ایک ستارہ جو صدارتی تمغہ امتیاز تک جا پہنچا | فرحان عامر

فرحان عامر

ایک ستارہ جس کا تعلق رحیم یار خان کے نزدیکی قصبے سنجر پور سے ہے اور کینوس پر رنگ بکھیرتے بکھیرتے صدارتی تمغہ امتیاز تک جا پہنچے،

جی ہاں کوئی اور نہیں یہ چترا پریتم ہیں ، 17 اگست 2000 میں نیشنل کلچرل ایوارڈ دیا گیا 23 مارچ 2013 کو اُنھیں تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا

جن کے فن پارے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں پہچان و زینت بننے ہوئے ہیں ان کے اعزاز میں ایک سادہ مگر پر وقار تقریب رحیم یار خان ادبی فورم کی جانب سے منعقد کی گئی

جو کہ ڈاکٹر ماجد، جبار واصف اور اکمل شاہد کنگ کی خصوصی کاوش ممکن ہو پائی اور علمی ادبی فکری شخصیات کی شرکت نے اسے مزید چار چاند لگا دیے

مزمل سعدی ، مزمل اقبال، ڈاکٹر جام مظہر، پیارے لال، طاہر چودھری، نیر ادریس، سلامت علی، جاوید ارشاد، سعد منیر اور شبانہ امبرین کی گفتگو نے محفل کو بام عروج بخشا نوجوان مصور حاشر ادریس اور فاطمہ نسیم جو کہ رحیم یار خان کے ابھرتے ہوئے ستارے ہیں

ان کے ساتھ گفتگو بھی تقریب کا خاصہ تھی جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہو گی اور مزید لگن کے لیے ایندھن کا کام کرے گی ،

اس گھٹن زدہ ماحول میں ایسی تقاریب کس ہوا کے ٹھنڈے جھونکے سے کم نہیں جس سے معاشرتی اقدار کو بچایا جا سکتا ہے ،

چترا پریتم نے ایک بتایا کہ میری پیدائش تحصیل صادق آباد کے ایک گاؤں سنجرپور کی ہے،

سرکاری اسکول میں ٹاٹ پر بیٹھ کر پانچویں کلاس تک پڑھا، گاؤں میں بین المذاہب ہم آہنگی بہت زیادہ تھی لہذا اپنے ہم عصر مسلمان بچوں کی طرح اسکول میں دینیات کی تعلیم بھی حاصل کی

اس کے لیے میں اپنے والد پریتم داس کا شکر گذار ہوں جو آج اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان سے ہمیشہ بہت محبت ملی۔

خاندانی کام دست کاری تھا تو اس نسبت مصوری میں بچپن سے دلچسپی تھی، کیوں کہ جہاں دست کاری ختم ہوتی ہے وہاں سے آرٹ شروع ہوتا ہے۔

گاؤں کے حسین مناظر کو پینسل کی مدد سے تصویروں کی شکل میں ڈھالا۔ ہر اسکیچ کو مزید حسین بنانے کے لیے گھنٹوں بیٹھ کر سوچتا رہتا کہ کیا چیز اس تصویر میں مزید جدت پیدا کرسکتی ہے۔

 ہمارے اس فنکارنے فنِ مصوری کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے اور ایسے مسحور کن فن پارے تشکیل دئے کہ انسان دانتوں تلے انگلیاں چبا جائے ,

کہتے ہیں اگر ھمت و حوصلہ اور کچھ کر دکھانے کی لگن ھو تو ہر کام کو ممکن بنایا جا سکتا ھے۔

اور فن کسی کی میراث نہیں ہمت ہو جذبہ ہو لگن ہو تو کچھ بھی نہ ممکن نہیں ” میں جب جب پہ بکھرے مختلف رنگ دیکھتا ہوں تو ایک ہی دعا دل سے نکلتی ہے کہ اے آسمان پہ خوب صورت رنگ بکھیرنے والے ہمارے رب! ہمارے دلوں میں، ہمارے قسمت میں،ہماری زندگی کو بھی ایسے ہی حسین رنگوں سے بھر دیں.

