ڈی پی او رحیم یارخان محمد علی ضیا کو عہدے سے کیوں ہٹایا گیا

رحیم یارخان:اندھڑ برادری کے9افراد کے قتل میں ملوث جانو اندھڑگینگ کی سرکوبی کا ٹاسک لے کر رحیم یارخان میں تعینات ہونے والے ڈی پی او محمد علی ضیاء کو عہدے سے ہٹادیا گیا

محمدعلی ضیاء اپنی تعیناتی کے دوران جانواندھڑگینگ کا ایک رکن بھی نہ پکڑسکے۔

آئی جی راؤسردارعلی خان کے احکامات کے باوجود9افراد کے قاتل پکڑنے میں ناکام رہے۔

ڈی پی او محمد علی ضیاء جانواندھڑ کے خاتمے کا ٹاسک پورا نہ کرسکے۔ان کی تعیناتی کے دوران ضلع میں ڈکیتی اور اغواء کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔

شہر میں بھی ڈاکے بڑھ گئے۔ڈی پی او اپنی تعیناتی کا زیادہ عرصہ اپنے دفتر تک ہی محدود رہے۔

ان کے دور میں قابل ترین خاتون پولیس آفیسر میری روز کی خودکشی کا واقعہ بھی پیش آیا۔

 ڈی پی او محمد علی ضیاء کی جگہ اختر فاروق کو ڈی پی او رحیم یار خان تعینات کردیاگیا ہے۔

ضلع میں امن وامان کی بحالی اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں روکنا نئے ڈی پی او کا پہلا امتحان ہوگا۔

رحیم یارخان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا اور پولیس اغوا کاروں کے سامنے بے بس دیکھائی دے رہی ہے ،
اغوا کی پہلی واردات میں رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی وی کے رپورٹر شیر محمد ساہی کو گاڑی سمیت نواز آباد کے علاقہ سے نامعلوم اغواء کاروں نے اغواء کرلیا اور اغواء کاروں کی جانب سے کچھ گھنٹوں کے بعد مغوی کی کار کرولا نمبری BCY.938 موضع شاہ والی تحصیل روجھان ضلع راجن پور میں چھوڑانے کی اطلاع صادق آباد پریس کلب کے صدر کو دی گئی جس پر پولیس نے مغوی کی کار برآمد کرلی پولیس نے مغوی کے بھائی کی مدعیت میں اغوا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی ہے ،

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button