاتھوں پاکستان کے امریکہ کو انکار نے افغانستان کو امریکہ سے آزادی کو ممکن بنایا ۔ یہ پاکستان ہے جس نے افغانستان کی جنگ آزادی لڑی ہے ۔ اور پناہ دی معصوم بچوں کو اور مسلمان ماں بہنوں کو پناہ دی ! اپنے وطن پاکستان میں پناہ کا انتظام کیا۔
شکریہ پاکستان ۔ شکریہ پاکستان ۔ شکریہ پاکستان ۔
پاکستان نے ہر مشکل وقت میں افغانستان کی مدد کی ہے ۔ روس نے افغانستان پر قبضہ کرلیا ۔ پاکستان واحد ملک تھا جو روس کے ساتھ افغانستان کی آزادی کی جنگ لڑا ۔
آج ایک بار پہر پاکستان امریکہ کے سامنے انکار کی صورت میں اٹل کھڑا ہوا صرف افغانستان کی آزادی کے لیے۔ افغانستان میں افغانستان کر عوام کی امریکی فوجیوں سے آزادی کے لیے ۔ امریکہ کو یہ بات پسند نہیں آئی ۔ پاکستان پر مختلف قسم کی پابندی لگائی گئیں ہیں ۔ ریڈ لسٹ کنٹری میں ڈالا گیا ۔ جبکہ ہندوستان کو ریڈ لسٹ کنٹری سے نکال دیا گیا ۔ یہ صرف افغانستان میں امن و امان کی کوشش کرنے کے لیے امریکہ کو انکار کے نتیجے میں ۔ پاکستان کو سزا دی گئی ہے ۔ مگر پاکستان پیچھے نہیں ہٹا ۔ پاکستان نے افغانستان کی عوام کی مدد جاری رکھی اور آج بھی مدد کر رہا ہے ۔ معصوم بچوں کو خوف و خطر سے بچانے میں مددگار ثابت دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے جو افغانستان کی ہمیشہ مدد کرتا ہے ۔ پاکستانی عوام اس بات فخر کر سکتی ہے روس کے خلاف افغانستان کی آزادی کی جنگ میں پاکستان شامل ہوا اور افغانستان کو آزادی دلوانے میں پاکستان نے اپنا بہت بڑا کردار ادا کیا ۔ آج بھی پاکستان افغانستان میں امن و امان دیکھنے کا خواہاں ہے۔
رہا سوال مغربی ممالک کا جو پاکستان پر پابندی عائد کرنے کے لئے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں ۔ صرف اپنے ہندوستان کے کاروباری ساتھی اور دوست احباب کو خوش کرنے کے لیے ۔ انشاللہ پاکستان ایک بہادر اور ناقابل یقین حد تک مظبوط دفاعی طاقت کا مالک ہے ۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت دنیا کے تمام ممالک کی فوجی طاقتیں مان چکی ہیں ۔ پاکستان کی فوج اگر افغانستان کے لیے روس سے لڑ سکتا ہے تو سوچیں اپنی مٹی کے لیے پاکستان کیا کر گزرے گا ۔ اس بات کا دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے پاکستان ایک ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے ۔ جو ایک اسلامی دنیا میں بہت بڑی دفاع کی طاقتور ترین اسلامی مملکت ہے ۔
پاکستان نے کبھی جنگ نہیں چاہی اور ناہی کسی بھی ملک پر حملہ کیا ۔ جبکہ ہندوستان نے کشمیر پر بدستور ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں اور پاکستان کشمیر کی عوام کو لے کر اقوام متحدہ میں بار بار گیا ہے ۔ پاکستان ہمیشہ جنگ کو نا پسند قرار دیا ہے ۔ مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ پاکستانی فوج جنگی تیاریوں میں کسی طرح کم ہے ۔ پاکستان کی فوج نے دنیا میں جنگ میں ہونے والے اقدامات پر بےشمار مقابلوں میں پاکستان کے فوجیوں نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور یہ ثابت کیا یہ پاکستان جنگی صلاحیتوں میں دنیا میں کسی سے کم نہیں اور ہر لمحہ پاکستان کی نڈر اور بہادر فوجی جوانوں اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے کے لیے تیار اور پرجوش ہیں ۔ پاکستان کی جانب سے کبھی کسی کی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ۔ جبکہ بدستور ہندوستان نے پاکستان کو آزمائشوں میں رکھا ہے ۔
افغانستان میں امن و امان کے دشمنوں نے پاکستان کی سرحد پر حملے کئے اور پاکستان کے جانباز سپاہی شہید کیے ۔ دہشتگردوں کی سازش ہے کے پاکستان آرمی کو نقصان پہنچایا جائے اس کے پیچھے ہندوستان کی فوج کی سازش ہے یہ دہشت گردوں کے گروہ ہندوستانی فوج کے تربیت یافتہ لوگوں ہیں۔ جبکہ افغانستان میں بیٹھے ہوئے خوف زدہ سچے دل کے معصوم لوگ اور معصوم بچوں دل سے پاکستان سے پیار کرتے ہیں وہ پاکستان کو اپنا محسن مانتے ہیں ۔ افغانستان آج روس کا غلام ہوتا اگر پاکستان نہ ہوتا ۔ یا ہندوستان کا غلام ہوتا اگر آج پاکستان امریکہ کو صاف ستھرا انکار نہیں کرتا تو شاید ہندوستان امریکہ سے افغانستان خرید چکا تھا ۔ ہندوستان کا قبضہ افغانستان کے کونے کونے پر ہو چکا تھا اگر پاکستان امریکہ کو انکار نہ کرتا ۔ کاش افغانستان میں امن و امان کے لیے دی گئیں مالی و جانی قربانی جو پاکستان کے مدرسوں کے بچوں نے جہاد کے لیے افغانستان میں افغانستان کی آزادی کے لیے آپنی جانیں قربان کیں اور افغانستان کو روس سے آزاد کرانے میں پاکستان کے نوجوان مجاہدین نے افغانستان کی سر زمین کو آزاد کرانے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ کاش جو لوگ افغانستان میں بھول بیٹھے ہیں وہ دن یاد کریں جب پاکستان نے افغانستان پر روسی افواج کے حملے کے وقت اپنے وطن پاکستان کی سرحدوں کو افغانستان کے تمام ملک کے ہر فرد کے لیے کھول دیا ۔ اور آج کے دن تک افغان مہاجرین جو سارے پاکستان میں خوش اور آزاد زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں ۔ جو پورے پورے قبائل پاکستان میں داخل ہوئے ۔ آج وہ پاکستان کے بہت بڑے بڑے کاروبار کے مالکان ہیں ۔ اگر پاکستان اس وقت مدد نہ کرتا تو کیا آج افغانستان روس سے آزاد ہوتا ؟ آج ایک جملہ جو پاکستان کا حق ہے وہ ہے شکریہ پاکستان ۔
باقی یہ سرحدی حملوں سے پاکستان کبھی نہیں گھبرایا ۔ یہ ہندوستان کے پالتو جانوروں کی سازش ہے۔ پاکستان ان سے بخوبی واقف ہے ۔ اور ان کا بہت اچھا علاج جانتا ہے ۔
شکریہ پاکستان ۔ دل سے شکریہ پاکستان ۔ افغانستان کو ہمیشہ ایک آزاد ریاست کے لیے ہمیشہ افغانستان کی آزادی میں افغانستان کا ساتھ دیا ۔ شکریہ پاکستان ۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button