خواجہ فرید یونیورسٹی کی طالبہ اغوا،مقدمہ درج،پولیس سراغ لگانے میں ناکام

خواجہ فرید یونیورسٹی KFUIT# یونیورسٹی میں انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث 18 سالہ طلبہ اغواء، والد کی درخواست پر مقدمہ درج

خواجہ فرید میں لڑکی کے اغوا کا مقدمہ
خواجہ فرید آئی ٹی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یارخان میں ناقص سیکورٹی کا انکشاف‘ یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی طلباوطالبات پر چیک اینڈ بیلنس نا ہونے کا نتیجہ سنجر پور کی رہائشی 18 سالہ لڑکی احاطہ یونیورسٹی سے اغواء والد کی درخواست پرمقدمہ نمبر 478/21 زیر دفعہ365/بی تھانہ صدر رحیم یارخان میں درج،
مبینہ اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ سی سی فوٹیج منظر عام پر لانے سے انکاری والدین غم سے نڈھال پولیس لڑکی کی تلاش کیلئے متحرک۔
تین صوبوں کے سنگم پر واقع خواجہ فرید یونیورسٹی (KFUIT) کی 18 سالہ طالبہ اغواء ہونے پر والد نے متعلقہ تھانہ میں مقدمہ درج کروا دیا،
والد کے مطابق یونیورسٹی کی بس پر آنے والی میری بیٹی جو کہ چھٹی کے بعد گھر واپس نا پہنچی اور نا ہی واپسی کیلئے دوبارہ بس تک پہنچی تشویش لاحق ہونے پر یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا
لیکن بچی کے بارے میں کچھ پتا نا چل سکا۔ایک طرف یونیورسٹی انتظامیہ کے بلندوبانگ دعوے دوسری طرف طالبات عدم تحفظ کا شکار احاطہ یونیورسٹی سے طالبہ کا اغواء ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔
ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کا اغواء ہونیوالی بچی کے والد پر دباؤ معاملہ میڈیا سے چھپائے رکھنے کی دہائیاں والد کی تحریری درخواست نے یونیورسٹی انتظامیہ کی ناقص سکیورٹی اور مبینہ غفلت کا پردہ فاش کردیا۔
اس حوالے سے ترجمان خواجہ فرید آئی ٹی یونیورسٹی محمد انور فاروق سے مؤقف کیلئے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر فون اٹینڈ نہ ہوا۔

اک نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button