چترا کے کام میں ہمیں چولستان کے رنگ نمایاں نظر اتے ہیں جیسے دنیا میں ہر علاقے کی اپنی ایک قدرتی خوب صورتی ہوتی ہے،

انسان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین فطرت کی خوبصورتی کے بغیر ممکن نہیں۔ فطرت خوشنما وخوبصورت رنگوں سے مزین ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سہانا موسم اور پھولوں کے دلفریب رنگ انسان کے مزاج پر اثر انداز ہوتے ہیں اور یہ ہی منظر یادیں بن کر زندگی کے سفر میں زاد راہ کے طور پر ساتھ رہتے ہیں۔

اور اپنے علم و ہنر سے دنیا کو ترقی کی نئی منزلوں کا راستہ دکھاتی رہے اور منزلیں صرف بہادروں کو ملتی ہیں جو حالات سے لڑتے ہیں لگن اور ہمت کا دامن نہیں چھوڑتے،

رنگوں میں بہت طاقت ہے اور مصور کے مطابق سات رنگوں میں پورا جہاں سمویا ہوا ہے زندگی بہت سے رنگوں سے بنی تصویر ہے،

میری دھرتی اتنی خوبصورت ہے میری ثقافت کے رنگ اتنے شاندار ہیں میرے فنکار اتنے جاندار ہے کہ انہیں دنیا دیکھتی اور سراہتی ہے

میری یہ تحریر بھی میری مٹی سے میری عقیدت کی مظہر ہے فن کار یہ ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے جو عام لوگوں سے مختلف سوچ رکھتی ہے۔

اس کی سوچ کنویں میں سڑتے رہنے کی قائل نہیں ہوتی۔

ایک فنکار فطری طور پر تخلیقی ہوتا ہے، اور وہ عام طور پر چیزوں کو ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ جو بھی کام کرتا ہے، وہ شاندار ہوتا ہے اور تخلیقی ذہن نہ رکھنے والے لوگ اس کی صلاحیتوں کی تعریف ہی کرسکتے ااور پریتم بھی مشکل حالات کا مقابلہ کر کے ہی یہاں تک پہنچے ہیں

"فن اور فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور نہ کوئی مذہب ہوتا ہے جس طرح یہ فنکار ہندو ہونے کے باوجود قرانی آیات کو کس خوبصورتی سے کینوس پے اترتا ہے یہ اپ کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو گا

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر فن وثقافت کیلئے خصوصی مراعات فن اور فنکاروں کیلئے آسانیوں کے دروازے کھولنے سے ملک میں مثبت تبدیلی آئے گی

فنکار ایسے لوگ ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے ہیں توڑتے اور مروڑتےنہیں ہیں فن روح کی غذا نہ سہی انسانی صحت کیلئے قوت بخش دوا ضرور ہے

پاکستان کو اس وقت کلچرل زوال کا بھی سامنا ہے اور کلچرل زوال بھی معاشی زوال سے کم خطرناک نہیں ہوتا حکومت کا ادھر توجہ دینا بہت ضروری ہے معاشرے میں شعور و آگہی کا نور عام کرنے اور تخلیقی و تعمیری رجحانات کو فروغ دینے کے لئے مستقل بنیادوں پر علمی و ادبی محافل انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے

رحیم یار خان ادبی فورم رجسٹر جو کہ ہم نے پانچ چھ سال پہلے بنایا تھا گاہے بگاہے ایسی تقریبات کا اہتمام کرتی رہتی ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ مستقل بنیادوں پر ایسی تقاریب کا اہتمام کرے تاکہ معاشرے میں فکری نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہو اور ایک پر امن معاشرے کی راہ ہموار ہو سکے

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button